August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

یومِ فتح قادیان (21 اکتوبر 1934ء)

 

عبداللطیف خالد چیمہ

بر ٹش امپا ئر نے مسلمانوں سے جذبہ جہاد ختم کرنے اور فرقہ واریت کو پروان چڑھا نے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں فتنۂ اِرتدادِ مرزائیہ کو کھڑا کیا، مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیلمۂ کذاب کی جانشینی کا حق ادا کیا اور قادیانی جماعت نے اپنے آقاؤں کی تابعداری میں تنسیخ جہاد کے لیے پورا زور لگا دیا، بہت سے مؤثر سرکاری اداروں میں قادیانیوں نے رسوخ حاصل کرلیا اور بعض سرکاری محکموں میں قادیانی سفارش سے بھرتی ہونے لگے، قادیان میں مرزائیوں نے اپنی اکثریت کے زعم میں انسانیت پر جو ظلم روا رکھا، اس قصبہ کی غیر مرزائی آبادی کو جس طرح پریشان کیا، قادیان میں عالم اسلام کو جس افتراق وانتشار کا نشانہ بنایا تاریخ اس کا جواب مہیا نہیں کرسکتی، رائج الوقت قانون کی موجودگی میں خلیفۂ قادیان کے گھریلو آئین، دن کی روشنی میں اپنے مخالفوں کا قتل عام مسلمانوں اور غیر مسلموں سے اقتصادی مقاطعہ، معصوم عصمتوں کی ہلاکت، قصر خلافت میں اخلاق سوز حرکتوں کا ارتکاب یہ تھے وہ عوامل جن سے مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی سیخ پا تھے، سلطنت برطانیہ کے خلاف آزادی کی ہر آواز کو دبانے کے لیے قادیانی مُخبر حقِ نمک ادا کرنے لگے، قادیانی تحریک کا ہر فرد برطانوی سامراج کے مفادات کا محافظ اور وفادار بن کر رہ گیا، تمام مکاتب فکر علمی سطح پر تعاقب میں مصروف ہو گئے، اسی دوران مجلس احرار اسلام جو مسلمانوں کے لیے مسیحا بن کر اٹھی،1916 ء میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے بندے ماترم ہال امر تسر میں مرزا بشیر الدین محمود کو ٹوکا کہ تم حدیث نبوی میں تحریف کرکے مرضی کی تشریح کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا قرار نہ دو، بھر ے ہال میں ہنگا مہ کھڑا ہو گیا، امیر شریعت نے مرزا بشیر الدین محمود کو للکارا کہ حدیث شریف میں تحریف نہیں کرنے دوں گا، چناں چہ پہلے عوامی معرکے میں مرزا بشیر الدین اسٹیج چھوڑ کر بھاگ نکلا شاہ جی نے حدیث کی روشنی میں حاضرین سے خطاب کیا، یہی جدوجہد سامراج دشمنی اور قادیانیت کے تعاقب کی راہیں متعین کرنے لگی اور مجلس احرارِ اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔ احرار کا پلیٹ فارم بہت سے نشیب و فراز، دشمن کی چیرہ دستیوں اور اپنوں کی بے وفائیوں کے باوجود آج بھی الحمدللہ قافلۂ سخت جاں کے طور پر پھر منظم ہو رہا ہے۔
مرزا غلام نبی جانباز ’’حیات امیر شریعت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’1857ء کے بعد انگریزی سامراج نے جن تحریکات کو از خود جنم دے کر پروان چڑھایا، مرزائیت اُسی پودے کا اہم بیج تھا، احرار رہنماؤں کے تدّبرنے اس سے چشم پوشی کو ہندوستان سے غداری اور اسلام کے بنیادی عقیدۂ ختمِ نبوت سے انحراف سمجھ کر قادیان کے نظامِ حکومت میں دراڑ ڈالنا ضروری خیال کیا، چناں چہ23, 22, 21 اکتوبر 1934ء کو قادیان میں امیر شریعت کی صدارت میں تبلیغی کانفرنس کرنے کا اعلان کیا گیا، اس فیصلے سے مرزائی اور حکومت اپنی اپنی جگہ سوچ میں پڑ گئے، پنجاب میں خصوصاً احرار رضا کاروں نے کانفرنس میں شمولیت کی تیاریاں شروع کر دیں، جہاں مسلمان کانفرنس کی تیاریوں میں مگن ہوگئے، وہاں قادیانیوں نے بھی رائج الوقت اسلحہ برچھے، کلہاڑیاں ودیگر سے لیس ہوکر مسلمانوں کو ہر قسم کا جواب دینے کی تیاری شروع کردی، مسلمانوں کا شوق دیدنی تھا، احرار تبلیغ کانفرنس کے لیے خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں۔ لدھیانہ، لاہور، امرتسر، دہلی، پشاور، گوجرانوالہ، کوئٹہ سے کراچی، سری نگر سے سیالکوٹ ہرطرف گہما گہمی تھی، 21اکتوبر صبح گیارہ بجے چالیس ڈبوں پر مشتمل احرار ٹرین جس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ہزاروں احرار سرخ پوش رضا کار سوار تھے، امرتسر سے قادیان کے لیے روانہ ہوئے ٹرین کے دونوں جانب انجن تک احرار کے سرخ پرچم لہرا رہے تھے، احرار پرچم کی اڑانوں نے قادیانیوں کے چہروں کی رنگت اڑادی تھی۔ قادیان کے مسلمان، سکھ اور ہندؤ اس دن کو یوم نجات کہہ کر خوشی منا رہے تھے، کفر لرزہ براندام تھا کہ ٹھیک 1:30 بجے یہ قافلہ حریت قادیان ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گیا، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا عبدالکریم مباہلہ قافلہ سالار کی حیثیت سے افواج ایمان کے ساتھ قادیان کے لات وہبل پر حملہ آور ہوئے، جہاں اسلامی دنیا کی عظیم شخصیات شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، ابوالوفا مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا ظفر اللہ علی خان، مولانا احمد علی لاہوری سمیت بے شمار اولیا وصلحا نے اپنی تائید کا اظہار فرمایا یوں 21اکتوبر 1934ء قادیان میں پہلی احرار تبلیغ کانفرنس منعقد ہوئی اور ان عظیم رہنماؤں اور احرار رضاکاروں کو اللہ کریم نے قادیان میں پہلی فتح عظیم سے سرفراز فرمایا۔
اِس کانفرنس جس نے پوری دنیا میں قادیانیت کے دجل و فریب کو بے نقاب کیا اِس سے پہلے ایک طویل عرصہ کس طرح سوچ وبچار کرکے اِس کو پلان کیا گیا اور کتنے حضرات کو قربانی دینا پڑی اس کے لیے ایک دفتر کی ضرورت ہے۔ امیر شریعت نے 21 اکتوبر کو رات دس بجے سے سحر تک مولانا سید حسین احمد مدنی کی صدارت میں جو تقریر کی اس نے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ قادیانیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ شاہ جی کی تقریر پر مقدمہ ہوا اور سزا بھی لیکن مسٹر جی۔ ڈی۔ کھوسلہ سیشن جج گورداس پور نے فریقین کے وکلا کی بحث کے بعد جو فیصلہ دیا اِس کو تحریکِ ختمِ نبوت کی تاریخ میں ممتاز حیثیت حاصل ہے اور اس فیصلے نے خود ’’فیصلہ‘‘ کردیا۔ اکابر احرار اور قافلۂ ختمِ نبوت نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں انگریزی جبرو استبداد کے باوجود قادیان میں 21 تا 23 اکتوبر 1934ء کو ’’احرار تبلیغ کانفرنس‘‘ کا انعقاد کرکے پوری دنیا پر فتنۂ قادیانیت اور مرزا غلام احمدقادیانی کی حقیقت کو آشکار ا کر دیا تھا۔ مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، مولانا ظفر علی خان اور یونیوسٹائز طبقہ بھی قادیانیوں کو دین وملت کا غدار قرار دے رہا تھا لیکن دنیا پر قادیانیت کا کفر وارتداد واضح کرنے کے لیے مجلس احرارِ اسلام نے قادیان میں شعبۂ تبلیغ تحفظ ختمِ نبوت قائم کیا اور پورے ہندوستان میں اس کے دفاتر قائم کیے قادیان میں کفر وارتداد کا تسلط اور غرور توڑ کے رکھ دیا۔ چودھری افضل حق تاریخ احرار میں لکھتے ہیں کہ ’’جماعت کی ورکنگ کمیٹی میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ قادیان میں پہلے پہل جاکر کے کام کا آغاز کرنے کے لیے کوئی ایسا ساتھی اپنا نام پیش کرے جس کی شادی نہ ہوئی ہو تاکہ اگر وہ قادیانیوں کے ہاتھوں شہید ہوجائے، تو۔۔۔ اس پر مولانا عنایت اللہ چشتی نے اپنا نام پیش کیا اور قادیان میں جا کر اپنا کام شروع کر دیا پھر مولانا محمد حیات قادیان پہنچے اور دارالمبلغین کا قیام عمل میں آیا جب کہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی، ماسٹر تاج الدین انصاری، جانباز مرزا، مولانا لعل حسین اختر مرحومین اور دیگر رہنما قادیان آتے جاتے رہے اور کام منظم ہوتا رہا۔
اکتوبر 1934ء کی اس بنیادی، کلیدی اور تاریخی احرار کانفرنس کی مناسبت سے مجلس احرار اسلام پاکستان کے شعبہ تبلیغ تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 23,22,21 اکتوبر کو ’’یاد ماضی‘‘ کی ورق گردانی کی جاتی ہے۔ اس دفعہ 21 اکتوبر اتوار کو آ رہا ہے اس روز ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ’’یوم فتح قادیان‘‘ منائیں گے، چناب نگر (ربوہ) میں قافلۂ احرار 27 فروری 1976ء کو فاتحانہ انداز میں داخل ہوا، چھ ضلعوں کی پنجاب پولیس نے لوگوں کا راستہ روکا، اس وقت کی پیپلز پارٹی نے فسطائیت کی انتہا کی کردی، جانشین امیر شریعت سید ابو معاویہ ابوذر بخاری اور سید عطاء المحسن بخاری مرحومین کو ربوہ، مسجد احرار کے سنگ بنیاد کے بعد گرفتار کرلیا گیا، بعد ازاں اِن ناروا پابندیوں کی صدائے بازگشت پنجاب اسمبلی میں بھی سنی گئی۔ مولانا غلام غوث ہزاروی اور مجاہد ختم نبوت ملک رب نواز ایڈووکیٹ نے بھی ربوہ میں اس اولین نماز جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطا ب کیا دراصل ربوہ میں تاریخ کے پہلے داخلے کو قادیان کے تسلسل ہی سے موسوم کیا جاتا ہے، یہ اعزاز بھی احرار اور فرزندان امیر شریعت کے حصے میں آیا راقم الحروف تب گورنمنٹ کالج ساہیوال میں زیر تعلیم تھا اور اپنے ایک ساتھی چودھری محمد ارشاد کے ساتھ پولیس کے روکنے کے باوجود حیلے سے ربوہ پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جب کہ ہر طرف سے پولیس کی سخت ناکا بندی تھی، اب ہر سال 12-11 ربیع الاوّل کو ربوہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے اختتام پر دعوتی جلوس نکالا جاتا ہے اور ’’ایوان محمود‘‘ کے عین سامنے قادیانیوں کو دعوت اسلام کا فریضہ دہرایا جاتا ہے، امسال بھی ان شاء اللہ تعالیٰ نومبر میں اس عمل مبارک کا اعادہ کیا جائے گا۔