August 9th, 2020 (1441ذو الحجة19)

اہانت رسولﷺ قابل برداشت نہیں

 

سید جاوید انور

اہانت رسول کے مقدمے میں سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں ثابت شدہ مجرمہ کو آناً فاناً عدالت عظمیٰ سے بری کرنا، اسے نکالنا، پر امن مظاہرے کو پر تشدد بنانا، مظاہرین کے ایک گروہ سے حکومت کا معاہدہ کرنا، اور احتجاج کے خاتمے پر حکومت کا معاہدے کی خلاف ورزی اور مخالفین کو کچل دینے کے عزم کا اعادہ، یہ سب حالات یہ بتاتے ہیں کہ پس منظر میں کوئی مضبوط گروہ یا ادارہ ہے جن کے عالمی رابطے مضبوط ہیں۔ اہانت رسول کے مجرموں کو سخت سزا کا قانون اس لیے بنا یا گیا تھا کہ اول تو اس قسم کے واقعات نہ ہوں اور اگر ہوں تو لوگ خود تشدد پر نہ اتر آئیں بلکہ عدالتی مراحل سے گزار کر اس کی سزا ریاست کے ذمے ہو۔ جس وقت یہ قانون (توہین رسالت کی سزا موت، فروری 1990) بن رہا تھا اس وقت کی وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو سے یہ سوال کیا گیا کہ ایسا قانون کیوں بنایا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ اگر یہ قانون نہیں ہوگا تو لوگ اہانت رسول کے مجرموں کو خود ہی ٹھکانے لگا دیں گے۔
عالمی طاقتوں نے ملک کی اندرونی لبرل و سیکولر طاقتوں سے مل کر اس قانون کے خلاف اول دن سے مہم چلانی شروع کر دی تھی۔ لیکن عوامی رائے اور علماء کی متفقہ پوزیشن نے ایسا نہیں ہونے دیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب اس پر حکومت اور اعلیٰ عدالت کا اتفاق ہو چکا ہے کہ کسی کو سزا نہیں دینی۔ سیکڑوں مقدمات آئے ہیں، اور ان میں ایک بڑی تعداد عدالت عظمیٰ تک گئی ہے۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ تک سے سزا ہونے کے بعد جب مقدمہ عدالت عظمیٰ پہنچتا ہے تو وہاں اسے دبا دیا جاتا ہے یا بری کر دیا جاتا ہے۔ اور اب تو یہ چلن عام ہو گیا ہے۔ پاکستان کی اقلیت میں سے ایک گروہ قادیانی شاتمین کو ہوا دے رہا ہے، اور عیسائی لابی یہ یقین دہانی کر ا رہی ہے کہ پورا عیسائی مغرب تمہاری پشت پر ہے۔ اور تمہیں بچا لیا جائے گا۔ یورپ کی امیگریشن اور شاندار مستقبل تمہارے سامنے ہے۔ گویا قانون بنا کر اس کو بے معنی بنا دینا، توہین رسالت کے لیے دروازوں کے ہر پٹ کو کھول دینا ہے۔ اس وقت پاکستان میں یہی صورت حال ہے۔ جنرل مشرف نے اعلانیہ کہا تھا کہ جس عورت کو باہر جانا ہوتا ہے وہ زنا بالجبر کرا لیتی ہے۔ اس معاملہ میں صورت حال ایسی ہی بنتی نظر آتی ہے۔
مسلمانوں کے اندر اسلام کا جو آخری قلعہ ہے وہ ہے خاندان، اور آخری نقطہ وہ دل ہے جس میں حب رسولؐ ہے۔ عالمی شیطانی قوتیں اس آخری قلعے کو گرا دینا، اور آخری نقطہ کو مٹا دینا چاہتی ہیں۔ مسلمانوں کی صف سے اب بہت ’’اہل عقل‘‘ نکلیں گے، اور نکل رہے ہیں جو اہانت رسول کی سزا کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اور دلیل ایک سے بڑھ کر ایک لا رہے ہیں۔ سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جب رسول ؐ کی اطاعت ہی نہیں کرتے یا اس میں کوتاہی کرتے ہو تو گستاخی رسول پر غصہ کیوں آتا ہے۔ حالاں کہ یہ ایک بات بھی ہے اور دو الگ باتیں بھی۔آپ اپنی والدہ کی خدمت میں کوتاہی کرتے ہیں، اگر دور ہوں تو روز فون نہیں کر پاتے، اور وہ تمام حقوق جو آپ پر واجب ہیں، ادا نہیں کر پاتے۔ لیکن ایک شخص آکر آپ کی والدہ کو بیہودہ گالیاں دینے لگتا ہے، تو آپ میں ذرا بھی غیرت ہوگی تو اس کے کالر پکڑ کر گھونسے لگانے شروع کر دیں گے۔ اور اگر پٹھان کا خون ہوگا تو وہ اس کا گلا دبانے کی بھی پوری کوشش کرے گا۔ یہاں کوئی آپ کو طعنے نہیں دینے آ تا کہ والدہ کی اطاعت تم نہیں کرتے تو ماں کو گالی دینے پرتم کو اتنا غصہ کیوں آیا۔ پٹنے والے سے آپ کی ذرا بھی ہمدردی نہیں ہوتی ہے۔ اور اگر اس سے ہمدردی ہوئی تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بھی ہڈی پسلی سلامت نہیں رہے گی۔ لیکن رسول اللہ ؐ کے معاملے میں جن کی محبت ایک مسلم کے دل میں اپنی ماں سے ہزار گنا زیادہ ہونی چاہیے، اس میں آپ غصہ کے بارے میں یہ غیر عقلی ’’عقلی دلائل‘‘ کیوں لاتے ہیں؟
انسان کے اندر اللہ نے جتنے جذبات دیے ہیں ان کی دو انتہا ہوتی ہیں، افراط و تفریط اور دونوں مغضوب ہوتی ہیں، اور اس جذبے کو اعتدال اور درست سمت میں رکھنا، اور صحیح موقع پر استعمال کرنا ہی عین اسلام ہے۔ اگر اہانت رسول پر بھی آپ کو غصہ نہیں آتا ہے تو آپ یا تو انتہائی بزدل انسان ہیں یا بے غیرت یا شیطانی عقل کے غلام۔ اور ایمان آپ کے دل میں اب باقی نہیں ہے یا یہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہاں ایک حقیقی محبت کے نتیجے میں غصہ کی انسانی فطرت کو بروئے کار ہونا چاہیے تھا۔ نہ ہونا تشویشناک ہے۔
مشہور لبرل وکیل آنجہانی عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین رسالت کے مقدمہ میں ایک جج کی مخالفت کی تھی کیوں کہ وہ توہین رسالت کے ایک مقدمہ میں عدالتی پینل کے رکن تھے اور عاصمہ نے کہا تھا کہ یہ وہ جج ہیں جنہوں نے توہین رسالت کے ایک مقدمے میں استغاثہ کو یہ کہا کہ تم نے شاتم رسول کو خود قتل کیوں نہیں کیا، مقدمہ لے کر عدالت میں کیوں آگئے۔ سوال یہ ہے کہ جس ملک میں ایک جج کے جذبات ایسے ہیں، عام مسلمان کے جذبات کیا ہوں گے۔ محمد رسول اللہ، نبی آخرالزماںؐ کی زندگی میں ان کی جان اور عزت کے تحفظ کی ذمے داری صحابہ کرامؓ پر تھی۔ آپ ؐ کے بعد قیامت تک آپ کی ناموس کی حفاظت کی ذمے داری پوری امت مسلمہ پر ہے، یہ ان کے اپنے ایمان کا ثبوت ہے۔ اللہ نے تو ان کا ذکر بلند کر دیا ہے (ورفعنا لک ذکرک) اور خود اللہ اور فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا بھی اسی حوالے سے امتحان ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے اس ذمے داری کو اپنے اشعار میں یوں ڈھالا ہے کہ؛
نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
’’کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آقا و مولاؐ کو اپنے والدین، اپنی اولاد، اپنی جان اور دیگر تمام علائق سے زیادہ عزیز نہ جانے (صحیح بخاری و مسلم کی احادیث کا مفہوم)۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ایک مرتبہ فرط عقیدت سے فرمایا تھا کہ مجھے محبوب خدا خود، خدا سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ یہ انتہائے محبت کا ایک انداز تھا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اس واقعہ پر فارسی میں چند اشعار بھی کہے ہیں۔ غزوہ احد میں دانائے سبل، ختم الرسلؐ کا ایک دانت مبارک شہید ہوا، تو بعض کے بقول، اویس قرنیؒ نے فرط جذبات و محبت میں اپنے تمام دانت توڑ لیے تھے۔ ایک صحابیؓ نبی اکرمؐ کو اس طرح ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے کہ لمحہ بھر کے لیے بھی آپ کے چہرہ مبارک سے نظر نہ ہٹتی۔ آپ ؐ نے ان سے دریافت کیا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ غلام نے فرمایا کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، میں تو آپ کی طرف دیکھ کر نفع حاصل کرتا یعنی اپنے دل و نگاہ کو ٹھنڈک پہنچاتا ہوں۔ ابن اسحاق سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت تھی جس کا باپ، بھائی اور خاوند سب کے سب غزوہ احد کے دن رسول پاک ؐ کے حکم پر لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب اس عورت کو ان کی شہادت کی اطلاع دی گئی تو اس نے صرف ایک ہی سوال کیا کہ میرے آقا و مولاؐ کاکیا حال ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ آپ ؐ خدا کے فضل و کرم سے بخیریت ہیں۔ تب اس نے کہا کہ مجھے دیدار کروا دو۔ جب سرور عالمؐ پر نگاہ پڑی تو پکار اٹھی کہ آپؐ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت میرے لیے معمولی ہے۔
ہجرت کی رات کو اللہ کے رسولؐ کے بستر پر اپنی جان کی پروا کیے بغیر علی المرتضیٰ سو گئے تھے۔ اور رسول اللہؐ دوسرے فدائی ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ مکہ سے نکل گئے تھے۔ عثمان غنیؓ نے رسول اللہ ؐ کے بغیر طواف کعبہ گوارا نہیں فرمایا تھا۔ عثمان غنیؓ، ابوذرؓ، بلالؓ، زبیرؓ، سعید بن زیدؓ، اور سعد بن وقاصؓ کے ساتھ اللہ کے رسول ؐسے محبت کے باعث جلادانہ بے رحمی کی گئی، لیکن عشق رسولؐ میں ہر اذیت برداشت کی۔ امام مالک ؒ ایک بار حج کے فریضہ سے سبک دوشی کے بعد پھر کبھی مدینہ سے نہیں نکلے۔ ان کو خوف تھا کہ کہیں مدینہ سے باہر ان کا انتقال نہ ہو جائے اور دیار حبیب ؐ میں ان کی قبرنہ بن پائے۔ ہمارے پاس حب رسولؐ کی ایک تابناک تاریخ ہے جو اس مختصر سے کالم میں سمیٹی نہیں جا سکتی۔
رسول اللہ ؐ نے اپنی زندگی میں توہین رسالت کے مرتکبین کو سزائیں بھی دیں اور معاف بھی کر دیا ہے، یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا لیکن ان کے بعد ان کی عزت اور ان کے مقام و مرتبہ کی حفاطت کرنے کی ذمے داری (امتحان) امت مسلمہ پر ہے۔ کیوں کہ اب قیامت تک انسانوں کی ہدایت کا واحد ذریعہ آپؐ کی ذات و زندگی ہے۔ قرآن و سنت کی الٰہی تعلیمات آپ کے ذریعہ سے ہی آئی ہیں۔ اگر آپ کی زندگی کو مذاق کا موضوع بنایا گیا تو انسانوں کی یہ بہت بڑی بد قسمتی ہوگی کہ وہ ہدایت کے اس واحد سرچشمہ کو وہ پا نہیں سکے گا، اور انسان بڑے خسارہ میں مبتلا رہے گا۔ دراصل انسانوں کو ناکامی سے بچانے کے لیے ہدایت سے متعلق اب شخص واحد آپ ؐ کی ذات ہی ہے جس کی ناموس کی حفاطت ایک بڑا فریضہ ہے جسے ہم مسلمانوں کو انجام دینا ہے۔ اور اس حوالے سے غصہ ایک بڑی نعمت ہے۔ ہمیں ساری دنیا کو یہ بتا دینا ہے کہ رسول اللہؐ کی اہانت کو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔