November 18th, 2019 (1441ربيع الأول21)

دوسری شادی پر سزا!

 

 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ دوسری شادی کے لیے بیوی کی اجازت کے ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت لازمی ہے ۔ اگر پہلی بیوی دوسری شادی کی اجازت دے بھی دے اور مصالحتی کونسل اجازت نہ دے تو دوسری شادی کرنے والا موجب سزا ہوگا ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس عجیب و غریب فیصلے پر مذہبی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شادی ہو یا موت ، یہ قطعی طور پر اسلامی معاملہ ہے اور اسلام میں دیے گئے احکامات کے مطابق ہی اس پر عمل کیا جاتا ہے ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں کسی ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ پہلی شادی ہو یا دوسری تیسری، اس میں کسی بھی کسی قسم کی ترمیم یا اضافے کا کسی کو بھی کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ایوب خان کے دور میں نافذ کیے گئے عائلی قوانین پہلے ہی اسلامی فقہ سے متصادم ہیں ۔ اب اس پر مستزاد اسلام آباد ہائی کورٹ کا نیا فیصلہ ہے ۔ عدالت کا کام قوانین کے موجودہ فریم ورک میں رہتے ہوئے اس امر کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مدعی یا مدعا علیہ نے کہیں پر قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ عدالت کا کہیں سے بھی یہ مینڈیٹ نہیں ہے کہ نیا قانون متعارف کروائے یا کسی موجودہ قانون کی نئی تشریح پیش کرے ۔ اس ملک میں ہزاروں ایسے مسائل موجود ہیں جن کے حل کے لیے عدلیہ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ حیرت انگیز طور پر عام کیس دسیوں برس لٹکے رہتے ہیں اور ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی مگر ایسا کیس جس میں اسلام کا یا مولوی کا معاملہ ہو ، فوری طور پراس کا فیصلہ آجاتا ہے ۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ایسے معاملات اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے حل کیے جائیں کہ وہاں پر اسلامی فقہ کے ماہرین بیٹھے ہیں ۔ اس سے ملک کا مذاق بھی نہیں بنے گا اور اسلام پسند حلقوں میں اضطراب بھی نہیں پیدا ہوگا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی چاہیے کہ اس طرح کے مسائل کو ایک ہی دفعہ حتمی طور پر حل کردیا جائے تاکہ ہر کچھ دن بعد اس پر طبع آزمائی نہ ہوسکے ۔ اگر ایسی صورتحال جاری رہی تو کسی دن کوئی کورٹ یہ بھی قرار دے سکتی ہے کہ قبرستان میں خاصی بڑی جگہ ضائع ہوتی ہے اس لیے اب مردوں کی تدفین پر پابندی عاید کرکے انہیں جلانے کے احکامات جاری کردیے جائیں ۔ پتا ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام ہی کے نام پر اس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ یہاںپر اسلام کے منافی کسی بھی حکم کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور علماء اس پر مثبت اور فوری ردعمل ظاہر کریں گے تاکہ اس قسم کے غیر متعلقہ مسائل کو اٹھانے کا سدباب کیا جاسکے ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس قسم کے مسائل کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی طرف توجہ دے ۔

                                                                                 بشکریہ جسارت