August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

تعمیرِ پاکستان ۔ ۔ ۔ عہدِ حاضر کی آواز

 

سلیم اللہ شیخ


23مارچ 1940ء جب مسلمانانِ ہند نے لاہور کے سابقہ منٹو پارک اور موجودہ اقبال پارک میں اپنے ایک آزاد اور الگ وطن کے لیے ایک قرارداد پیش کی، جس کو قرارداد پاکستان کہا جاتا ہے۔ قرار داد پاکستان(جسے قراردادِ،لاہور بھی کہا جاتا ہے)آل انڈیا مسلم لیگ کے ستائیسویں اجلاس میں شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی جسے اکثریت کے ساتھ منظور کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمائی۔ یہ قرارداد الگ وطن کے لیے مسلمانوں کی کئی سالہ جدوجہد کا تسلسل تھی۔ قرارداد پاکستان اور قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمان انگریزوں اور ہندؤں کی غلامی سے آزاد ہوسکیں اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطہ زمین حاصل کرنا جہاں مسلمان اپنے دین پر، اپنی شریعت پر آسانی کے ساتھ عمل پیرا ہوسکیں۔

اس قرارداد کے بعد مسلمانانِ ہند نے سات سال کے عرصے میں ہی اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کرلیا تھا۔ یہاں ہمیں غور کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کا الگ وطن حاصل کرنے کا مقصد کیا تھا ؟ کیوں اتنی جووجہد کی جارہی تھی؟ قیام پاکستان کے لیے کیوں ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کردیں؟ ہزاروں عورتوں اور بچیوں کی عصمتوں کو کیوں پامال کیا گیا؟ ہمارے بزرگوں کی ساری جدوجہد اور قربانیوں کا مقصد یہ تھا کہ انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کی جائے، اور ایک ایسا الگ خطہ زمین حاصل کیا جائے جہاں مسلمان اپنے دین اور شریعت کے مطابق آزادی سے رہ سکیں اور اس خطہ زمین پر شرعی قوانین کا نفاذ ہو لیکن افسوس!

صدافسوس کہ قیام پاکستان کے ایسے لوگ برسر اقتدارآئے جنہوں نے مسلمانوں کی ان تمام قربانیوں کو،ان کی جدوجہد کو اور قیام پاکستان کے مقاصد کو فراموش کردیا۔ چاہے فوجی حکمران ہوں یا جمہوری حکمران، دونوں ہی اسلامی نظام کے نفاذ کے بجائے اپنے ذاتی مفاد اور معمولی فائدے کی خاطر ملک کی خود مختاری کا سودا کرتے رہے اور ملک کو رفتہ رفتہ ایک بار پھر غلامی کی جانب دھکیلتے رہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں اسلامی قوانین کے بجائے مغربی اور سیکولر قوانین کو فروغ دیا گیا۔ قصہ مختصر کہ قیام پاکستان کے بعد ایسے طبقات برسرِ اقتدار آتے گئے جن کا رنگ وروپ اور چمڑی تو ہم جیسی ہی تھی لیکن عادات واطوار، سوچ اور نظریات سابق آقاؤں جیسے ہی تھے یعنی گورے انگریزوں کے بعد کالے انگریز یہاں اقتدار پرحاوی ہوگئے۔

انہی عوامل کی باعث ہمارا مشرقی بازو ہم سے جدا ہوگیا۔ وہی بنگال جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تھا،وہی بنگال جس نے قیام پاکستان کے حق میں سب سے پہلے آواز اٹھائی اور ووٹ دیا، اسی مشرقی پاکستان کو حکمرانوں اور فوجی جرنیلوں نے اپنی نااہلی کے باعث قیام پاکستان کے محض چوبیس برس بعد ہی ہم سے جدا کردیا۔اگر حکمران اہل بنگال کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور یہ بنیادی بات فراموش نہ کردی جاتی کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان جو واحد رشتہ ہے وہ کلمہ لاالہٰ الااللہ ہے۔اسی کلمے کی خاطر انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد کی تھی لیکن حکمرانوں نے جب اسی کلمے کو اور قیام پاکستان کے مقاصد کو ہی پس پشت ڈال دیا تو اسی کی بنیاد پر ہی سقوطِ ڈھاکا سانحہ پیش آیا۔ حکمرانوں اور مفاد پرست سیاستدانوں نے اپنے مفاد کی خاطر اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں لسانیتِ عصبیت ،فرقہ وارکو فروغ دے کرعوام کو آپس میں باہم دست و گربیان کردیا۔ آج کہیں سندھودیش کا نعرہ ہے تو کہیں آزاد بلوچستان کی گونج سنائی دیتی ہے،کوئی پشتونوں کے حقوق کی بات کرتا ہے تو کوئی مہاجروں کے حقوق کی بات کرتا ہے ۔ یہ ساری لسانیت ،اور تعصب انہی کالے انگریزوں نے اپنے مفادات کے تحت پھیلایا ہے۔

ہمارے بزرگوں نے ہندؤں کے’’’ایک قومی نظریے‘‘اور ہندؤں کی تہذیبی اور ثقافتی یلغار سے کود کو اور اپنی نسلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک الگ وطن حاصل کیا تھا لیکن آج گھر گھر میں ہندو ثقافت پہنچی ہوئی ہے۔انڈین فلمیں ،انڈین گانے ،انڈین ڈرامے کیبل اور ڈش کے ذریعے ہر گھر میں پہنچ رہے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ پاکستان کے کئی نجی چینلز بڑے دھڑلے سے انڈین ڈرامے ، اور فلمیں پیش کر رہے ہیں ۔ بھارتی اور مغربی تہذیب اور کلچر کو فروغ دیا جارہا ہے ۔آج مملکت پاکستان میں ہر کلچر اور تہذیب کی بات ہوسکتی ہے۔لیکن اسلامی تہذیب کی بات نہیں ہوسکتی ،سیکولرازم ،کمیونزم ،سوشل ازم غرض ہراز م کی بات ہوسکتی ہے سوائے اسلام ازم کے!آج کوئی اسلام کے قوانین کی بات کرتا ہے تو اسے بنیاد پرست ،قدامت پسند،دقیانوسی خیالات کا کہہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے۔ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر الگ وطن حاصل کیا اور ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو ایک ’’تاریخی غلطی ‘‘کہا جاتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کی روحیں آج اپنی قبروں میں تڑپتی ہوں گی جب یہ کہا جاتا ہے’’یہ سرحدی لکیریں ختم کردینی چاہئیں ۔‘‘آج قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ کی روحیں تڑپ جاتی ہوں گی جب یہ کہا جاتا ہے کہ ’’قائداعظم ایک اسلامی مملکت کے بجائے سیکولر ملک بنانا چاہتے تھے۔‘‘ایسا کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر سیکولرآئین کو ہی فروغ دینا تھا تو پھر الگ ملک کی ضرورت ہی کیا تھی ؟

ہمارے بزرگوں نے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کر کے ایک خطہ زمین حاصل کیا اور ہمارے نا اہل حکمرانوں ، سیکولر جرنیلوں ،مفاد پرست سیاست دانوں اور لیڈروں نے اس کو ایک بارغیروں کی غلامی کے شکنجے میں دے دیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ہم انگریزوں کے غلام تھے اب ہم امریکیوں کے غلام ہیں، پہلے صرف انگریز ہمارا آقا تھا لیکن اب نہ صرف امریکا انگریز اور ہر یورپی ملک اور گوری چمڑی والا ہمارے آقاؤں میں شمار ہوتا ہے۔اور ایک فرق یہ ہے کہ پہلے انگریز نے خود آکر یہاں حکومت کی تھی اب انگریز اور امریکا خود یہاں نہیں ہے بلکہ ان کے تربیت یافتہ ایجنٹ اور پالتوغلام یہاں اقتدارسنبھالتے ہیں ۔ جو کہ اپنے آقاؤں کی ہی پالیسی اور ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہاں سے ایک پروسی اور مسلمان ملک کے معزز سفیر کو بلاجواز گرفتار کرکے امریکی آقاؤں کے سپرد نہ کیا جاتا ۔!اگر ایسا نہ ہوتا ہمارے ہی ملک میں دن دیہاڑے دو نوجوانوں کو قتل کرنے والا امریکی ریمنڈ ڈیوس گرفتار ہونے کے بعد اتنی آسانی سے رہا ہو کر ملک سے باہر نہ جاتا ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ہمارے ملک پرنیٹو افواج اور امریکی ڈرون طیارے حملے نہ کرتے ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ڈرون حملوں کی صرف مذمت نہ کی جاتی بلکہ ان کو مار گرایا جاتا ۔

آج پھر 23مارچ کا تاریخ ساز دن ہمیں اس بات کا پیغام دے رہا ہے کہ جس طرح سترسال قبل ہمارے بزرگوں نے اتحاد و یکجہتی کے ساتھ اسلامی نظریاتی مملکت کے لیے پختہ عزم و ارادے سے ایک نئی جدوجہد کا آغاز کیا تھا جس کا صلہ اللہ رب العزت نے سات سال بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صورت میں دیا۔ اسی طرح موجودہ کٹھن حالات میں پاکستان کی سربلندی کے لیے اپنا پھرپور کردار ادا کریں اور امریکا اور اس کے ایجنٹوں کی اسلام مخالف سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے اسلامی انقلاب کی جدوجہد میں عملی کردار ادا کریں۔