August 9th, 2020 (1441ذو الحجة19)

سی پیک ہی کیوں نشانہ ہے؟

 

 

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے حوالے سے کسی قسم کا ابہام یا اچھی رائے کم از کم تیسری دنیا کے ممالک اور اسلامی ممالک کو بالکل نہیں رکھنی چاہیے۔ ابھی دو روز قبل آئی ایم ایف کے حوالے سے توجہ دلائی گئی تھی کہ یہ ایک ننگی تلوار ہے، پاکستان کو قرض دے بھی دیا تو معیشت کو جکڑ کر رکھ لے گا لیکن اب تو حد ہوگئی ہے۔ میاں نواز شریف کے دور میں شروع ہونے والے سی پیک منصوبے کے بارے میں آئی ایم ایف کے عزائم سامنے آگئے ہیں۔ لہٰذا پاکستانی حکمرانوں کو اب تو آئی ایم ایف سے کسی بھی قسم کے مذاکرات ختم کردینے چاہییں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو سی پیک پر کام کی رفتار سست کرنے کا مشورہ دیا ہے تا کہ پاکستان کا درآمدی بل کم ہوجائے۔ آئی ایم ایف نے قرضے کی درخواست ملتے ہی سب سے پہلا سوال یہی کیا تھا کہ سی پیک کی شرائط کیا ہیں۔ آخر آئی ایم ایف کو سی پیک کی شرائط سے کیا غرض۔ میاں نواز شریف کی حکومت چلی گئی اس نے بھی قوم کو سی پیک کی شرائط سے آگاہ نہیں کیا۔ حالاں کہ آئی ایم ایف سے زیادہ حق تو پاکستانی قوم کا ہے کہ اسے بتایا جائے کن شرائط پر قرضہ لیا جارہا ہے کیوں کہ یہ قرضہ آئی ایم ایف کو نہیں پاکستانی قوم کو اُتارنا ہے۔ عجیب دلیل دی گئی ہے کہ سی پیک پر کام روک دیا جائے یا سست کردیا جائے تو درآمدی بل کم ہوجائے گا۔ پاکستان میں بے تحاشا اشیا غیر ضروری طور پر درآمد کی جارہی ہیں۔ پاکستان کی اپنی اسٹیل ملز کی موجودگی میں اسٹیل درآمد کی جارہی ہے۔ پاکستان کی اپنی ریفائنریز کی موجودگی میں ڈیزل درآمد کیا جارہا ہے۔ اشیائے تعیش سنگھار وغیرہ کی ایک فہرست ہے جس کے بغیر ملک چل سکتا ہے۔ یہ سب اشیا بند کی جائیں، پرتعیش گاڑیوں کی درآمد بند کی جائے تو درآمدی بل ازخود کم ہوجائے گا۔ یہ سی پیک پر کیوں نظر ہے۔ اس قسم کے مطالبات سے تو لگتا ہے کہ آئی ایم ایف نے یہ مطالبہ نہیں کیا ہے بلکہ اس کی پشت پر وہی قوتیں ہیں جنہیں سی پیک سے اختلاف ہے یا انہیں خدشہ ہے کہ پاکستان کو سی پیک سے فائدہ ہوگا۔ پاکستانی حکمرانوں کی صلاحیتوں کا الگ امتحان ہے کہ وہ سی پیک سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا الٹا قوم کو قرضوں کے جال میں پھنسا دیتے ہیں۔ اگر چین اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے تو اپنے فائدے کے لیے کررہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو اس میں سے اپنے فوائد سمیٹنے ہوں گے، قومی مفادات اور ملکی سلامتی و یکجہتی کو تحفظ دینا ہوگا، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ قوم کو قرضوں کے جال میں پھنسا دیا جائے اور اپنی حکومت کے پانچ سال آسانی سے گزار کر آگے نکل جائیں۔ اب جب کہ آئی ایم ایف بھی سی پیک کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور امریکا و بھارت کو بھی اس پر تکلیف ہے، نئی عالمی صورت حال میں روس ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کررہا ہے، ایسے میں پاکستانی قوم کا حق ہے کہ اسے اس منصوبے کی شرائط سے آگاہ کیا جائے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ امریکا، بھارت اور اب آئی ایم ایف نے بھی اسی منصوبے کو نشانہ بنایا ہے۔ وزیراعظم پاکستان انتخابات کے بعد سے دنیا بھر میں دوڑے دوڑے پھر رہے ہیں کہ کسی طرح پاکستان کو مالی معاونت مل جائے۔ چین کا پیکیج یا کوئی وعدہ مل چکا۔ سعودی عرب سے بھی وعدہ مل چکااب متحدہ عرب امارات سے بھی اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق رائے ہوا ہے، ممکن ہے اس اتفاق رائے سے بھی کوئی خیر برآمد ہو۔ ایک اچھا گمان یہ بھی ہے کہ وزیراعظم کی چین، سعودی عرب، ملائیشیا اور عرب امارات کی طرف بھاگ دوڑ شاید اس لیے ہو کہ وہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے بچانا چاہتے ہوں اور اگر انہیں اچھے نتائج مل رہے ہوں تو وہ اپنا پہلا بین الاقوامی یوٹرن آئی ایم ایف کو مسترد یا اس سے قرض لینے سے انکار کرکے لے لیں۔ ان کا یہ یوٹرن یقیناًانہیں بڑا لیڈر بنادے گا۔ لیکن جو کچھ سو دن میں ہوچکا ہے اس کی روشنی میں یہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ پاکستان کے انتخابات سے تو شاید عرب دنیا اور دیگر خوشحال ممالک خوفزدہ ہوجائیں گے۔ جوں ہی انتخابات ہوں گے ان ممالک کے سربراہان چھٹی پر چلے جائیں گے کہ پھر کوئی نیا حکمران مانگنے آجائے گا۔ آخر سعودی عرب دوسروں ہی کو کب تک بیل آؤٹ کرتا رہے گا، اس کی اپنی حالت خراب ہوتی جارہی ہے۔ امارات کو بھی آنے والے برسوں میں بیل آؤٹ پیکیج کی ضرورت ہوگی۔ لیکن پھر بھی قوم کی خواہش ہے کہ وزیراعظم کی بھاگ دوڑ کامیاب ہو۔ اگر معقول رقم جمع ہوگئی ہو تو کچھ کام بھی شروع کردیں اور وزرا کے تماشے ختم کروائیں۔ اپنے وعدوں پر توجہ دیں، 100 دن کا حساب کتاب تیار کریں۔ ویسے اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ وائٹ پیپر شائع کرے گی۔ حالاں کہ سب جانتے ہیں جو کچھ سو دن میں ہوچکا ہے سب کچھ بلیک اینڈ وائٹ میں سامنے آچکا۔

                                                                                                بشکریہ جسارت