September 23rd, 2019 (1441محرم23)

اسلامی اقدار کے تحفظ کی مہم

کہا جاتا ہے کہ آج کل میڈیا کا دور ہے یہی وجہ ہے کہ ہر شعبے نے میڈیا کی دوڑ میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔ حکمران میڈیا کے منہ زور گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی باگیں اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ لیکن میڈیا سرکشی سے بڑھ کر بے مہار ہوتا جارہا ہے ایسے میں ہر دو جانب توازن قائم کرنا معاشرے کے سنجیدہ طبقات کا کام ہے اور یہ ذمے داری نسلوں کی پرورش کرنے والی خواتین نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے پلیٹ فارم سے ادا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ حلقہ خواتین نے میڈیا بنائے معاشرہ کے عنوان سے مہم چلانے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد معاشرے پر ذرائع ابلاغ کے اثرات سے عوام کو آگہی دینا اور اصلاح معاشرہ کی تدابیر کا شعور دینا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہر آنے والے دن ترقی اور جدت کے نتیجے میں عوام تک نئی ٹیکنالوجی پہنچ رہی ہے۔ فوائد کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کو تباہ کرنے والا بہت سارا مواد بھی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نوجوان نسل کے ہاتھوں میں پہنچ رہا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ پابندیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ نوجوان نسل کو اور اس سے زیادہ ان کے والدین کو یہ آگہی دینی ہوگی کہ ان کی نسل کو کب کس چیز کی ضرورت ہے۔ کس بچے کو ٹی وی، کمپیوٹر اور موبائل کب دینا ہے۔ اس کی ذہنی صلاحیت کیا ہے۔ اس کو دین کی بنیادی تعلیمات دے کر آنے والے طوفان کے سامنے بند باندھنا والدین کی ذمے داری ہے اس کام کے لیے وہ روز محشر خدا کے سامنے جوابدہ بھی ہوں گے۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ دیرپا مثبت اور منفی نقوش مرتب کرتے ہیں۔ ہم میڈیا کے ذریعے معاشرے کی جو تصویر پیش کرتے ہیں وہی کچھ عرصے میں معاشرے کا عکس بن جاتا ہے۔ یہ نہایت اہم تجزیہ ہے اور آج کل کے ٹی وی ڈراموں کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل ہمارا میڈیا پاکستانی معاشرے کو بے شرمی، بے حیائی اور اخلاقی اقدار سے عاری بنانے کی مہم میں مصروف ہے جو یقیناً کسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے اس حوالے سے مہم کا بروقت اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ دس روزہ مہم ہے لیکن اسے سارا سال جاری رہنا چاہیے۔ اس مہم کے دوران بینرز آویزاں ہوں گے۔ کانفرنس، سیمینار وغیرہ منعقد ہوں گے، مضامین بھی شائع کیے جائیں گے لیکن اس کا کنٹرول حکومت یا وزارت اطلاعات کے پاس نہیں اس کا کنٹرول بھی عوام کے پاس ہے۔ والدین ایسے تمام پروگراموں اور مہمات پر گہری نظر رکھیں جو اسلامی اقدار اور روایات پر حملہ آور ہیں اور ایسے ٹی وی چینلز کا نہ صرف بائیکاٹ کریں بلکہ اپنے کیبل آپریٹرز سے ایسے چینل اپنے پاس سے نکلوا دیں۔ اسی طرح بے ہودہ اشتہارات کے ذریعے کپڑے فروخت کرنے یا خواتین کی تصاویر کے ذریعے مصنوعات فروخت کرنے والوں کا مارکیٹوں میں جا کر بائیکاٹ کریں۔ ان کا کپڑا نہ خریدنے کا اعلان کیا جائے۔ دکانداروں کو شرم دلانی چاہیے۔ معاشی نقصان پر بڑے سے بڑا تاجر بھی سیدھا ہو جاتا ہے۔ اگر مسلمانوں کے معاشرتی خزانوں، مذہبی روایات اور اخلاقیات پر حملہ کیا جائے گا تو ہمارا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کی معیشت تنگ کردی جائے۔ ’’میڈیا بنائے معاشرہ‘‘ مہم چلانے پر جماعت اسلامی خواتین مبارکباد کی مستحق ہے۔ذرائع ابلاغ میں اخبارات سے زیادہ برقی ذرائع متاثر کرتے ہیں جو بیک وقت سماعت اور بصارت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن ان سے زیادہ خطرناک دشمن وہ ہے جسے سوشل میڈیا یا سماجی ذریعہ ابلاغ کا خوشنما نام دیا گیا ہے۔ لیکن بیشتر سوشل میڈیاز کا تعلق سماج یا کم ازکم پاکستانی سماج سے نہیں۔ اس پر قابو پانا آسان نہیں ہے گو کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے گزشتہ بدھ کو اعلان کیا ہے کہ ’’روایتی میڈیا پر قابو پانے کے بعد اب سوشل میڈیا کی باری ہے۔‘‘ روایتی میڈیا پر جس طرح قابو پایا گیا ہے اس کا مقصد کوئی اصلاح نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کو حکمرانوں پر تنقید کرنے سے روکنا بصورت دیگر سزا دینا ہے۔ فواد چودھری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف آئندہ ہفتے بڑا کریک ڈاؤن ہوگا۔ نفرت پھیلانے والوں کو قابو کرنا بہت ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ان وزیروں، مشیروں پر بھی قابو پایا جائے جو نفرتیں پھیلا رہے ہیں.                                                                                                                                                                                                                                بشکریہ جسارت