October 15th, 2019 (1441صفر15)

کنٹرول لائن پر بھارتی دہشت گردی

 

لائن آف کنٹرول لائن پر اس وقت جنگ کی صورتحال ہے ۔ بھارتی جارحیت مسلسل جاری ہے جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں ۔ بھارت نے جمعہ کی شب 9 بجے سے مسلسل پاکستانی علاقے پر گولہ باری شروع کر رکھی ہے ۔ اس میں کسی خاص سیکٹر کی تخصیص نہیں ہے بلکہ اس وقت پوری کنٹرول لائن ہی متاثر ہے ۔ اس امر کا اندیشہ تو پہلے ہی ظاہر کیا جارہا تھا کہ مودی اپنی انتخابی مہم کا آغاز پاکستان پر جارحیت سے کریں گے اور ایسا ہی ہوا ۔ پلوامہ واقعے کے بعد سے مودی حکومت جس طرح کنٹرول لائن کے دونوں جانب بے گنا ہ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے وہ قابل مذمت ہے ۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کا خون نہ بہایا جاتا ہو اور اب تو سرحد پار بھی مودی کی ہدایت پر دراندازی جاری ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرکے اس کے رہنماؤں اور کارکنان کی پکڑ دھکڑ شروع کردی گئی ہے ۔ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر ایک اصولی موقف کی حامی جماعت ہے کہ حق خود ارادیت اہل کشمیر کا حق ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ پوری دنیا اس اصولی موقف کی حامی ہے ۔ بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جتنا عرصہ کشمیر میں اس کی فوج رہے گی، بھارت معاشی دلدل میں دفن ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے اپنے مفاد میں بہتر ہے کہ کشمیر میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب کروایا جائے اور اہل کشمیر کو حق دیا جائے کہ وہ جس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ، انہیں اس کا انتخاب کرنے کی آزادی ہو ۔ کسی بھی قوم کو جس کے سینے میں آزادی کی آگ دہک رہی ہو ، بہت عرصے تک محکوم نہیں رکھا جاسکتا۔ افغانستان کی مثال سامنے ہے جس میں دو سپر پاورممالک نے ایک آزاد قوم کو غلام بنانے کی کوشش کی مگر اس کا نتیجہ دونوں سپر پاور ممالک کے لیے ذلت ہی نکلا ۔ روس ٹوٹ پھوٹ گیا اور امریکا بھی معاشی طور پر تباہ ہوچکا ہے ۔ مودی نے گزشتہ انتخابات میں جتنے بھی وعدے کیے تھے ،ان میں سے وہ ایک بھی وعدہ پورا نہیں کرسکے اور اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ بھارتی قوم کو جنگ کی آگ میں جھونک دیں ۔ اس کے لیے انہوں نے بھارتی میڈیا کا سہارا لیا ہوا ہے تاکہ بھارتی عوام کو انتخابات تک جنگی بخار میں مبتلا رکھ سکیں ۔ مودی کی اس جنگی پالیسی کے نتیجے میں کشمیر جنت نظیر خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہے ۔ پاکستان نے اب تک ہر مرحلے پر انتہائی ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے اور بھارت کی ہرجارحیت کے مقابلے میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ جذبہ شہادت سے سرشار پاکستانی قوم بھارتی جارحیت کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں ہیں اور جنگ کے نتیجے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے جو ان دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہوگا ۔ یہ بھارتی سیاسی رہنماؤں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ جنگ کو اپنی انتخابی مہم بنانے سے مودی کو روکیں ۔ یہ پاکستان کی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی محاذ پر جارح سفارتی پالیسی کوبروئے کار لائے اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کشمیر میں استصواب رائے کو ممکن بنوائے ۔ پوری دنیا کو آگاہ کیا جائے کہ کشمیر پر بھارت نے نہ صرف قبضہ کیا ہوا ہے بلکہ ایک منظم منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے ۔ سات لاکھ سے زاید بھارتی فوجی کشمیر میں تعینات ہونے کے باوجود روز بھارت کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں ۔ ان مظاہروں سے گھبرا کر بھارتی فوج فائرنگ کرتی ہے جس کے نتیجے میں معصوم لوگ زخمی اور شہید ہوتے ہیں مگر کشمیریوں کا جذبہ حریت کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔

                                                                                                 بشکریہ جسارت