August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

پاک و ہند کی کشیدہ صورت حال

 

حبیب الرحمن

وزیراعظم جناب عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے ساتھ ہی جو اچھی ڈیولپمنٹ ہوئی وہ یہ تھی کہ پاکستان کی جانب سے اس بات کی بھرپور کوشش کی گئی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو ختم یا کم از کم سطح تک تو لایا جائے کہ دونوں ملکوں کے ٹکراؤ کا اندیشہ ختم ہوجائے۔ اس نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے ایک خط بھیجا۔ پاکستان کیا دنیا جانتی ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے آخر کار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی اس پیشکش اور مذاکرات کے آغاز کی کوشش پر خیال یہی تھا کہ بھارت کی جانب سے مثبت جواب آئے گا لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا اور بھارت نے مذاکرات کی اس پیشکش کو درخور اعتناع بھی نہ سمجھا۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’پاکستان نے انڈیا کے ساتھ وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی مجوزہ ملاقات کو انڈیا کی جانب سے منسوخ کرنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انڈیا کا بیان مہذب دنیا اور سفارتی روابط کے منافی ہے۔ خیال رہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں مجوزہ ملاقات کی منظوری کے اعلان کے 24 گھنٹے بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ ملاقات کے اعلان کے بعد رونما ہونے والے بعض واقعات سے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کا اصلی چہرہ سامنے آگیا اور اب نیو یارک میں دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات نہیں ہوگی، کیوں کہ اس ملاقات کا کوئی مقصد باقی نہیں رہ جاتا۔ دلی سے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ’(اس اعلان کے بعد) ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان سے سرگرم عناصر نے درندگی کے ساتھ قتل کیا ہے اور پاکستان نے دہشت گردی اور دہشت گرد کے اعزاز میں 20 ڈاک ٹکٹ جاری کیے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہیں سدھرے گا‘‘۔

مذاکرات کی میز پر آنا یا نہ آنا ایک الگ بات ہے لیکن انکار کا یہ انداز سفارتی آداب کے نہایت خلاف ہے۔ ’’پاکستان نہیں سدھرے گا‘‘ جیسے الفاظ نہایت غیر مہذبانہ ہیں اور ان الفاظ میں بڑائی اور تکبر ٹپکتا ہے جو کسی بھی لحاظ ایک اچھا رویہ نہیں۔ مذاکرات سے انکار کا سبب جس واقعہ کو قرار دیا جا رہا ہے اس کے متعلق پاکستانی دفتر خارجہ نے تحریری بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ انڈین سیکورٹی اہلکاروں کی مبینہ ہلاکت کا واقعہ ملاقات کے لیے انڈیا کی آمادگی سے دو دن پہلے کا ہے۔ اور پاکستان نے انڈین باڈر سیکورٹی حکام کو بتایا تھا کہ پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان اس کی مشترکہ تحقیقات میں شامل ہونے کو تیار ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے خط کے جواب میں بھارت کی جانب سے پہلے مثبت جواب آیا تھا اور بھارت نیویارک میں مذاکرات پر آمادہ ہوگیا تھا۔ جس وقت بھارت مذاکرات پر آمادہ ہو گیا تھا اس وقت تک واقعہ ہوئے 2 دن گزر چکے تھے۔ کیا دو دنوں تک بھارت کی وزارت خارجہ کو اس کا علم نہیں ہو سکا تھا؟۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت نے مذاکرات سے اچانک انکار کسی اور ہی کے اشارہ ابرو پر کیا ہوگا۔ رہی کشمیر کے حوالے سے ڈاک ٹکٹ جاری کرنے والی بات تو پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ یہ ڈاک کے ٹکٹ 25 جولائی سے قبل جاری کیے گئے تھے اور عمران خان کی حکومت اس کے بعد آئی۔

ابھی مذاکرات کی تنسیخ کی خبر چل ہی رہی تھی کہ بھارت کے آرمی چیف کا ایک نہایت سخت بیان سامنے آگیا۔ انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انڈین فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو ان کی ہی زبان میں جواب دینا چاہیے، ان کی طرح درندگی نہیں لیکن میرے خیال میں انہیں بھی وہی تکلیف محسوس ہونا چاہیے۔ انڈین آرمی چیف بپن راوت کا یہ بیان پاکستان وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ مجوزہ وزرائے خارجہ سطح کی ملاقات کی منسوخی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انڈین رویے کو منفی اور متکبرانہ قرار دیا تھا۔

بھارتی آرمی چیف کے بیان کے بعد پاکستان کی جانب سے بھی ایک رد عمل سامنے آیا۔ سنیچر کو نجی ٹی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’ہمیں امن کی قیمت کا علم ہے جو ہم نے ادا کی ہے۔ انڈیا کی حکومت کرپشن کے الزامات اور ملکی سیاست میں گھری ہوئی ہے لہٰذا انہوں نے پاکستان دشمنی کا بیانیہ اختیار کیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں امن قائم کیا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ امن کی قیمت کیا ہے اور اسی تناظر میں پاکستان کے نئے وزیراعظم نے امن کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے قبول بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انڈیا کی جانب سے بارڈر سیکورٹی فورس کے ایک اہلکار کی لاش مسخ کرنے کا الزام عائد کیا جسے مسترد کیا گیا ہے۔ ہم کسی بھی فوجی کی بے حرمتی نہیں کر سکتے خواہ وہ دشمن ملک کا ہو۔

انڈین فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے بیان کو انہوں نے ایک غیر ذمے دارانہ بیان قرار دیا۔ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں لیکن ہم نے امن کا راستہ اختیار کیا ہے اور یہ بات انڈیا اور ان کے آرمی چیف کو سمجھنا چاہیے کہ اس امن کو خراب نہیں کرنا، ہمیں امن کو آگے لے کر چلنا ہے۔ اگر امن رہے گا تو پاکستان بھی ترقی کرے گا، انڈیا بھی ترقی کرے گا اور خطہ بھی ترقی کرے گا۔ کسی کی امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ انڈیا ہی کیا، ہرجارح کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ جنگ کو جس حدتک بھی ہو نظرانداز کرنا چاہیے۔ پاکستان نے تو اپنا موقف دنیا اور بھارت کے سامنے رکھ دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کردیا ہے کہ جنگ سے وہ گھبرایا کرتے ہیں جو جنگ کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم جنگ کو اچھا تو نہیں سمجھتے لیکن ہر جارحیت کا جواب دینا خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔

پاکستان آرمی کی جانب سے وضاحتوں کے بعد اس بات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ ماحول کو مزید تلخ بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس کے برعکس حالات کا تقاضا ہے کہ ماحول کو کبیدہ بنانے کے بجائے خوشگوار فضا ہموار کی جائے، جنگ کے امکانات کو معدوم سے معدوم تر کیا جائے اور دشمنیوں کو دوستیوں میں بدلنے کی جانب بڑھاجائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم سب ترقی و خوشحالی کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں جذبہ جہاد، حوصلہ و ہمت اور عزم و یقین سے جیتی جاتی ہے۔ ہم ان سب اوصاف کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی رکھتے ہیں اور فن ضرب و حرب کا صدیوں کا تجربہ بھی۔ بس اتنا آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ

سن لو اے ہندیو ہر مقابل کو یوں

خود سے کمتر سمجھنا بڑی بھول ہے

راکھ کو کم نہ سمجھو کبھی آگ سے

راکھ مانا کہ کچھ بھی نہیں دھول ہے

ہم نے دیکھا ہے بجھتی سی چنگاریاں

پھونک دیتی ہیں اچھی بھلی بستیاں

ختم جب تک نہ ہو جنگ تو جنگ ہے

سنگ ریزہ سہی سنگ پھر سنگ ہے