August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

ٹیکسوں میں اضافہ:ہم کیا کرتے ؟ جماعت اسلامی کی ٹیکس پالیسی 

 

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ 
ترقی و خوشحالی ہر پاکستانی کا خواب ہی نہیں، اس کی دلی تمنا، آرزو اور اٹھے ہوئے ہاتھوں کی مسلسل دعا ہے۔ اسی امید اور اسی وعدے پر ہی وہ ماضی کی حکومتوں کو ووٹ دیتے رہے ہیں اور یہی امید انہوں نے موجودہ حکومت سے وابستہ کی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب عوام حکومت کو رعایت دینے کے بجائے ناپ تول کے اعشاری نظام سے موجودہ حکمرانوں کی کامیابیوں کو جانچ رہے ہیں، وہ گزشتہ حکومت پر ہی سارا ملبہ ڈال کر عوام کو ریلیف سے محروم رکھنے کی پالیسی سے اتفاق نہیں کر سکتے۔ وہ وعدہ فردا پر زحمت انتظار نہیں کرسکتے، وہ محض تقاریر اور بیانات سے مطمئن نہیں ہوسکتے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے حالیہ بجٹ ہی میں 178 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور دیگر کئی اقدامات سے عوام کے لیے مہنگائی کی ایک نئی لہر آئی ہے۔ صرف ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں اشیائے صرف اور یوٹیلٹی بلز میں اضافہ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بجلی، گیس، کھاد، ایل پی جی، شناختی کارڈ فیس، ٹول ٹیکس اور اے ٹی ایم ٹیکس وغیرہ میں اضافہ ہوا ہے اور پٹرولیم مصنوعات سمیت ابھی کئی اضافے پائپ لائن میں ہیں۔
جماعت اسلامی تنقید کے اپنے جمہوری حق اور عوامی نمائندگی کے ایک لازمی فرض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ یہ مثبت انداز بھی اختیار کررہی ہے کہ عوام اور میڈیا کو بتایا جائے کہ اگر جماعت اسلامی کو موقع ملتاتو ہم کیا کرتے، اسی حکمت عملی کے تحت یہ سطور لکھی جارہی ہیں۔ جماعت ا سلامی کی مجلس قائمہ برائے معاشی امور (سربراہ سرفراز احمد خان سابق رکن ایف بی آر) کی مشاورت سے جماعت اسلامی کی جو ٹیکس پالیسی تشکیل دی گئی اس کے اہم نکات حسب ذیل ہیں:۔
۱۔ ریونیو میں اضافہ ناگزیر ہے، جماعت اسلامی موجودہ ٹیکس وصولی میں ایک کھرب روپے کے اضافہ کے ہدف کو قومی سلامتی کا ایک حقیقت پسندانہ تقاضا سمجھتی ہے۔
۲۔ موجودہ ٹیکس وصولی کے نظام کو یکسر بدلنا ہوگا۔ غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں، ارکان اسمبلی، وزراء اور بیورکریسی کو پالنے کے بجائے امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں کے حالات بدلے جائیں گے۔
۳۔ ٹیکس کا کم از کم 75 فی صد براہ راست یعنی انکم ٹیکس کے ذریعے اکٹھا کیا جائے گا اور بالواسطہ ٹیکسوں، یعنی سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی وغیرہ کا حصہ صرف 25 فی صد ہوگا۔
۴۔ ٹیکس نیٹ میں اضافہ لازمی ہے اس مقصد کے لیے ٹیکس شرح کم از کم رکھی جائے گی نیز منقولہ و غیر منقولہ جائداد اور اسٹاک ایکسچینج کو دستاویز ی شکل دینا لازمی ہوگا۔
۵۔ ٹیکس وصولی میں کرپشن اور چوری کا مکمل خاتمہ کر کے ریونیو کو دوگنا کیا جائے گا۔
۶۔ ٹیکس اور ڈیوٹیوں کے نظام میں صوابدیدی اختیارات کو محدود بھی کیا جائے گا اور ان پر محکمانہ نہیں، منصفانہ چیک اینڈ بیلنس قائم کیا جائے گا۔ ٹیکس دہندہ پر اعتماد کیا جانا ضروری ہے۔
۷۔ سیلز ٹیکس کی شرح صرف ایک فی صد ہو گی۔ خرید و فروخت کو دستاویزی شکل دی جائے گی۔ خام مال، سیمی مینو فیکچرنگ، مینو فیکچرنگ، سیلز پوائنٹ اور ایکسپورٹ، ان میں سے ہر مرحلہ پر الگ الگ ٹیکس چارج کرنے کے بجائے صرف ایک سطح پر ایک فی صد سیلز ٹیکس خود تشخیصی بنیاد پر عائد ہوگا۔ ری فنڈ آسان ہوگا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو نگرانی میں تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوسکے گا۔
۔۔۔ چھ لاکھ روپے سالانہ سے کم صافی انفرادی آمدنی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔
۔۔۔ انفرادی آمدنی پر سالانہ ٹیکس کی شرح زیادہ سے زیادہ بیس فی صد ہوگی۔
۔۔۔ AOP پر انکم ٹیکس کی شرح تیس فی صد سے زیادہ نہیں ہوگی۔ گردشی کاروبار ی سرمایہ اگر سالانہ ایک کروڑ سے کم ہو تو AOP کی اجازت ہوگی، تاہم ایک کروڑ سے زیادہ گردشی سرمایہ کی صورت میں لمیٹڈ کمپنی بنانا لازم ہوگی۔
۔۔۔ سارا نظام خود تشخیصی ہوگا، البتہ دو سال میں ایک مرتبہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ذریعے تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوسکے گا۔
۔۔۔ اب تک بغیر رجسٹریشن کے کام کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نادرا کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کو ہر مرحلہ پر لنک کیا جائے گا، ہول سیلر، ڈسٹری بیوٹر، جنرل سپلائرکنٹریکٹر ز، پروفیشنلز اور ان کے بیرون ملک سفر یوٹیلٹی بلز، بچوں کے تعلیمی اداروں کو لنک کیا جائے گا۔
۔۔۔ ویلتھ ٹیکس کو پہلے مرحلہ پر بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں ایک کنال سے بڑے مکانات نیز تمام پلازوں، میرج ہالز، کلبوں وغیرہ پر عائد کیا جائے گا، شرح البتہ کم ہوگی اور ادائیگی کا خود کار نظام ہوگا۔
۔۔۔ آڑھتیوں، پرچون فروشوں وغیرہ پر فکس ٹیکس عائد کیا جائے، جس کی ادائیگی آسان ہوگی اور محکمانہ مداخلت نہ ہونے کے برابر ہوگی۔
۔۔۔ ٹیکس اور جی ڈی پی کے موجودہ تناسب یعنی 9 فی صد کو کم از کم دو فی صد سالانہ بڑھایا جائے گا۔ اصل ہدف پندرہ فی صد سالانہ ہوگا۔
۔۔۔ ٹیکس دہندگان کی موجودہ تعداد بہت کم ہے، کوشش کی جائے گی کہ پانچ سال میں ٹیکس دہندگان کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے۔
۔۔۔ زائد ٹیکس کی واپسی کے لیے آٹو میٹک ری فنڈ سسٹم قائم کیا جائے گا۔
۔۔۔ ٹیکس وصولی کے ذمے داران افسران ہوں، یا اہلکار، ان کی کرپشن کسی صورت قابل معافی نہ ہوگی ان کی بیوی بچوں سمیت جائداد، بیرون ملک سفروں، مہنگے تعلیمی اداروں میں بچوں کے داخلوں وغیرہ کو چیک کرنے کے لیے نیب کے تحت آزاد ادارہ کام کرے گا۔
ٹیکس دہندگان کو کرپٹ عناصر کے خلاف قانونی عدالتی کاروائی کرنے، انہیں قید کی سزا دلوانے کے حق اور کرپشن میں ثابت شدہ رقم اور جائداد کی ضبطی کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
عوام کے خدشات دور کیے جائیں گے، انہیں مسلسل بتایا جائے گا کہ
۔۔۔ ٹیکس کے بدلے ٹیکس دہندگان کو کیا کیا مل رہا ہے اور یہ کہ ٹیکس کی رقم کرپشن کی نذر نہیں ہورہی عوام پر ہی خر چ ہورہی ہے۔
۔۔۔ ٹیکس دہندگان ہوں یا ٹیکس وصول کرنے والے دونوں میں خوف خدا اور فکر آخرت پیداکرنے کے لیے مختلف ذرائع عمل میں لائے جائیں گے۔
۔۔۔ سودی معیشت کا مکمل خاتمہ اور نظام زکوٰۃ کا بہترین شفاف اور اسلامی اصولوں کے مطابق نفاذ بھی لازماً کریں گے، ہم موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گزشتہ سولہ برس سے وفاقی شرعی عدالت میں سود کے زیر التوا مقدمے کو واپس لے۔
۔۔۔ عوام پر بار بار ٹیکسوں کا بوجھ لادنے اور انہیں مہنگائی کی کند چھری سے ذبح کرنے کے بجائے جماعت اسلامی لوٹی ہوئی دولت کی بلاامتیاز واپسی کو اولین ترجیح قرار دے گی اور کم سے کم مدت میں لوٹی ہوئی دولت کو قومی خزانے میں واپس لائے گی تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ہوسکے۔