July 16th, 2020 (1441ذو القعدة25)

پاکستانی دستور، قوانین اور قادیانی مسئلہ

 

اسداللہ بھٹو

دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ملک میں رائج قوانین کے مطابق واضح طور پر ’قادیانی گروپ‘ یا ’لاہوری گروپ‘ (جو اپنے کو ’احمدی‘ یا کوئی دوسرا نام دیتے ہوں) کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے کر ’غیرمسلم‘ کہا گیا ہے۔

دستور کی دفعہ ۲۶۰  ذیلی دفعہ ۳  شق (الف) اور (ب)
(الف)    ’مسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط طور پر ایمان رکھتا ہو، اور  پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو، نہ اسے مانتا ہو کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبرہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے، اور
(ب)    ’غیرمسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخص یا کوئی بہائی اور شیڈولڈ ذاتوں میں سے کسی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی
دفعہ ۲۹۸ سی: قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتا ہو)، بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہو، یا اپنے عقیدے کا بطورِ اسلام کے حوالہ دیتا ہو، یا موسوم کرتا ہو، یا دوسروں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دیتا ہو، الفاظ سے جو چاہے زبانی ہوں یا تحریری یا ظاہری حرکات سے یا کسی طریقے سے خواہ کچھ بھی ہو، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے، اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزاے قید دی جائے گی، جس کی مدت تین سال تک ہوسکتی ہے اور سزاے جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
٭دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۶۰ ذیلی ۳ کی شق (الف) میں ’مسلمان‘ کی تعریف میں ختم نبوت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، جب کہ اسی کی شق (ب) ’غیرمسلم‘ کی تعریف میں واضح طور پر قادیانی گروپ، لاہوری گروپ (جو اپنے کو ’احمدی‘ یا دوسرے نام سے پکارتے ہوں) کو شامل کیا گیا ہے (اختصار کی خاطران کو صرف’قادیانی‘ لکھا جائے)۔
٭    اس دستوری دفعہ کی مکمل تنفیذ کے لیے مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو اپنے کو ’احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے پکارے جاتے ہوں) میں سے کوئی شخص براہِ راست یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے یا کہلوائے، اپنے عقیدے کو اسلام کہے یا ایسے عقیدے کی تبلیغ کرے یا دوسرے کو اس کی زبانی یا تحریری دعوت دے وغیرہ تویہ جرم ہے اور اس کے لیے سزا بیان کی گئی ہے۔ نیز اس کی سنگینی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ یہ جرم قابلِ دست اندازی پولیس اور ناقابلِ ضمانت ہے۔
٭    دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۶۰ذیلی دفعہ ۳ کی شق (ب)میں واضح طور پر غیرمسلم کے طور پر عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ، پارسی کے ساتھ قادیانیوں کو بھی لکھا گیا ہے اور اس کے بعد بہائی اور شیڈول کاسٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ دستوری طور پر قادیانی مکمل طور پر غیرمسلم ہیں۔
٭        مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ۲۹۸ سی میں دستوری تقاضوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کوئی قادیانی کسی صورت یا انداز میں اپنے آپ کو مسلمان کہے یا مسلمان کے طور پر تبلیغ وغیرہ کرے تو یہ ایک سنگین جرم ہے۔
٭        دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۶۰ دفعہ ۳ شق (ب) سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اس میں درج قادیانیت سمیت تمام مذاہب کے ماننے والے لوگوں کی ایک ہی حیثیت ہے، یعنی وہ غیرمسلم ہیں اور وہ اس حیثیت کو مانتے ہیں اور اپنے مذہب کے حوالے سے انھوں نے اپنی شناخت قائم کی ہے، لیکن ’قادیانی‘ جان بوجھ کر اپنی اصل حقیقی شناخت، یعنی غیرمسلم کو اختیار نہیں کرتے جو کہ دستور اور قانون کی خلاف ورزی اور جرم ہے۔
اس صورتِ حال کے پیش نظر مزید قانون سازی ضروری تھی تاکہ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۶۰ ذیلی دفعہ ۳ کی شق (الف) پر مکمل عمل درآمد ہوسکے۔

مجموعہ تعزیراتِ پاکستان، دفعہ ۲۹۸ ،ب
(۱)     قادیانی یا لاہوری جماعت کا کوئی فرد (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں) جو زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری بیان سے:
(ا)  کسی شخص کا، علاوہ خلیفہ یا پیغمبر محمدؐ کے، مصاحب کے بطور امیرالمومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا ’رضی اللہ عنہ‘ کے حوالے دے یا خطاب کرے۔
(ب) کسی شخص کا، علاوہ زوجۂ پیغمبر حضرت محمدؐ کے، بطور اُم المومنین کے حوالہ دے یا خطاب کرے۔
(ج) کسی شخص کا، علاوہ پیغمبر حضرت محمدؐ کے رکن کنبہ کے، بطور اہلِ بیت کے حوالہ دے یا خطاب کرے، یا
(د) اپنی عبادت گاہ کا بطور مسجد کا حوالہ دے، نام لے یا پکارے۔
تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی ایسی مدت کی سزاے قید دی جائے گی، جو تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
(۲)     قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں) جو زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری حرکات سے، اپنے عقیدے میں پیروی کردہ عبادت کے لیے بلانے کے لیے کسی طریقے یا شکل کو بطور اذان کے حوالہ دے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزاے قید دی جائے گی، جس کی مدت تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
٭    مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ بی کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ قادیانی  نہ صرف اپنے آپ کو ’مسلمان‘ کہتے تھے بلکہ وہ مسلمانوں کی مقدس اور دینی اصطلاحات اپنے اہل مذہب اور مذہبی مقامات و اعمال کے لیے استعمال کرتے تھے جو کہ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء اور ملکی قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔ اس جرم کو قابلِ دست اندازی پولیس قرار دے کر قانون کو نافذ کرنے والوں کے لیے اس کا نفاذ ممکن بنا دیا گیا ہے۔
ملکی دستور و قانون کو تسلیم کرنا پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ  اہم عہدوں اور اداروں میں ان کا تقرر ہونا چاہیے، کہ جو ملک کے دستور و قانون کو تسلیم کرتے ہوں۔ مذکورہ بالا زمینی حقائق و تفصیلات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قادیانی ملکی دستور اور قانون کا صریح انکار کرتے ہیں۔ وہ اپنے کو ’غیرمسلم‘ نہیں مانتے جو کہ دستور و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، لہٰذا، اہم عہدوں اور اہم پالیسی ساز اداروں میں ان کا تقرر دستور و قانون کے حوالے سے نہیں ہونا چاہیے۔ یہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے اور ہر محب ِ وطن پاکستانی اس کا پُرجوش حامی ہے۔

قادیانی اور حقوقِ انسانی
دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان (اختصار کی خاطر ’دستور‘ لکھا اور پڑھا جائے گا) کے حصہ دوم کے باب اوّل کا عنوان بنیادی حقوق (Fundamental Rights) ہے۔ دفعہ ۸ تا ۲۸ تک میں پاکستانی شہریوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ یہ ہیں وہ حقوق جو کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ دستور اور دستوری اداروں و نظام میں اقلیتوں کے حقوق درج ذیل ہیں:
 ٭ابتدائیہ (Preamble) کے پیرا نمبر ۶-۸-۹ میں حقوق بیان ہوئے ہیں: ٭قراردادِ مقاصد (Objective Resolution) دفعہ ۲-الف کے پیرا نمبر ۶-۸-۹ میں حقوق بیان ہوئے ہیں۔ ٭باب دوم: پالیسی سازی کے اصول (Principal of Policy) کی دفعہ ۳۶ میں حقوق بیان ہوئے ہیں۔ ٭الیکشن میں ووٹ دینے اور جنرل سیٹ پر اُمیدوار بننے کے لیے حق بیان کیا گیا ہے۔ ٭قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں خصوصی کوٹہ (نمایندگی کا حق) بیان ہوا ہے۔ ٭قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں ووٹ کا حق حاصل ہے۔ ٭قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی کمیٹیوں کی صدارت و ممبر ہونے کا حق حاصل ہے۔ ٭قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں برابر کی مراعات (Previllages) حاصل ہیں۔
 ٭دستور کے حصہ دوم باب اوّل میں بیان کیے گئے بنیادی حقوق میں سے درج ذیل بہت اہم ہیں: ٭دفعہ۹ :فرد کی زندگی اور آزادی کی حفاظت ٭دفعہ۱۰:فرد کی غیرقانونی گرفتاری اور حبس بے جا سے تحفظ ٭دفعہ ۱۰-اے: شفاف عدالتی کارروائی کا حق ٭دفعہ ۱۱: غلامی، زبردستی مزدوری وغیرہ کی ممانعت ٭دفعہ ۱۴:آدمی کی عزت و حیثیت اور نجی زندگی کا تحفظ ٭دفعہ ۱۵: حرکت (آنے جانے) کی آزادی ٭دفعہ ۱۶:جمع ہونے/ جلسہ جلوس کی آزادی ٭دفعہ ۱۷: انجمن سازی کی آزادی ٭دفعہ ۱۸:کاروبار اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی آزادی ٭دفعہ ۱۹:اظہار راے اور تقریر کی آزادی ٭دفعہ ۱۹-اے: معلومات تک رسائی کا حق ٭دفعہ ۲۰: کسی مذہب کو قبول کرنے  اور مذہبی ادارہ چلانے کی آزادی ٭دفعہ ۲۱:کسی مخصوص مذہب کی تشہیر کے لیے ٹیکس سے تحفظ ٭دفعہ ۲۲: مذہب کے تعلیمی اداروں کا تحفظ ٭دفعہ ۲۳:جایداد کی خریدوفروخت وغیرہ کا حق ٭دفعہ ۲۴: جایداد کے حقوق کا تحفظ ٭دفعہ ۲۵: شہریوں کی برابری ٭دفعہ ۲۵-اے: تعلیم کا حق ٭دفعہ ۲۶: پبلک مقامات پر غیرامتیازی سلوک کا حق ٭دفعہ ۲۷: ملازمتوں میں غیرامتیازی سلوک کا حق ٭دفعہ ۲۸: زبان اور تہذیب وغیرہ کا تحفظ۔
یہ تمام حقوق عمومی طور پر تمام پاکستان کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ان حقوق کی تنفیذ میں اگر کوئی رکاوٹ ہو یا اگر حکومت یا کسی کی طرف سے حقوق پامال ہو رہے ہوں تو دستور کی دفعہ ۱۹۹ کے تحت پاکستان کے تمام ہائی کورٹوں اور دفعہ۱۸۴ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا راستہ موجود ہے۔

دستور کی دفعہ۵ ریاست سے وفاداری اور دستور و قانون کی تابع داری
۱- مملکت سے وفاداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
۲- دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہرشخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو (واجب التعمیل) ذمہ داری ہے۔
پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲۶۰ ذیلی دفعہ ۳ شق (ب) قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیتی ہے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے اہم قانون مجموعہ تعزیرات پاکستان  کی دفعہ ۲۹۸ سی میں واضح طور پر درج ہے کہ: قادیانی اپنے کو اگر ’مسلم‘ ظاہر کرے یا کہے گا تو یہ جرم ہے اور سزا کا مستوجب ہوگا، جب کہ دستور کی دفعہ۵ واضح طور پر ہرمسلم اور غیرمسلم پاکستانی شہری سے تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کے دستور و قانون کو غیرمشروط اور مکمل طور پر مانے اور اطاعت کرے۔
قادیانیوں کو عمومی طور پر مذکورہ بالا تمام حقوق حاصل ہیں اور وہ ان حقوق سے مستفیذ ہورہے ہیں۔ شکایت تو ہم اکثریتی مسلمان پاکستانیوں کو ہے کہ قادیانی اپنی دستوری اور قانونی حیثیت، یعنی ’غیرمسلم‘ ہونے کو قبول نہیں کر رہے، مگر دوسری طرف دستوری حقوق سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں، جب کہ دستور کے تقاضوں کے مطابق ’غیرمسلم‘ کی حیثیت اختیارکرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہرپاکستانی سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
مغربی ممالک خاص طور پر امریکا اپنے مقاصد کے لیے قادیانیوں کو استعمال کرتا ہے۔ اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے صرف ایک مثال بیان کی جاتی ہے۔ ۱۳نومبر ۲۰۱۷ء کو جنیوا میں Universal Periodic Review of Pakistan  میں امریکی وفد کے سربراہ جیس برنسٹین نے مطالبہ کیا کہ:
Repeal blasphemy laws and restrictions and end their use against Ahmadi Muslims and others and grant the visit request of the UN Special Reporter the Promotion and Protection of the Right to Freedom of Opinion and Expression. (Ref:https://geneva.usmission.gov)
توہین رسالتؐ کے قوانین اور پابندیاں منسوخ کی جائیں اور ان کا احمدی مسلمانوں اور دیگر کے خلاف استعمال روکا جائے اور یواین اسپیشل رپورٹر کو آزادیِ اظہار کے قانون کے فروغ اور تحفظ کے لیے دورے کی اجازت دی جائے۔
اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پاکستان کے دستور میں درج قادیانیوں کی ’غیرمسلم‘ کی حیثیت سے انکار کی پشت پر امریکی حمایت اور مکمل پشت پناہی موجود ہے۔ امریکی وفد کے سربراہ کا صرف ’احمدی‘ کہنے کے بجاے ’احمدی مسلمان‘ کہنا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔اس طرح کا پاکستان کے دستور سے متصادم مطالبہ کیا کوئی دوست ملک کرسکتا ہے؟ نیز جن قادیانی ’غیرمسلم‘ کے حق میں غیردستوری مطالبہ کیا گیا ہے وہ کیا پاکستان کے وفادار ہوسکتے ہیں؟
عام پاکستانی پوچھتا ہے کہ امریکا کے وفد کے سربراہ نے قادیانیوں کے علاوہ دیگر ’غیرمسلم‘ اقلیتوں کے لیے کیوں ایک لفظ بھی نہیں بولا؟ سپریم کورٹ کے سابق دو غیرمسلم چیف جسٹس کارنیلس اور بھگوان داس کے خلاف کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ اسی طرح تقریباً ہرحکومت کے دور میں وفاقی و صوبائی حکومتوں میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے وزیر ہوتے ہیں، مگر ان پر اعتراض نہیں کیا گیا، کیوںکہ وہ دستور کے تقاضوں کو قبول کرتے ہیں اور محب ِ وطن ہیں۔
اس لیے محب ِ وطن پاکستانی مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو اہم عہدوں اور اہم پالیسی ساز اداروں میں اس وقت تک نہ رکھا جائے جب تک وہ ملکی دستور و قانون کے تقاضوں کے مطابق اپنے کو’غیرمسلم‘ تسلیم نہ کرلیں۔