August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

بھارت رکاوٹ ہے، پاکستان بھی کمزوری نہ دکھائے

 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں بھارت رکاوٹ ہے، ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور ایٹمی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ صدر مملکت نے اسلام آباد کے اسٹریٹجک انسٹی ٹیوٹ کی عالمی کانفرنس میں کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا اور یہ قرار دیا کہ جنوبی ایشیا میں تنازع کا بنیادی سبب کشمیر ہے، اقوام متحدہ اس تنازع کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔ جنوبی ایشیا طویل عرصے سے تنازعات کی زد میں ہے خصوصاً بھارت کی جانب سے کشمیر میں 27 اکتوبر 1948ء کو فوج اتار نے سے اس کا آغاز ہوا۔ 1965ء میں بھارتی جارحیت 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوج کشی اور کنٹرول لائن کی ہزاروں خلاف ورزیاں، پاکستان میں جاسوسی نیٹ ورک یہ سب کچھ بھارت ہی کی جانب سے شروع کیا گیا۔ یہاں تک کہ پوکھران میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو شدید دباؤ میں لے آیا یہاں تک کہ پاکستان کو جواباً دفاع کے لیے ایٹمی دھماکے کرنے پڑے۔ جب سے پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اور بم بنانے کا اعلان کیا اس کے بعد سے بھارت کی جارحیت میں کمی آئی تھی لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں امریکی پٹھو کے طور پر استعمال ہونے کی وجہ سے بھارت کو شہ ملی ہوئی ہے اس لیے آج کل اس کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیاں جاسوسی اور سفارتی سطح پر بھی پاکستان کے خلاف مہم میں تیزی آئی ہوئی ہے۔ اس پر آبی جارحیت الگ ہے صدر پاکستان کو یہ بھی اچھی طرح معلوم ہوگا کہ ہر خرابی کا سبب اگر چہ بھارت ہے لیکن اس کو اس قدر ہمت دینے کا کام صرف عالمی برادری نے نہیں کیا ہے مختلف ادوار میں پاکستانی حکمرانوں نے بھارت کی منت سماجت اور پاؤں پڑنے تک کمزوری کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے اب وہ احمقانہ قسم کے الزامات پر اتر آیا ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے مقدمے کی وکالت ڈھیلے ڈھالے طریقے سے کرنے پر ذمے دار بھارت تو نہیں ہوسکتا۔ عالمی سطح پر سفارتکاری اور قومی سطح پر یکجہتی نہایت ضروری ہے۔ الٹا اس مسئلے کو متنازع بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں روشن خیالی کا جو بھوت جنرل پرویز مشرف چھوڑ گئے تھے اس کے انڈے بچے اب پی ٹی آئی میں ہیں وہی نصاب تعلیم میں بھی تبدیلی چاہتے ہیں اور ان کے نزدیک بھارت سے کشمیر پر تنازع وقت کا ضیاع ہے۔ شکر ہے کہ صدر مملکت پرانی قسم کے سیاستدان ہیں اور جب انہوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تھا تو پاکستان کا اہم ترین مسئلہ کشمیر ہی ہوا کرتا تھا۔ لیکن وقت کی گرد نے اس مسئلے کو غیر اہم بنا دیا۔ صدر مملکت اس کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ انہوں نے عالمی کانفرنس میں یہ مسئلہ اٹھا کر اچھا اقدام کیا ہے اب دوسرے پہلو پر بھی فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ اور سفارتی محاذ پر کشمیر کے مسئلے کو فوری طور پر بھرپور طریقے سے پھر اٹھایا جائے۔ اسی طرح بھارت کی سرحدی جارحیت کو اب ساری دنیا کے سامنے لایا جائے۔ کشمیر میں اس کے مظالم حد سے بڑھ چکے ہیں ، ان کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ اس سارے عمل میں کمزوری پاکستان کی جانب سے دکھائی جاتی ہے۔ مسئلہ کشمیر بھارت کی جانب سے وادی میں فوج داخل کرنے سے پیدا ہوا پاکستان کو بھی جواب میں ایسا کرنا چاہیے۔ جس طرح ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے سے پاکستان کی پوزیشن بھارت کے مقابلے میں بہتر ہوئی تھی اسی طرح جس قسم کی کارروائی بھارت کرے اسی قسم کا جواب اسے دینے کی ضرورت ہے۔ اگر جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے میں بھارت رکاوٹ ہے تو پاکستان بھی بہت سے محاذوں پر کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار پہلے امریکا و یورپ اور اسرائیل میں بنے لیکن سب سے زیادہ زور جنوبی ایشیا کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنے پر کیوں دیا جاتا ہے۔ پہلے امریکا، یورپ و اسرائیل اپنے ایٹمی ہتھیار تو تلف کریں۔ دنیا میں بدامنی کا سبب ہتھیار نہیں نا انصافی ہے۔ جب نا انصافی حد سے بڑھتی ہے تو ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔ عالمی ادارے انصاف کا نظام قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ 

             بشکریہ جسارت