August 9th, 2020 (1441ذو الحجة19)

حکومت معاہدے سے منحرف ہوگئی؟

 

گزشتہ جمعے کی رات کو حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد تین روز سے جاری دھرنے ختم کردیے گئے۔ اس معاہدے میں جن شقوں پر اتفاق ہوا تھا ایسا لگتا ہے کہ کسی پر بھی حکومت کی طرف سے عمل نہیں ہورہا ہے۔ معاہدے کی پہلی شق یہ تھی کہ آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی جاچکی ہے جو ’’مدعا علیہان‘‘کا قانونی حق ہے۔ حکومت اس پر معترض نہیں ہوگی۔ معلوم نہیں معاہدہ کرنے والے کس کو مدعا علیہان کہہ رہے تھے۔ لیکن اس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس پر معترض نہیں ہوگی۔اعتراض کرنے کا تو موقع ہی نہیں اپیل تودائر ہوچکی، اس پر بھی شبہات ہیں کہ معترض نہ ہونے سے کیا مراد ہے۔ بہر حال حکومت نے اس معاہدے کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ یہ ہے ایک طرف توکہا گیا ہے 30اکتوبر اور اس کے بعد گرفتار ہونے والے افراد کو رہا کیا جائے گا۔ لیکن اس معاہدے کے اگلے روز حکومت نے تحریک لبیک کے رہنماؤں خادم رضوی اور پیر افضل قادری سمیت 400مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ وزارت داخلہ نے اس حوالے سے کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔ لاہور پولیس نے مقدمے کے اندراج کے بعد ایف آئی آر سر بہ مہر کردی ہے۔ مقدمات کے علاوہ گرفتار شدگان کی رہائی کے بجائے مزید ڈھائی سو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ میڈیا فوٹیج کی مدد سے توڑ پھوڑ میں ملوث 100 افراد کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ نے کسی بھی شہری کی طرف سے توڑ پھوڑ کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے ایک سیل بنایا ہے جس کے مطابق کوئی بھی شہری اپنے موبائل سے ایسی ویڈیو بناکر اپ لوڈ کردے اس کا نام صیغہ راز میں رہے گا۔ اسی طرح توڑ پھوڑ کرنے والوں کی شناخت ہوگی اور مزید کارروائی ہوگی۔ یہ عمل عوام میں اختلاف پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔اس سے بڑھ کر یہ کہ وفاقی وزیر اطلاعات نے کراچی پہنچ کر اعلان کیا ہے کہ دھرنے میں فوج اور عدلیہ کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ بغاوت ہے معافی نہیں ملے گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ حکومت کے ترجمان ہیں لیکن یہ معاملہ بہت سیدھا ہے فوج کا کوئی ترجمان یا ذمے دار فرد عدالت سے رجوع کرے اور وہی کرے جو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ ہوا۔ یہ کام وزیر اطلاعات کا تو نہیں۔ وہ بھی وزیراعظم کی پیروی کرتے ہوئے سخت ترین انداز گفتگو اختیار کر رہے ہیں جس سے صرف اشتعال پھیلتا ہے۔ دوسرا بلکہ اہم ترین نکتہ جو اسی معاہدے میں طے پایا کہ آسیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی لیکن ہفتے کے روز وفاقی وزیر مذہبی نے امور پلٹا کھالیا اور کہاکہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ عدالت عظمیٰ کی اجازت سے ہی ہوگا۔ حکومت کے اس طرز عمل پر تحریک لبیک نے بھی رد عمل دیا ہے جو فطری ہے کہ حکومت جان بوجھ کر نئی منطقیں پیش کررہی ہے۔ جیساکہ پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جارہاتھا کہ حکومت کے ارادے ٹھیک نہیں اس لیے اس کی جانب سے کسی بھی معاہدے سے انحراف کوئی معنی نہیں رکھتا حکومت کا ہدف احتجاج کا زور توڑنا تھا وہ اس نے معاہدے کے اعلان کے ذریعے حاصل کرلیا۔ اگرچہ معاہدہ بھی تمام مطالبات کا احاطہ نہیں کررہاتھا لیکن پھر بھی ایک طرح سے یہ امت اور پاکستانی قوم سے وعدہ تھا۔ حکومت کی جانب سے احتجاجی دھرنے ختم ہوتے ہی اس کے برخلاف کام کرنا بالکل نا مناسب طرز عمل ہے۔ اگر وہ یہ سمجھ رہی ہے کہ اب کچھ نہیں ہوگا تو یہ اس کی بھول ہے۔ بہت واضح بات ہے کہ امت مسلمہ اپنے نبیؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتی اور اس پر حیلے بہانے بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پورے ملک میں عوام سڑکوں پر تھے حکومت نے ایک گول مول معاہدہ کرکے اس احتجاج کو دبانے کی کوشش کی ہے لیکن ایسے حیلوں اور تاویلات سے مسلمانان پاکستان کو بہلایا نہیں جاسکتا۔ اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات سے کوئی معاملہ حل نہیں ہوتا اس کے رد عمل میں کوئی اور خرابی پیدا نہ ہوجائے۔ یہ بات بہر حال درست ہے کہ عوامی املاک کو توڑنا پھوڑنا اور ولوٹ مار کرنا کسی بھی حالت میں جائز نہیں اگر کوئی یہ کرتا ہے تو غلط ہے لیکن تین روزہ احتجاج میں صرف یہی نہیں ہوا ہے بلکہ توڑ پھوڑ یا لوٹ مار کے واقعات اِکا دُکا ہوئے ہیں جب کہ پاکستان کے ہر شہر، گاؤں، گلی، کوچے کے عوام اس مسئلے پر احتجاج کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ لوٹ مار کا مطلب 27 دسمبر 2007ء کو بے نظیر کے قتل والے روز اور اگلے روز ہونے والے واقعات ہیں۔ اسی طرح کراچی میں لیاری گینگ وار کے کارندوں کی لوٹ مار اور متحدہ قومی موومنٹ کی لوٹ مار کو لوٹ مار کہا جاتا ہے۔ ناموس رسالتؐ کے پروانوں کے احتجاج کے دوران کسی جگہ کچھ لوگ اشتعال کا مظاہرہ کریں تو اسے پوری تحریک پر ڈالنا ٹھیک نہیں۔ لیکن دین بیزار وزرا اور میڈیا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔ افواہوں کو بھی خبر بناتے ہیں کسی نے سوشل میڈیا پر ایک کیلے والے کو دھرنے میں لوٹنے کی ویڈیو چلادی، ٹی وی چینل نے بھی اسے چلادیا۔ کیونکہ مذہب بدنام ہورہاتھا۔ لیکن جب اسی علاقے کے لوگوں نے اسی کیلے والے کا انٹرویو سوشل میڈیا پر چلایا جس میں اس نے وضاحت کی کہ تمام کیلے خرید کر تقسیم کیے جارہے تھے مجھے قیمت پہلے ملی تھی یہ قطعی جھوٹی خبر ہے۔ میں پھر ٹھیلا بھر کر بیٹھا ہوں توایسے سارے جھوٹے غائب ہوگئے۔ اس مواقع پر تو نجانے کہاں سے سموسے پکوڑے بیچنے والے آجاتے ہیں۔ دال سیو یا پاپڑ یہ ساری چیزیں بھی نہیں لوٹی جاتیں۔ حکومت اور میڈیا ناموس رسالتؐ کے پروانوں کی تحریک کے خلاف بے معنی پروپیگنڈا بند کرکے آسیہ مسیح کے حوالے سے قانونی کارروائی پر توجہ د ے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ انتہا پسندی اور پر تشدد احتجاجی مظاہروں کا مستقل حل ڈھونڈنا ہوگا۔ معاہدہ مسئلے کا عارضی حل ہے۔ یعنی حکومت کی طرف سے یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ محض تحریک کا زور توڑنے کے لیے کیا گیا تھا۔ فواد چودھری صاحب مستقل حل تو ناموس رسالت کے حوالے سے نکالنا ہوگا۔ جس روز شاتمین رسولؐ کو موت کی سزا دی جانے لگے گی کوئی اس کی جرأت نہیں کرے گا اور پھر کسی ممتاز قادری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکمران مغرب سے خوفزدہ ہیں اور عام وزیر سے لے کر وزیراعظم تک معاشی صورتحال سے خوفزدہ کررہے ہیں جب کہ ہمارے دین نے تو یہی بتایاہے کہ شیطان تمہیں فقر و فاقہ اور تنگ دستی سے ڈراتا ہے۔ اب حکمران فیصلہ کرلیں کہ اپنے آپ کو کس زمرے میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔

                                                                                                                                                                                       بشکریہ جسارت