July 16th, 2020 (1441ذو القعدة25)

بحران مالیاتی نہیں فکری ہے

 

مظفراعجاز

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئی مالیاتی بحران نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی پاکستان بھر میں عوام نے خوشیاں منانا شروع کردی ہیں، جلسے جلوس اور چراغاں شروع ہوگیا ہے۔ اسد عمر صاحب کا موقف ہے کہ ایسی باتوں سے بین الاقوامی سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، اپنے موقف کی حمایت میں انہوں نے اعداد و شمار بتانا شروع کیے، کہتے ہیں کہ گزشتہ تین ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر ماہانہ کے بجائے ایک ارب ڈالر ماہانہ ہوگیا ہے، ملکی معیشت کی حالت چار پانچ ماہ پہلے کے مقابلے میں بہت اچھی ہے، ہمیں اسد عمر صاحب کی بات پر پورا بھروسا ہے وہ جو اعداد و شمار بتارہے ہیں ایسا ہی ہوگا۔ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ تین ماہ سے ان کی وزیراعظم اور پوری حکومت کی آئی ایم ایف، سعودی عرب، چین، ملائیشیا وغیرہ کی جانب دوڑیں کیوں لگ رہی تھیں۔ اسے آنیاں جانیاں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر ملکی معیشت میں کوئی بحران نہیں تو پھر یہ بھاگ دوڑ کیوں تھی۔ پہلے دن سے اسد عمر صاحب یہی بیانات دے رہے تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ وزیراعظم خود اس حوالے سے رائے بنانے میں مصروف تھے کہ آخری چارہ آئی ایم ایف ہے لیکن کوشش کریں گے کہ نہ جانا پڑے۔ سنا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اسد عمر صاحب سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لے لیا جائے۔ یہ اسد عمر صاحب بھی عجیب آدمی ہیں، پتا نہیں کس کو جواب دے رہے تھے کہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری برقرار رہے گی۔ ویسے جس کو بھی انہوں نے پیغام دیا ہے وہ اس تک پہنچ تو گیا ہوگا۔ لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ مالیاتی بحران ہے یا نہیں۔ ایک دن وزیراعظم کہتے ہیں کہ مالیاتی بحران ہے، انتخابات کے بعد حلف برداری کے بعد اور 100 دن سے یہ قوالی چل رہی تھی کہ معاشی بحران سابق حکمرانوں نے پیدا کیا۔ وزیراعظم چین، سعودی عرب، ملائیشیا ہر جگہ پاکستان میں کرپشن اور معاشی بحران کا ذکر کرتے رہے۔ لیکن اچانک اسد عمر صاحب نے اعلان کردیا کہ کوئی معاشی بحران نہیں۔
ہاں معاشی بحران اسد عمر صاحب کو کیوں محسوس ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان ہوں، صدر مملکت ہوں یا مالدار ترین وزرا اور مال و دولت میں کھیلنے والی اپوزیشن کسی کے لیے کہیں کوئی معاشی بحران نہیں۔ ان کی گاڑیاں، بنگلے سب کچھ ہیں، بتارہے ہیں کہ کوئی معاشی بحران نہیں۔ مسئلہ معاشی بحران کا نہیں فکری بحران کا ہے۔ ہمارا جو حکمران آتا ہے جانے تک یہی کہتا رہتا ہے کہ خزانہ خالی ملا تھا، بحران کے ذمے دار سابق حکمران ہیں، مہنگائی ان کی وجہ سے ہوئی اور ناکامیاں بھی ان ہی کی وجہ سے ہیں۔ حکومت کا سارا زور مسلم لیگ (ن) اور اس میں بھی شریف خاندان کے خلاف صرف ہورہا ہے۔ اب آصف زرداری کے خلاف بھی سوئٹزرلینڈ سے معلومات حاصل کی جائیں گی۔ فرض کریں زرداری صاحب کا سوئس اکاؤنٹس والا کیس دوبارہ کھل بھی گیا تو کیا ہوگا۔ دو سال بعد جس طرح نئی جے آئی ٹی بن رہی ہے اسی طرح نئے سرے سے گنتی شروع ہوگی اور ٹی وی چینلوں کو کئی قسطوں پر مشتمل ڈراما مل جائے گا۔ ججوں کو گرما گرم ریمارکس کے لیے کیس مل جائے گا، اور عوام۔۔۔؟؟ ان کی خیر ہے ان کو یہی بتایا جاتا رہے گا کہ کوئی معاشی بحران نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وزیر خزانہ یہ کہنے کے دو دن بعد کہ کوئی معاشی بحران نہیں، ڈالر کو پھر پَر لگ گئے، 134 سے پھر چھکا لگا اور 140 پر پہنچ گیا۔ ڈالر کو یہ چھکے چوکے اَٹھے کون لگا رہا ہے۔ وزیراعظم کو میڈیا سے پتا چلتا ہے کہ ڈالر مہنگا ہوگیا اس کا مطلب ہے انہیں تو کچھ نہیں معلوم۔ اسٹیٹ بینک خود مختار ضرور ہے لیکن حکومت کے علم میں لائے بغیر فیصلے کیونکر کیے جارہے ہیں۔ کوئی نہ کوئی گڑبڑ تو ضرور ہے۔ کوئی قوت ہے جو فیصلے کررہی ہے۔ اسد عمر صاحب نے بھی اپنے بیان کے اگلے دن رجوع کیا اور کہنے لگے کہ معیشت کی بہتری میں دو سال لگیں گے۔ ارے کل کوئی بحران نہیں تھا اب دو سال کس کام کے۔۔۔؟؟
ویسے بیانات دینے کے معاملے میں فواد چودھری، شیخ رشید اور فیاض چوہان سے بڑھ کر وزیراعظم عمران خان نکلے، ایک سے ایک بیانات دیے ہیں، پورا ہفتہ ان کی مرغیوں، انڈوں، کٹے، بھینس والی باتوں میں گزرا پھر یہ بات کہہ دی کہ میڈیا سے ڈالر مہنگا ہونے کا علم ہوا۔ انہیں اعظم سواتی صاحب کی حرکتوں کا بھی علم نہیں تھا۔ یہ کیسا وزیراعظم ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کب کیا کہنا ہے۔ اپنی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر مڈٹرم الیکشن کی بات کہہ ڈالی۔ پتا نہیں پارٹی اس پر ان سے کوئی بازپرس کرتی ہے یا نہیں۔ اس کے اگلے دن پوری سازشی تھیوری کا سرا میڈیا کو پکڑا دیا۔ مسلم لیگ (ن) والے یہی تو کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ اور فوج نے میڈیا کی مدد سے پی ٹی آئی کو اقتدار تک پہنچایا۔ کہتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھی، پاناما فیصلہ نئے پاکستان کی بنیاد ہے، یہ بھی بتادیتے کہ پاناما کے ایک ہی کیس سے نیا پاکستان بن گیا باقی کس لیے روک رکھے ہیں؟ گویا ان کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن پی ٹی آئی نے جیتا نہیں پاناما فیصلے سے اسے جتایا ہے۔ نئے پاکستان کی بنیاد اگر چیف جسٹس نے رکھی تو پی ٹی آئی نے کیا کیا۔