August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

نظریہ پاکستان اور ہماری ذِمہ داری

 

نزہت منعم
ہماری خوش قسمتی کہ ہمارا تعلق اس نسل سے ہے جسے آزادی پلیٹ میں رکھ کر ملی اور ہمارری آنکھوں کے سامنے جو نسل پروان چڑھ رہی ہے اسے آزادی تمام تر زندگی کی سہولتوں کے ساتھ مل رہی ہے (الحمدللہ)۔ ایسے میں یہ یاد رکھنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے ہم نے یہ آزادی حاصل کیوں کی تھی؟ اس آزادی کے لیے کتنی قربانیاں دی گئی ہیں؟ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے؟ اور اس کے بعد ہماری اصل ذمے داری کیا ہے؟ یاد رہے بھی تو کیسے آزادی تو ہمارے لیے بس ایک جشن منانے کا نام ہے۔ ناچنے گانے ہلہ گلہ کرنے سبز کپڑے پہننے اور اب تو خود کو سبز رنگ میں رنگنے کا نام بنا دی گئی ہے۔ یہ یاد کون دلائے؟؟ معاشرتی علوم کے مضمون کا ایک چھوٹا سا سبق؟؟ اور بس؟؟ بس ایک فارمیلٹی۔ سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا ذریعہ تو وہی کچھ کررہا ہے جو اوپر بیان ہوا ہے کوئی سنجیدہ بات، کوئی فکر انگیز گفتگو کا جہاں داخلہ بند ہے۔ کتابوں سے کس کو رغبت؟
پچھلے سال 23 مارچ کو اسی میڈیا پر ایک سروے پروگرام دیکھا جس میں مختلف افرادسے یہ پوچھا جا رہا تھا کہ 23 مارچ کو کیا ہوا تھا؟ کسی نے بھی صحیح جواب نہ دیا، لیکن اس بات کا مزید تاریک پہلو یہ ہے کہ پروگرام کا میزبان جواب دینے والے افراد کا مذاق اڑاتا رہا اور آخر تک ہم اس انتظار میں رہے کہ شاہد موصوف ہی 23 مارچ کی تاریخ پر کوئی روشنی ڈال دیں گے، لیکن یا تو انہیں خبر نہ تھی یا پھر اجازت!!!
اپنے ادوار کی تاریخ بنانے کے لیے اپنے اسلاف کی تاریخ سے نسبت رکھنا۔ پاکستان کے قیام کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے۔ وہ کیا عوامل تھے جو دوقومی نظریہ کی بنیاد بنے۔
برصغیر کے مسلمانوں نے اس خطے میں بسنے والی تمام قومیتوں کی ساتھ طویل عرصہ گزارا ایک ہزار سال کی حکمرانی اور دوسو سال کی غلامی۔ غلامی کے اس طویل اور کٹھن دور نے مسلمانوں کو بہت مایوس کردیا تھا کیوں کہ ان کا کوئی مستقبل نہیں تھا، مسلمان نوجوانوں پر تعلیم اور روزگار کے دروازے بند تھے۔ ہندو مسلمانوں پر حاوی تھے۔ مسلمان سیاسی طور پر کمزور تھے۔ ان کے حقوق کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ ناراوا سلوک کیا جاتا مسلے کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ جس برتن کو مسلمان کا ہاتھ لگ جاتا اسے پلید سمجھا جاتا۔
دوقومی نظریہ کا ادراک ہر زمانے میں رہا، البیرونی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ: ’’ہندو، مسلمان کو ملیچھ سمجھتے ہیں۔ نہ اکٹھے بیٹھ کر کھا سکتے ہیں نہ پی سکتے ہیں۔ اگر اکٹھے بیٹھ کر کھا یا پی لیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پلید یا ناپاک ہو جائیں گے۔ جب وہ اکٹھے بیٹھ کر کھا پی نہ سکیں تو وہ ایک قوم کیوں کر بن سکتی ہے‘‘۔ (کتاب الہند)
1857کی جنگ آزادی کے دس سال بعد 1867ء میں بنارس کے ہندوؤں نے لسانی تحریک شروع کر دی جس کا مقصد اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری اور عدالتی زبان کے طور پر رائج کرنا تھا۔ اور عربی رسم الخط کی جگہ دیوناگری رسم الخط کو اپنانا تھا۔ کئی مسلمان رہنماؤں نے ہندوؤں کو سمجھانے کی کوشش کی ان پر واضح کیا گیا کہ اردو انڈو اسلامک آرٹ کا ایک لازمی جزو بن گئی ہے۔ کوئی لاکھ بار چاہے تو جنوبی ایشیا کی ثقافتی ورثے سے اس انمول ہیرے کو نکال باہر نہیں کرسکتے۔ سر سید احمد خان نے اس مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کیں لیکن ناکام ہوگئے آخر انہوں نے تسلیم کر لیا کہ
’’Now I am convinced that both these communities will not join whole heartedly in anything. Hostility between the two communities will increase immensely in the future. He who lives will see.‘‘
وہ جان گئے تھے زبان تو محض بہانہ ہے۔ بعد ازاں اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان ایسے افراد کا براعظم ہے جو مختلف زبانوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ہم جنس ہندوستان کے تصور کی بنیاد پر ایک آئین تشکیل دینا اس کو خانہ جنگی کے لیے تیار کرنے کے مترادف ہے اس لیے ہندوستان کے مسلمانوں کے بہترین مفاد میں ایک مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہوں ثقافتی اقدار اور مذہبی رجحانات کے باعث مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور وہ اپنی پسند کا نظام اپنانا چاہتے ہیں اس لیے الگ مذہبی اور ثقافتی تشخص کے پیش نظر ان کو ایسے نظام کے تحت زندگی گزارنے کی اجازت دی جانی چاہیے‘‘۔
قائد اعظم نے دو قومی نظریہ کی وضاحت ان الفاظ میں کی: ’’نہ ہندوستان ایک ملک ہے اور نہ ہی اس کے باشندے ایک قوم، یہ ایک برصغیر ہے جس میں ہندو اور مسلمان دو بڑی قومیں ہیں۔ میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ وہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں‘‘۔
علامہ اقبال اپنی شاعری کے ذریعے مسلسل مسلمانوں میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے اور ساتھ ساتھ مسلمان نوجوانوں کو ان کے عظیم الشان ماضی سے جوڑنے کے لیے بھی کوشاں رہے۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر اور چودھری رحمت الٰہی نے مسلمانوں کے اندر امید کی شمع روشن کی۔ اور قائد اعظم نے پاکستان کے تصور کو عملی جامہ پہنایا۔
23مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان اقبال پارک میں پیش کی گئی اس قرارداد میں دو قومی نظریہ پر روشنی ڈالتے ہوئے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ اور ہندوستان کے مسلم اقلیتی علاقوں میں ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ قرارداد مولوی فضل الحق نے پیش کی۔
آسان الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام اور اسلامی طریقہ زندگی یہ مقصد تھا پاکستان کے حصول کا۔ آزادی کی جدوجہد شروع ہوتے ہی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا تصور بھی محال ہے۔ جان، مال، عزتیں سب ہی کچھ تو قربان ہوا اس کے بعد یہ مملکت ہمیں ملی، یہ آزادی ملی۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے ناتے ہمارے نزدیک آزادی کا مفہوم ہے کیا؟ ایک مومن کی نگاہ میں آزادی اس آیت کی تصویر ہے۔ ان الصلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ ربّ العالمین۔ مسلمان صرف ایک اللہ کا غلام ہے۔ وہ آزاد ہے لیکن اللہ کی بتائی ہوئی ہدایات کا پابند ہے۔ اس دائرے سے ہٹ کر کسی آزادی کو اور کسی کی بھی غلامی کو مسلمان قبول نہیں کرتا۔ اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے۔ اسے علم ہے کہ اللہ نے یہ زندگی ایسی ہی نہیں دیدی۔
ترجمہ: نہایت بزرگ وبرتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ (سورہ الملک: 2۔1)
اس فلسفہ زندگی میں جیسے چاہو جیو کی کوئی گنجائش نہیں۔ میری زندگی میری مرضی نہیں بلکہ میری زندگی میرے رب کی مرضی ہے۔ آزادی کے اس مفہوم کی تذکیر کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اس ملک میں کن کن طریقوں سے اس آزادی کے مزے لے رہے ہیں یا انجوائے کررہے ہیں؟
اذان جو ہم دن میں الحمدللہ پانچ مرتبہ سنتے ہیں اس کی اہمیت غیر مسلم ممالک کے رہنے والے مسلمانوں سے پوچھیے جب اس آواز کو سننے کے لیے ان کے کان ترس جاتے ہیں۔ اپنی مرضی کے لباس پہننے کی اہمیت فرانس اور جرمنی کی مسلم خواتین سے جانیے جو اللہ کے ایک حکم کو ماننے کا جرمانہ دے رہی ہیں لیکن اس حکم پر عمل پیرا ہیں۔ خوراک پر تو تمام ہی غیر مسلم ممالک کے مسلمانوں کی مشکلات اور احتیاط سے سب ہی آگاہ ہیں۔ اور اگر آگاہ نہیں ہیں تو ہندوستان کے مسلمانوں سے پوچھیے، تہواروں پر چھٹیاں، رمضان میں مشکلات، ہندوستان میں گائے کا ذبیحہ اور اس حوالے سے مسلمانوں کی شہادتیں اس ماڈرن صدی کے پڑھے لکھے انسانوں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
اس موازنہ سے ہمیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہم الحمدللہ کیا کچھ انجوائے کررہے ہیں۔ لیکن جو ہمارے حالات ہیں اور جس طرح ہم نے اسلامی طور طریقوں کو پس پشت ڈالا ہے، عصبیتوں کا شکار ہوئے ہیں اور بالآخر اس کے خطرناک نتائج اپنے ایک بازو سے علیحدگی کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ اس پر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ: ’’ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا‘‘۔ اسی طرح کا ایک تمانچہ سونیا گاندھی نے بھی ہمیں مارا تھا۔ ہندوستان کی فلموں کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ریکارڈ بزنس پر سونیا گاندھی نے کہا: ’’ہم نے پاکستان کو ثقافتی محاذ پر شکست دے دی‘‘۔ ادھر ہماری غفلت کا یہ عالم کے آج کی نسل جانتی بھی نہیں کہ بنگلا دیش بھی پاکستان تھا۔ ہمارے ملک کے کچھ دانشور تہذیبوں کے درمیان فرق کو مٹا کر دو قومی نظریہ کو ختم کرنے کی باتیں کررہے ہیں، وہ بھول رہے ہیں کہ ہماری تہذیب ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
دو قومی نظریہ ایسی زندہ حقیقت ہے جس کا تجربہ ہر اس ملک کے مسلمانوں کو ہو رہا ہے جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔ برما، چائنا، بھارت، سری لنکا، جہاں مسلمانوں پر تشدد، جان واملاک کا نقصان، بستیوں کو نذر آتش کردینا عام بات ہے۔ جدید دنیا کا حال بھی کچھ اچھا نہیں انسانی حقوق اور شخصی آزادی کے دعوے مسلمان عورت کے دو بالشت کے اسکارف کے آگے ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم ایک نظریاتی قوم ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے جداگانہ تشخص کے جواز کی خاطر ایک ایسا معاشرتی و سیاسی نظام قائم کریں جس میں شریعت قومیت کے ہر پہلو میں نمایاں ہو۔ یہی وعدہ ہم نے اس مملکت کے حصول کے لیے اللہ سے کیا بھی تھا۔ ہمارا مقصد محض آزادی کا حصول نہیں تھا بلکہ آزادی کے ساتھ اسلامی اصولوں پرعمل کرنا تھا تاکہ دنیا بھی اسلام کی حقانیت اور انسانیت کے مسائل کے حل کا مشاہدہ کر کے اسلام کی طرف راغب ہو۔ نہ کہ ہم ان کی تہذیب کے نقال بن کر اپنا بھی نقصان کر بیٹھیں۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص سے ترکیب میں قوم رسولؐ ہاشمی