August 9th, 2020 (1441ذو الحجة19)

آئی ایم ایف کی ننگی تلوار

 

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ، آئی ایم ایف کی شرائط سامنے آگئی ہیں اور کچھ بھی خلاف توقع نہیں ہے۔ حکمرانوں نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ چونکہ سعودی عرب اور چین کے تعاون سے پاکستان کی معیشت کو کچھ سنبھالا ملا ہے اس لیے آئی ایم ایف زیادہ سخت شرائط عاید نہیں کرے گا لیکن بین الاقوامی سود خوروں سے کسی رعایت کی توقع رکھنا عبث ہے۔ عمران خان تو دھرنے کے دوران میں آئی ایم ایف کی غلامی سے نکلنے کا اعلان کرتے رہتے تھے لیکن اب وہ یو۔ٹرن لے چکے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی کرنے اور نئے ٹیکس لگانے پر تیار ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بوجھ حکمرانوں پر نہیں عوام پر پڑے گا۔ عمران خان بار بار تسلی دے رہے ہیں کہ بس چند ماہ نکال لو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن خدشہ ہے کہ کچھ ٹھیک نہیں ہوگا اور مہنگائی کا ایسا طوفان آئے گا کہ غربت کی لکیر پر بیٹھے ہوئے کروڑوں افراد اس سے نیچے جاگریں گے۔ عمرانی حکومت تو خوشی خوشی نئے ٹیکس لگانے پر تیار ہوگئی ہے جب کہ عملاً صورت حال یہ ہے کہ 22کروڑ عوام میں سے 21 کروڑ کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس دے رہے ہیں۔ یہ بالواسطہ ٹیکس کہلاتا ہے کہ کوئی معمولی سی شے بھی خریدی جائے تو اس پر ٹیکس ہوتا ہے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس نیٹ میں زراعت کے شعبے کو لایا جائے گا۔ بڑے بڑے جاگیر دار اور زمیندار اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس نہیں دیتے لیکن یہ طبقہ ہمیشہ سے ہر حکومت میں رہا ہے اس لیے بچ نکلتا ہے۔ آئی ایم ایف نے نجکاری کا عمل تیز کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے تاہم پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کی نجکاری کا امکان اس لیے نہیں ہے کہ یہ ادارے اتنے خسارے میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ کوئی لینے کو تیار نہیں ہوگا تاہم منافع بخش ادارے حکومت خوشی خوشی بیچ کر مزید قرضہ لے سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے وفد سے مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں لیکن مالیاتی وفد مطمئن نہیں ہے۔ اس کی طرف سے بھی امریکا کی طرح ڈومور کا مطالبہ ہے اور یہ بھی کوئی راز نہیں کہ امریکا ہی نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے آئی ایم ایف کو شہ دے رکھی ہے۔ امریکا کو یہ بات بھی پسند نہیں کہ پاکستان بیل آؤٹ یا اقتصادی بدحالی سے نکلنے کے لیے چین کی مدد حاصل کرے۔ آئی ایم ایف کے وفد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اداروں کی کارکردگی غیر تسلی بخش ثابت ہوئی ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ سود خور کے نخرے ہوتے ہیں جو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ وزیر خزانہ اسد عمر کا دعویٰ ہے کہ بس یہ آخری بار ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ سچ ہو ورنہ اس معاملے میں بھی یو۔ٹرن لے کر خود کو لیڈر ثابت کرنے کی سوجھی توعوام کیا کرلیں گے۔ آئی ایم ایف کے مطالبے پر 160ارب کے نئے ٹیکسوں کی تلوار کس کس کا خون کرے گی۔ پاکستان کا اہم ترین مسئلہ کرپشن ہے۔ اس پر پوری ریاستی طاقت سے قابو پایا جائے تو آئی ایم ایف یا عالمی بینک کی غلامی سے نجات مل سکتی ہے۔ لیکن اس ضمن میں اب تک تو محض دھمکیاں اور الزامات ہی سامنے آئے ہیں کہ اتنے لوگوں کو پکڑ لیں گے اور بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالیں گے۔ صورت حال یہ ہے کہ غریب لوگوں، ٹھیلے والوں، ویلڈر کے بینک اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکل رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کرپشن کی آمدنی ہے مگر پکڑا کوئی نہیں جاتا۔

                                                                 بشکریہ جسارت