August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

ملعون آسیہ کی عدالتی رہائی

 

عدالت عظمیٰ نے توہین رسالت کے الزام میں قید ملعونہ آسیہ کو بے گناہ قرار دے کر رہا کردیا ہے اور حکومت نے اتنی پھرتی دکھائی کہ صرف 4گھنٹے میں اس کا پاسپورٹ بھی تیار ہوگیا اور وہ ملک سے باہر جا چکی ہوگی۔ یہی فیصلہ کرنا تھا تو اس میں اتنے برس کیوں لگ گئے؟ آسیہ کو توہین رسالت کے مقدمے میں 2010ء میں لاہور کی ماتحت عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی جس کی توثیق لاہور ہائیکورٹ نے بھی کی۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی گئی تھی اور وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر 8اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جو بدھ 31اکتوبر کو سنا دیا گیا۔ یہی فیصلہ آنا تھاتو اس میں اتنے دن لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ بہرحال عدالتی معاملات ایسے ہی ہوتے یں۔ فیصلہ سامنے آنے تک عاشقان رسولؐ خلفشار میں مبتلا رہے۔ اسی اثنا میں آسیہ مسیح کی حمایت کرنے اور جیل میں جا کر اسے تسلی دینے کی حرکت کی وجہ سے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اس کے محافظ ایک عاشق رسول ممتاز قادری نے قتل کردیا۔ حکومت پاکستان نے اسے پھانسی پر چڑھا دیا لیکن آج اس کی قبر مرجع خلائق ہے جب کہ سلمان تاثیر کی قبر کسی کو پتا بھی نہیں کہ کہاں ہے۔ ممتاز قادری نے بھی وہی کیا جو 1923ء میں برطانوی تسلط کے دور میں غاری علم الدین شہید نے کیا تھا اور شاتم رسول راج پال کو جہنم واصل کردیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے آسیہ مسیح کے مقدمے کے فیصلے میں اس کا حوالہ بھی دیا کہ راج پال کو قتل کرنے والے غازی علم الدین کو مسلمان سچا عاشق رسول مانتے ہیں۔ غازی علم الدین کو تو برطانوی دور حکومت میں پھانسی دی گئی لیکن ممتاز قادری کو مملکت اسلامیہ پاکستان کی مسلمان حکومت کے دور میں پھانسی دی گئی۔ آسیہ مسیح کو بچانے کے لئے تین لوگ جان سے گئے، سلمان تاثیر، ممتاز قادری اور ایک وزیر شہباز مسیح جس نے قانون 296-C کو غلط قرار دیا تھااور مارا گیا۔ قانون 296۔ سی توہین مذہب کے بارے میں سزاؤں سے متعلق ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں بھی اس شق کا حوالہ دیا ہے۔ آسیہ مسیح کا فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیا۔ فیصلہ میاں ثاقب نثار نے سنایا کہ ’’ جب تک کوئی شخص گناہ گار ثابت نہ ہو وہ بے گناہ تصور ہوتا ہے اور ریاست کسی بھی فرد کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ توہین مذہب کا جرم ثابت کرنا گروہ یا فرد کے ہاتھوں میں ہونا برداشت نہیں۔ برداشت اسلام کا بنیادی اصول ہے، مذہب کی آزادی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دے رکھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اعلان کرر کھا ہے کہ میرے نبی کا دشمن میرا دشمن ہے اور قرآن میں نبی کریم ؐ کی عزت نہ کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا اعلان کررکھا ہے۔ فیصلے میں امام ابن تیمیہ، قرآن مجید کی تفسیر اور علامہ اقبالؒ کے شعر اور جواب شکوہ کا حوالہ بھی دیا گیا ۔ معزز عدالت کا یہ خطبہ بجا ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں کہ جب تک کوئی شخص گناہ گار ثابت نہ ہو وہ بے گناہ ہے۔ خلیفہ ثانی سیدنا عمرؓ کو معلوم تھا کہ مجوسی غلام ابو لولو نے ان کو قتل کی دھمکی دی ہے جس پر صحابہ کرامؓ نے اسے گرفتار کرنے کا مشورہ دیا تو سیدنا عمرؓ نے یہی کہا تھا کہ جرم کے ارتکاب سے پہلے کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف ہے کہ ہر شخص گناہ گار ہے جب تک وہ اپنے آپ کو بے گناہ ثابت نہیں کرتا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ توہین مذہب کا جرم ثابت کرنا کسی گروہ یا فرد کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن آسیہ مسیح کا جرم تو پہلے لاہور کی ماتحت عدالت اور پھر عدالت عالیہ میں ثابت ہوا اور اسے موت کی سزا دی گئی۔ کیا یہ فیصلے کسی گروہ یا فرد کے تھے ؟ عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ مذہب کی آزادی اللہ نے قرآن میں دے رکھی ہے۔ معزز ترین ججوں ے پاس اس کا حوالہ ضرور ہوگا کہ آزادی مسلمان ہونے سے پہلے تک ہے اور اگر کوئی مسلمان ہو کر مرتد ہوگیا تو اس کی سزا اسلام میں موت ہے۔ مذہب کی آزادی کا یہ مطلب ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد ہے لیکن اسے یہ آزادی نہیں کہ وہ اسلام اور نبی اکرم ؐ کی ذات پر حملے کرے جیسا کہ فیصلے میں بھی کہا گیا ہے کہ اللہ نے نبی ؐ کے دشمن کو اپنا دشمن قرار دیا ہے ان کے لیے سخت سزائیں ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے طویل فیصلے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں اور عدالت کے کسی بھی فیصلے پر تنقید توہین عدالت ہے جو ناقابل معافی ہے اور توہین رسولؐ سے زیادہ بڑا جرم سمجھ لیا گیا ہے۔ چنانچہ فیصلہ خواہ کتنا ہی دل خراش ہو اس پر تنقید نہیں کی جاسکتی کہ اس پر تو معافی مانگنے پر بھی معافی نہیں ملتی۔ جناب چیف جسٹس اس معاملے میں آج کل بڑے حساس ہیں اور انہیں عدلیہ کی توہین گوارہ نہیں۔ بہرحال اس فیصلے سے کروڑوں پاکستانی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں جس کا اظہار بدھ کو پورے ملک میں دیکھا گیا۔ احتجاج کرنے والوں نے ہر چھوٹے بڑے شہر میں راستے بند کردیے اور ہر طرف ٹریفک جام تھا۔ یہ جذباتی معاملہ تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا اور آج بھی ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہے۔ کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، اسکول بھی بند رہیں گے۔عدالت عظمیٰ لاہور کی ماتحت عدالت اور عدالت عالیہ کے ججوں سے بھی معلوم کرے کہ انہوں نے آسیہ مسیح کو موت کی سزا کن بنیادوں پر دی اور یہ بنیادیں 8سال بعد ڈھا دی گئیں۔ پاکستان پر ایک عرصے سے عیسائی ممالک اورتنظیموں کا شدید دباؤ تھا۔ ان ممالک سے قرضے بھی لینے ہیں۔ دباؤ تو غدار شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے بھی ہے۔ کیا پتا کل کووہ بھی ملک سے باہر بیٹھا ہو۔ لیکن کیا عافیہ صدیقی کی بھی کسی کو خبر ہے ؟

                                                                           بشکریہ جسارت