August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

پاکستان ! ہماری پہچان

 

صائمہ اطہر


یوم قراردادِ پاکستان کی اہمیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ اس دن پاکستان کے تصور نے ایک ایسی حقیقت کا روپ دھارا کہ ایک عالم حیران رہ گیا۔ پاکستان کا قیام اسی نشانِ منزل کا ثمر ہے جہاں سے ہم نے بابائے قوم قائد اعظم کی قیادت میں سفر شروع کیا تھا ۔ ایک پولش(polish)مفکراسٹینس لا (StainsLaw)نے چھٹی دہائی میں ایک عجیب بات کہی تھی ۔(آپ حقائق کی طرف سے تو آنکھیں بند کرسکتے ہیں لیکن یادیں نہیں مٹاسکتے۔) ہماری تاریخ بھی تحریکِ قوم پاکستان کے شہیدوں اور جاں نثاروں کی طرف سے کبھی آنکھیں بند نہیں کرسکتی ۔ پاکستان ایک ایسا اچھا اور خوب صورت ملک ہے جسے اللہ دنیا کی ہر نعمت سے نوازا ہے۔ لیکن افسوس بعد میں جو حالات رونما ہوئے، اس سے پاکستان کے چاند ستاروں کی چمک ماند پڑی تو پڑی، ہم اپنی پہچان بھی کھوتے جارہے ہیں۔ حالاں کہ پاکستان ہی ہماری پہچان اور ہماری اساس ہے۔ قائداعظم پاکستان کو دنیائے اسلام کی جدید ترین فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ جس میں ہر پاکستانی بلا تفریق، آزادی کی فضا میں سانس لے سکے اور ملک و قوم کی ترقی میں خود کو برابر کا شریک سمجھے،نہ کسی کو قلت تعداد کا احساس ہواور نہ کثرتِ تعداد پر گھمنڈ۔ یہ ارشاداتِ قائد اعظم اور قراردادِ مقاصد سے انحراف کا ہی نتیجہ ہے کہ جمہوریت کے لیے بنائے گئے پاکستان میں عموماََ مارشل لا راج رہتا ہے۔

قائداعظم مسلمانوں کے لیے ایسی ماڈرن ریاست کے خواہاں تھے جہاں لوگ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہیرے کی مانند چمکتے نظر آئیں اور جو اپنے نظم وضبط ، اتحاد و قوت سے دنیا میں تیسرا بلاک قائم کرسکیں۔ آزادی کوئی جامد چیز تو ہے نہیں کہ چھوئی ،چکھی یا سونگھی جاسکے۔ یہ تو ایک احساس ہے۔ معاشی،معاشرتی اور سماجی، غلامی میں اس احساس کا زندہ رہنا مشکل ہے۔ اس احساس کو تقویت بخشنے کا طریقہ معاشی انصاف ،سماجی مساوات اور قومیت کے شعور کی پرورش ہے۔ ایک دوسرے میں کیڑے نکالنے ،بولیوں اور لباس کے جھگڑوں ،علاقائی عصبیت پھیلانے سے قوم اور ملک دونوں کو نقصان ہوگا۔

اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر مسلمانوں کے شان دارماضی پر ایک نظر ڈالیں تو یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ ہم جو اسلام اور کلمے کی بنیاد پر ملک حاصل کرکے بیٹھے ہیں، آزادی سے سانس لے رہے ہیں اور پھر اسی ملک کو توڑنے کی باتیں بھی کرتے ہیں، تو ہم سے تو لاکھ درجے اچھی وہ قوم ہے جس نے مسلمانوں کے فن وہنر کو سنبھال کے رکھا ہے کہ اگر یہ عمارتیں، یہ محّلات ختم کردیے جائیں تو ہمارے ملک کا حسن وجمال بھی ختم ہوجائے گا۔ اسپین پرایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ادوارمیں جتنی بھی تعمیرات ہوئیں انہوں نے ان کو آج تک حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔چاہے وہ قصرِ الحمر ہو یا جامع مسجدقرطبہ۔ اور جامع مسجد قرطبہ کی تویہ بات ہے وہاں جس دن مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہوا، اس کے دوسرے ہی دن مسجد قرطبہ کا ایک حصہ گرا کے فوراََ چرچ کا افتتاح کیا گیا کہ کہیں کوئی مسلمان آکر یہاں نماز نہ پڑھ لے یا اذان نہ دے دے۔ لیکن جب گورنر اافتتاح کرنے آیا تو مشہور مورخ ڈوزی کے مطابق، گورنر نے کہا۔’’یسوع مسیح کی قسم! یہ تم نے کیا کیا؟ مسلمانوں کے پاس جوعلم وہنر ہے وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم ایسی خوبصورت ،شان دارعمارتیں ، محلّات اور مساجد صدیوں تک نہیں بناسکتے جو یہ بنا گئے۔ تم ان کا حُسن ختم نہ کرو اور ان کو ایسے ہی رہنے دو۔‘‘تو پھر وہاں یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر یہ مسجد تین حصہ بھی قائم رہی تو ایسا نہ ہو کہ یہاں کوئی مسلمان آکر نماز پرھ لے یا اذان دے دے ؟ چناںچہ اسی خدشے کی بنیاد پر گورنر نے اسی وقت ایک آرڈیننس جاری کیا کہ آج اس مسجد قرطبہ میں نہ نماز ادا کی جائے گی نہ ہی اذان دی جائے گی۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جس نے (علامہ اقبال) مملکت خداداد کا خواب دیکھا ، اسی نے قرطبہ کی جامع مسجد میں اذان بھی دی اور نماز بھی ادا کرکے آیا۔

ہم سے اچھی تو یہ قومیں ہیں جنہوں نے ہمارے ورثے کو قائم و دائم رکھا ہوا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ اپنا ملک ہوتے ہوئے بھی اس کی صحیح طرح سے حفاظت نہیں کر پارہے ہیں اور بھول رہے ہیں کہ پاکستان ہی ہماری پہچان ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کی ترقی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ چاند پرانسان کی چہل قدمی پرانی بات ہوئی۔ اب تومریخ کے سفر کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔خلانور دی کے نئے نئے ریکارڈ قائم ہورہے ہیں۔ طب اور سائنس کے انکشافات سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ انسان کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔ افسوس! صد افسوس! ہمارے اتنے قدرتی وسائل ہیں مگر ہم ابھی تک ترقی کی دوڑ میں گھُٹنوں گھُٹنوں چل رہے ہیں۔ وہ بھی رک رک کر،ہر ادارہ لوٹ ماراور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ قائداعظم اور شہید ملت کے بعد قوم قد آور، با اصول اور باکردار قائدین سے محروم ہوگئی۔ مارشل لا کی پابندیوں نے کردار سازی کا سلسلہ ہی منقطع کردیا ۔ حلال وحرام ،جائز و ناجائز کے امتیازات بے معنی ہوچکے۔ سب پیسے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

پاکستان کو نمائشی اور فرمائشی قیادت کی نہیں بلکہ ایسی قیادت کی ضرورت ہے۔ جس کی مثال حضرت قائد اعظم نے پیش کی تھی۔ ہمارے یہ ملک ہمارا گھربار،مال و دولت اور عزت وقار ہے۔ کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ میرا گھرسلامت رہے ،وطن کی پروا نہیں ۔آزاد وطن ہی ایک عزت کا ٹھکانا ہے۔

یقین کیجئے !ہماراملک ایک عظیم ملک ہے اور یہی عظیم ملک ہماری پہچان ،ہماری اساس،ہماری محبت ،عزت اور ہمارا سب کچھ ہے۔اس لیے اس ملک کی قدرتی نعمتوں اور دوسری بے شمار خوبیوں کو مدنظر رکھ کر صرف اور صرف پاکستان کی ترقی کے لیے سوچیے اور اسی کے لیے اپنا آپ وقف کردیں ۔