August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

انخلا یا شکست؟ ’’تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام‘‘

 

 

 عارف بہار

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد طالبان ذرائع نے الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں امریکا نے افغانستان سے دوسرے معاملات سمیت مکمل فوجی انخلا پر بات چیت کی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ چھ رکنی امریکی وفد کی قیادت افغانستان کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی اور افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔ زلمے خلیل زاد امریکا کی افغان اور پاکستان پالیسی میں اہم کردار کے حامل سمجھے جاتے ہیں اور یوں افغانستان میں زمینی حقائق سے مغائر اور متصادم پالیسیوں کی وجہ سے امریکا کی راہوں میں بکھرے کانٹوں میں ان کا بھی بڑا حصہ ہے۔ زلمے خلیل زاد گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے وفد میں بھی شامل تھے اور اسی پس منظر کی بنا پر یہاں ان کا زیادہ گرم جوش استقبال نہیں ہوا تھا۔ حتیٰ کہ وزیر اعظم عمران خان جب ملاقات کے کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے وفد کے ارکان سے مصافحہ کرتے ہوئے پیچھے کھڑے زلمے خلیل زاد کو نظر انداز کیا تھا۔ یہ معلوم نہ ہو سکا تھا کہ زلمے خلیل زاد تک ان کا ہاتھ پہنچ نہیں سکا تھا یا انہوں نے دانستہ ہاتھ دراز کرنے سے احتراز کیا تھا؟۔
افغانستان میں امریکا اور طالبان کے درمیان جہاں گھمسان کا رن جاری ہے اور سترہ برس بعد بھی کوئی فریق حتمی فتح کی منزل تک نہیں پہنچ سکا وہیں دونوں کے درمیان سلسلہ جنبانی بھی کسی نہ کسی انداز سے چل رہا ہے۔ 2013 میں قطر میں طالبان کے دفتر کا قیام اسی درپردہ رابطے کا عکاس تھا۔ یہ وہی وقت تھا جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پہلی بار یہ رپورٹس شائع ہونے لگی تھیں کہ روس طالبان کے ساتھ روابطے استوار کر چکا ہے اور یہ روابط باقاعدہ عسکری امداد کی شکل بھی اختیار کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے امریکا، کابل حکومت اور ان کے ہم نوا طالبان کی مدد کے الزام کے لیے تنہا پاکستان کو سینڈ بیگ بنائے ہوئے تھے۔ طالبان کے دوسرے اہم ملکوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کی خبروں کے بعد ہی امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ایک کھڑکی دوحہ میں دفتر کی اجازت کے ذریعے کھولنے کی ابتدا کی تھی۔ اب یہی دفتر افغانستان کی سیاسی مفاہمت کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ یہ طالبان اور امریکا کا براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور ہے۔ ماضی میں امریکا طالبان سے براہ راست مذاکرات سے شرماتا لجاتا اور کتراتا رہا ہے اور وہ طالبان کو کابل حکومت سے مذاکرات کا مشورہ دیتا رہا ہے مگر طالبان کابل حکومت کو کٹھ پتلی قرار دے کر براہ راست امریکا سے بات چیت پر اصرار کرتے رہے ہیں۔
سترہ سالہ جنگ میں طالبان گوریلا طرز جنگ اختیار کیے رہے اور اس جنگ میں گوریلوں کا مقصد ’’مارو اور بھاگو‘‘ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے مخالف کو زخم زخم کرنا ہوتا ہے جب کہ امریکا کا مقصد طالبان کی مزاحمت کو کچلنا اور بون کانفرنس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے افغان سیاسی اور انتظامی نظام کو ایک جائز اور قانونی نظام کے طور تسلیم کرانا اور اس کے ذریعے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی کو جائز اور وقت کی اہم ضرورت قرار دینے کی سند حاصل کرنا تھا۔ سترہ برس کی مارا ماری میں طالبان تو امریکا، ناٹو، ایساف اور افغان فورسز
کو زخم زخم کرنے میں کامیاب رہے اور چالیس فی صد سے زیادہ علاقے پر ان کا کنٹرول بھی قائم ہو گیا۔ امریکا تمام جدید ہتھیاروں اور فضائی برتری کے باجود اپنے مقصد میں کامیاب نہیں رہا۔ امریکی فوجیوں کی گرتی ہوئی لاشیں امریکی عوام کو اس جنگ کے خلاف اُکسانے میں ممدومعاون ثابت ہوتی رہیں۔ اس عرصے میں افغانستان میں دو صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی اور امریکا میں تین صدور جارج بش دوم، بارک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ، افغانستان میں امریکی فوج کے اٹھارہ کمانڈر تبدیل ہوئے جن میں آخری جنرل نکلسن تھے جنہوں نے اپنا چارج اس پیغام کے ساتھ جنرل آسٹن ملر کے حوالے کیا اب وقت آگیا ہے کہ افغان جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ سترہ برس میں افغان مزاحمتی تحریک کے دو دیومالائی کردار طالبان کے امیر ملا محمد عمر اور حقانی نیٹ ورک کے فکری قائد مولانا جلال الدین حقانی اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے اور ایک عہد میں پاکستانیوں میں مقبول ترین زیر زمین لیڈر گل بدین حکمت یار منظر پر آکر افغان سیاسی سیٹ اپ کا حصہ بن گئے مگر حالات کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہا۔ زمینی صورت حال یہ رہی کہ طالبان کی مزاحمت بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی وہ امریکی فوج کے مکمل انخلا کے مطالبے سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔ امریکا کی افغانستان میں براہ راست فوجی موجودگی نے خطے کے اہم ممالک روس، چین، پاکستان اور ایران کو خوفزدہ کیے رکھا۔ ان کے خوف کی بنیاد یہ تھی کہ افغانستان میں امریکا کی فوجی موجودگی کے باعث قریبی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ یہ خوف قطعی بے سبب نہیں تھا پاکستان افغانستان میں امریکی موجودگی کی قیمت برسوں سے چکا رہا ہے۔
امریکی افغانستان سے اپنے مکمل فوجی انخلا کے معاملے پر خوف کا شکار رہے ان کا خیال تھا کہ انخلا کی صورت میں نہ صرف یہ کہ علاقائی ممالک کابل پر اپنا اثر رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ اس کے بعد کابل حکومت طالبان کی یلغار کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو کر گر جائے گی اور طالبان دوبارہ افغانستان کا کنٹرول سنبھال کر ملک کو امریکا مخالف سرگرمیوں کا گڑھ بنالیں گے۔ امریکا نے اپنے انخلا کی صورت میں بھارت کو افغانستان کا پولیس مین بنانے کی پالیسی اپنا کر پاکستان کو مستقلاً اپنے گھیراؤ کے خوف کا شکار کیے رکھا۔ اس طرح بہت سوں کے خدشات اور خوف کے باعث پورا خطہ عدم استحکام کی راہوں پر گامزن رہا۔ اب اگر امریکا نے افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کا عندیہ دیا ہے تو اسے ایک تاریخی لمحہ اور خبر کہا جا سکتا ہے۔ یہ خطے میں استحکام کی جانب پہلا اور اہم ترین قدم ثابت ہو سکتا ہے مگر کسی وسیع تر مفاہمت کے بغیر یہ انخلا سوویت انخلا کی طرح افغانوں کے لیے رحمت کی جگہ زحمت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکا میں یہ سوچ اب بڑی حد تک غالب آچکی ہے کہ وہ موجودہ جنگ جویانہ پالیسی کو جاری رکھ کر اگلے سترہ برس بھی جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس سوچ کا عکاس ’’دی ویک‘‘ میگزین میں امریکی خاتون صحافی بونی کرسٹن کا ایک چونکا دینے والا مضمون ہے۔ جس کا عنوان ہی ’’امریکا کبھی افغانستان میں نہیں جیت سکے گا‘‘ ہے۔ بونی کرسٹن نے کہا ہے کہ ممکن ہے امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد طالبان غالب آجائیں، کابل حکومت گر جائے اور افغانستان پھر امریکا مخالف قوتوں کا اڈہ بن جائے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکا ہمیشہ کے لیے افغانستان میں براجمان رہے۔ بونی کرسٹن نے اپنے مضمون کا اختتام اس جملے سے کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں جنگ کو ختم کردیا جائے۔