August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

جرم ضعیفی اور قانون توہین رسالت

 

غزالہ عزیز

آسیہ مسیح کی موت کی سزا ختم کرتے ہوئے جسٹس نثار نے فیصلے میں لکھا کہ جب تک کوئی شخص گناہ گار ثابت نہ ہو وہ بے گناہ ہے۔ مثال انہوں نے خلیفہ ثانی سیدنا عمرؓ کی پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عمرؓ کو معلوم تھا کہ اُن کا قاتل غلام ابولولو اُن کو قتل کی دھمکی دے کر گیا ہے۔ صحابہؓ کرام نے اُسے گرفتار کرنے کے لیے بھی مشورہ دیا لیکن سیدنا عمرؓ نے کہا کہ جرم کے ارتکاب سے قبل کسی کو نہ مجرم سمجھا جاسکتا ہے نہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ اُن کی یہ بات سو فی صد درست۔۔۔ لیکن آسیہ مسیح کا جرم لاہور کی عدالت پھر ہائی کورٹ میں ثابت ہوچکا تھا۔ اس نے خود اِس کا اعتراف بھی کرلیا تھا، پھر بھلا یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے کہ وہ بے گناہ ہے۔ اُس نے جرم نہیں کیا لہٰذا اُس کو بری کردیا جائے۔ عدالت کا یہ کہنا بھی کہ توہین مذہب اور رسالت کا جرم ثابت کرنا کسی گروہ یا فرد کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے۔ بالکل ٹھیک لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عدالت عالیہ کوئی فرد یا گروہ ہے جس میں آسیہ کا جرم ثابت ہوا اور پھر اُس جرم میں اُسے سزا دی گئی۔
آسیہ نے ایک مجمعے کے سامنے جرم کا اعتراف کیا کہ اُس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کیے، اب اس بات کو تضاد قرار دینا کہ کوئی گواہ مجمعے کی تعداد 100 بتارہا ہے اور کوئی ہزار اور کوئی پانچ سو۔۔۔ تو اہم بات اعتراف جرم ہے۔ حاضرین کی تعداد اگر گواہان صحیح اندازہ نہ لگا پائے تو جرم کی نوعیت اور اُس کے اعتراف جرم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔۔۔ کہ خواہ مجمع سو ہو یا ہزار؟۔ عدالت عظمیٰ میں فیصلہ سناتے وقت مدعی کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، صحافی جو اُس موقع پر موجود تھے کہتے ہیں کہ ابھی لوگ صحیح طریقے سے اپنی نشستوں پر بیٹھنے بھی نہیں پائے تھے کہ چیف جسٹس کی قیادت میں تین رکنی بینچ فیصلہ سنانے کے لیے پہنچ گیا اور ایک منٹ سے بھی کم وقت میں چیف جسٹس نے اس اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام جون 2009ء میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے گاؤں میں لگا تھا۔ 2010ء میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنادی، اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں آسیہ بی بی کی طرف سے اپیل دائر کی گئی، جس کا فیصلہ 4 سال بعد اکتوبر 2014ء میں سنایا گیا جس کے تحت عدالت نے اس سزا کی توثیق کردی۔ آسیہ بی بی یہ سزا پانے والی پہلی خاتون بن گئی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بارے میں عوام شکوک و شبہات میں مبتلا ہوئے کہ یہی فیصلہ دینا تھا تو اتنے عرصے کیس چلانے کی ضرورت کیا تھی؟ یا تو اتنے عرصے تک قید رکھنا غلط تھا۔۔۔ سزائے موت کا فیصلہ غلط تھا یا آج بریت کا پروانہ غلط ہے۔ پھر حکومت کی پھرتیاں ملاحظہ ہوں۔۔۔ جیل میں نادرا کا سسٹم پہنچادیا گیا اور تین گھنٹے میں پاسپورٹ بھی تیار ہوگیا۔
کہا جارہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی بنیاد چار وجوہات پر ہے۔ ایک ایف آئی آر درج کرنے میں دیر، دوسری گواہان کے بیانات میں عدم مطابقت یعنی اعتراف جرم کے موقع پر افراد کتنے تھے؟ سو یا ہزار، پھر آسیہ بی بی نے اعتراف عدالت کے باہر کیا۔۔۔ اور چوتھا کہ اعتراف کے وقت ماحول سازگار نہ تھا۔ بہرحال معاملہ توہین رسالت کا تھا لہٰذا اسے بین الاقوامی طور پر بھی زیر بحث لایا گیا۔ دنیا بھر میں آسیہ کی زندگی بچانے کے لیے مہم شروع کی گئی، یہاں تک کے فرانس نے پیش کش کی کہ وہ آسیہ کے خاندان کو پیرس میں پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ آسیہ کے شوہر نے پیرس کے میئر کو خط لکھا کہ پانی کا گلاس پینے پر سزا دی گئی ہے اور آسیہ کہتی ہے کہ اس نے توہین مذہب نہیں کی ہے۔ آسیہ کے شوہر نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں عالمی برادری کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ بس پھر کیا تھا عالمی برادری نے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا ٹھیکہ لے لیا، کیوں کہ اُس کا جرم اُن کے نزدیک کوئی جرم نہیں تھا۔ الّا یہ کہ اُس کو سزائے موت دے دی جائے۔ لہٰذا اس دباؤ کے تحت عدالت عالیہ سے دی گئی سزائے موت ختم کرکے آسیہ کو رہا کرنے کا فیصلہ دے دیا گیا۔ اب معاملہ یہاں تک نہیں ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت سے مزید 40 افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو توہین رسالت کے الزام میں قید ہیں اور ساتھ توہین مذہب و رسالت کے قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، ساتھ آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ عیسائی ملکوں اور تنظیموں کا دباؤ کوئی آج کی بات نہیں ہے، یہ تو رہا ہے۔ جرم ضعیفی میں قومیں مبتلا ہوں تو یہ دباؤ تو ہوتا ہے لیکن توہین رسالت پر مسلمان قوم خواہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو کوئی دباؤ برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔۔۔ کہ یہ ایمان کا اوّلین تقاضا ہے۔ یہ اوّلین تقاضا ہے لیکن باقی تقاضے بھی نظر انداز نہیں کیے جاسکتے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مسلمان حکمران اور عوام دونوں نبی اکرمؐ کی سیرت کو اپنی زندگیوں پر لاگو کریں، زبانی کلامی نہیں عمل کو اپنائیں کہ طاقت کا حقیقی منبع یہی ہے ؂
کی محمدؐ سے وفا تُونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں