October 15th, 2019 (1441صفر15)

وام دوست بجٹ لانے میں کیا قباحت ہے؟

 

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اسمبلی کے اندر بھی اور اسمبلی سے باہر بھی حزب اختلاف کی ساری جماعتوںنے بجٹ کو یکسر مسترد کرکے نیا بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے تحت بدھ کو لاہور میں بجٹ پر قومی سیمینار منعقد کیا گیا جس میں سیاسی رہنماؤں کے علاوہ معاشی ماہرین نے بھی شرکت کی ۔ سیمینار میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ملک کی تباہی کا ایجنڈا ہے اور اسے کسی بھی صورت میں منظور نہ ہونے دیا جائے۔ مقررین نے متنبہ کیا کہ امریکا آئی ایم ایف کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے پاکستان کے سیاسی حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے ۔عدالت عظمیٰ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے جوڈیشیل افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کی خبریں اور پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھ کر مایوسی ہورہی ہے ۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ بجٹ کے حق میں ووٹ دینے والا عوام کی عدالت میں مجرم ہوگا ۔ اسمبلیوں سے باہر جماعت اسلامی نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی مہم شروع کی ہوئی ہے اور جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف لائحہ عمل کا اعلان 23 جون کو فیصل آباد کے جلسے میں کیا جائے گا ۔ سابقہ پارلیمانی لیڈر اور نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے بھی کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ حکومت معاشی اور معاشرتی بحرانوں پر قابو پانے میں ناکام ہے ۔ پیپلزپارٹی اسمبلی سے باہر اپنی احتجاجی مہم کا باقاعدہ آغاز آج جمعہ سے نوابشاہ میں کررہی ہے ۔ اسمبلی میں بھی صورتحال خوشگوار نہیں ہے ۔ بدھ کو ایوان بالا سینیٹ میں ارکان نے لاتوں اور گھونسوں سے ایک دوسرے کی تواضع کی ۔ قومی اسمبلی میں بھی حزب اختلاف نے اپنی تقاریر میں بجٹ کو مسترد کرکے نیا بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر حزب اختلاف کی بات نہ مانی گئی تو حکومت نہیں چلنے دیں گے ۔ حزب اختلاف نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں 2018 کی سطح پر لائی جائیں ، گھی ، تیل پر ٹیکس واپس لیا جائے ، مزدور کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے کی جائے اور ایک لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے پر سے ٹیکس کی وصولی ختم کی جائے ۔ اسمبلی سے بجٹ کی منظوری آسان کام نہیں ہوگا ، اس کا اندازہ عمران خان کو بھی ہے ۔ حکومت میں عمران خان کے اتحادی ایم کیو ایم اور اختر مینگل بھی آنکھیں دکھا رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنے اتحادیوں کی خوشنودی کی خاطر بلیک میل ہورہے ہیں ۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو مزید ایک وزارت دینے کے علاوہ بھاری بھرکم کراچی بجٹ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ کراچی بجٹ ایم کیو ایم کے لیے براہ راست رشوت ہے کہ اس میں چند فیصد ہی خرچ ہوپائے گا اور بقیہ سارا ماضی کی طرح کرپشن کی نذر ہوجائے گا ۔جب حزب اقتدار کے سوا پورا ملک ہی اس بجٹ پر مضطرب ہے تو پھر حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنے میں کوئی لیت و لعل نہیں کرنا چاہیے ۔ درست بات یہی ہے کہ جب نیا پاکستان بن سکتا ہے تو نیا بجٹ بنانے میں کیا مضائقہ ہے ۔جمعرات کو تحریک انصاف کے سابق وزیر قانون اسد عمر نے بھی تیل، گھی، چینی وغیرہ پر ٹیکس بڑھانے کی مخالفت کی ہے۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اس معاملے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے عوام دوست بجٹ بنانے پر توجہ دے ۔ اس سے ملک میں انتشار کا بھی خاتمہ ہوگا اورملک دوبارہ سے ترقی کی سمت چل پڑے گا ۔ اگر حکومت نے ہٹ دھرمی دکھائی جس کا قوی اندیشہ ہے تو پھر ملک میں آئندہ دنوں میں صرف اور صرف افراتفری ہی ہوگی اور یہی ملک دشمن طاقتوں کی خواہش ہے ۔ خطے میں تیزی سے صورتحال تبدیل ہورہی ہے اور آئندہ مہینوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہوسکتی ہے ۔ ایسے میں پاکستان کو مناسب اور آزادانہ موقف اختیار کرنے کے لیے متحد ہونا ضروری ہے ۔ عالمی پس منظر میں ملک میں دہشت گردی کے بھی خطرات بڑھ گئے ہیں ۔ ملک کو متحد کرنے اور خوشحال بنانے کی ذمہ داری بہر حال عمران خان پر عائد ہوتی ہے کہ ملک کی زمام کار انہی کے ہاتھ میں ہے ۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ آئی ایم ایف کے جال میں پھنس چکے ہیں ۔ عوامی رائے کو دیکھتے ہوئے یہ ان کے پاس بہترین موقع ہے کہ آئی ایم ایف سے رسی تڑالی جائے اور عوامی امنگوں کے مطابق معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں ۔