September 23rd, 2019 (1441محرم23)

ہیش ٹیگ۔۔’’می ٹو!‘‘۔

افشاں نوید

چند ہفتے قبل وہ ایک ’’جشن‘‘ کی روداد انتہائی ڈوبے ہوئے لہجے میں سنا رہی تھی کہ بالکل ایسا جشن تھا سڈنی میں جیسا پاکستان میں لوگ ٹی ٹوئنٹی کا ورلڈ کپ جیتنے پر مناتے ہیں۔ بڑے بڑے چوراہوں پر اسکرین لگائی گئی تھیں۔ سارے بڑے ہوٹل بک تھے، جشن منانے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں بالخصوص صہیونی سرمایہ داروں کا کثیر سرمایہ لگا ہوا تھا”Say Yes” کی اشتہار بازی پر۔ فیس بُک کھولو تو “Say Yes” کی تکرار، واٹس ایپ اور ٹوئٹر ہر جگہ ایک ہی بحث کہ اِس بار ریفرنڈم کا نتیجہ ہر صورت میں مثبت آنا چاہیے، کیونکہ ماقبل عوام مسترد کرچکے تھے اس مطالبے کو، مگر اِس بار اس قدر کثیر سرمایہ کاری کی گئی تھی ذہن سازی پر کہ نتائج منفی آنے کی توقع کم ہی تھی۔ نتائج کی تاریخ کا اعلان ہوا تو نتیجے کے دن کو اس طرح تزک و احتشام سے منانے کی تیاریاں کی گئیں جیسے کوئی قومی تہوار ہو۔ نوجوان ٹولیوں کی شکل میں اپنے گٹار اٹھائے نکل آئے۔ وہ چہل پہل تھی کہ پاکستان میں عید کی یاد تازہ ہوگئی اور بالآخر ایک منتظر قوم نے نتیجہ سن لیا۔ نتیجہ یہ تھا کہ 49 فیصد نے ’’نہیں ‘‘ میں جواب دیا اور 51 فیصد نے ’’ہاں‘‘ میں۔ اس طرح ’’ہم جنس پرستی‘‘ کو آسٹریلیا میں قانون کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس وقت پوری قوم بے خودی اور شدتِ جذبات سے مغلوب ہوکر سڑکوں پر نکلی ہوئی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ اب تک جو کچھ ’’انڈر دی کارپٹ‘‘ ہورہا تھا، اب سماج میں اس کو قانونی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ امریکا سمیت بیشتر یورپی ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ وہ عملِ قومِ لوط علیہ السلام جس کو قرآن نے عبرت دلانے کے لیے بیان کیا کہ اس ایک عمل کی وجہ سے قوموں پر عذاب آسکتا ہے، آج کی دنیا اسی ’’قدیم جہالت‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے جدیدیت کا نقاب اوڑھ کر۔ ہم جن ملکوں میں حصولِ تعلیم یا تلاشِ معاش کے لیے اپنے بچوں کو بھیجنا زندگی کی معراج سمجھتے ہیں، یہ ان ملکوں کی اخلاقیات ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے کہ دریا کے حوالے کرکے ہم کہیں کہ پانی نہ لگے۔ ایک غیرفطری عمل کو قانون کا درجہ ملنے پر جہاں قومی جشن منایا جائے، وہاں کی اخلاقیات کو ہم کس ترازو میں تول سکتے ہیں؟

یہ خدا سے بغاوت کا اعلان کرنے والی دنیا…’’انکاریت‘‘ کے سلوگن کی طرف بڑھتے ہوئے معاشرے دنیا بھر میں اہلِ ایمان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ باقی سارے چیلنج اسی کے ذیل میں آتے ہیں۔

ایک بچی زینب کے واقعے کا جس طرح میڈیا نے ہفتوں چرچا رکھا، وہ زینب کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ اس کے پس منظر میں ایسی سماجی، نفسیاتی فضا تشکیل دینا بھی مقصود تھی کہ حیا کے تصور پر ضرب لگائی جائے۔ نوجوان انہی موضوعات کو ڈسکس کرتے رہیں، سوچتے رہیں، سوشل میڈیا پر اسی موضوع کی بازگشت رہے۔ اگر میڈیا کو سماج سے ہمدردی تھی تو وہ نامناسب اشتہارات پر پابندی لگاتا، جن چینلز سے بھارتی فلمیں نشر کی جاتی ہیں ان پر پابندی لگائی جاتی۔ کتنے بے ہودہ اشتہارات ہیں مختلف کریموں کے، اور ٹیلنٹ ایوارڈز کے نام پر جو فحاشی کا سیلاب امڈتا ہے، کیٹ واکس کی جس طرح تشہیر کی جاتی ہے میڈیا کے ذمہ داران اس پر سر جوڑ کر بیٹھتے، کوئی ایک پہل کرتا اور اپنے چینل پر چلنے والے ڈراموں کے موضوعات پر بھی نظرثانی کرلیتا۔ مگر میڈیا نے اپنے مقاصد حاصل کرلیے۔ مختلف عوامی حلقوں اور نام نہاد دانشوروں کی طرف سے یہ مطالبات زور پکڑنے لگے کہ جنسی تعلیم کو اسکول کے نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ بات ایک قدم اور آگے بڑھی کہ عورت ہمیشہ سے جنسی ہراسگی کی زد میں ہے، اس لیے کہ سماج میں معیوب سمجھا جاتا ہے اس موضوع پر بات کرنا… لہٰذا ذہنی بیمار اور شقی القب مردوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عورتیں بے جا خوف سے باہر نکلیں اور ساری دنیا کو بتائیں کہ اُن پر کب کسی نے غلط نظر ڈالی اور انہیں جنسی ہراساں کرنے کی کوشش کی۔دنیا میں ایسا کون سا فرد ہے جس کے ساتھ ماضی میں تکلیف دہ واقعات نہ ہوئے ہوں؟ مثلاً کسی قریبی عزیز کا صدمہ، کسی امتحان میں ناکامی، مالی نقصانات، کسی شدید خواہش کا پورا نہ ہونا، اچانک کچھ چھن جانا، لوگوں کے ناپسندیدہ اور تکلیف دہ رویّے، اچانک بیماری کی تشخیص ہونا وغیرہ وغیرہ… کچھ لوگ ماضی کے تکلیف دہ ہونے کو اتنا حاوی کرلیتے ہیں کہ اُن کا حال اور اس سے جڑا مستقبل بھی تاریک ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ماہرینِ نفسیات کہتے ہیںکہ جتنا ممکن ہو نہ ماضی کی تکلیف دہ باتوں کو یاد رکھیں، نہ کسی کے سامنے دہرائیں، کیونکہ تکلیف دہ ماضی ہماری قوتِ عمل کو متاثر کرتا ہے۔

’’ہیش ٹیگ می ٹو‘‘ یعنی جنسی طور پر مجھے بھی ماضی میں کبھی نہ کبھی کسی نے ہراساں کیا ہے، لہٰذا آپ سوشل میڈیا پر اس ٹرینڈ میں شامل ہوکر بتائیں کہ آپ کے ساتھ کب ایسا ہوا۔ بھارت میں اس مہم کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔ پوری دنیا کی عورتوں میں ہیش ٹیگ مقبول ہوا اور وہ دنیا کو یہ بتانے لگیں کہ ان کو کب کس نے ہراساں کیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہالی ووڈ، بالی ووڈ سمیت دنیا بھر کی خواتین اپنے ماضی کو کریدنے لگیں کہ کب ان پر کس نے غلط نظر ڈالی یا کسی درجے کی مذموم کوشش کی۔ دلچسپ امر یہ کہ پاکستان میں بھی خواتین کی بڑی تعداد نے اس ہیش ٹیگ کو استعمال کیا اور یہ ٹاپ ٹرینڈ نظر آیا۔

پاکستان کے ایک معروف روزنامے نے دو روز قبل ایک صفحہ ’’می ٹو‘‘ کے لیے مختص کیا اور این جی اوز کی نمایاں شخصیات اور گلیمر کی دنیا سے تعلق رکھنے والی خواتین کے انٹرویوز اس میں شامل کیے۔ ان سب کی مشترکہ رائے یہ تھی کہ یہ بڑی خوش آئند تبدیلی ہے،اس لیے کہ خواتین ’’ہراسمنٹ‘‘ (Harassment)کے مفہوم ہی کو نہیں جانتیں۔ اگر کوئی آپ کے ڈائی کیے ہوئے بالوں کے کلر یا آپ کی نیل پالش پر کمنٹ کرتا ہے تو یہ بھی ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ بیشتر خواتین مہم کے دوران ٹوئٹ کرتی رہیں کہ انہیں بچپن میں کب کسی مالی، کسی ڈرائیور، کسی چوکیدار نے گمراہ کرنے کی کوشش کی، کب کسی کلاس فیلو نے حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کی وغیرہ وغیرہ۔

سوال یہ ہے کہ کیا مسئلے کا ادراک ہوجانا یا اس کی تشہیر کردینا بجائے خود مسئلے کے حل کا سبب بن سکتا ہے؟ مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ عورتوں کے اعتراف کرلینےاور ساری دنیا کو بتادینے سے کیا اس ذہنیت کے مرد سدھر سکتے ہیں؟ یقینا نہیں۔ اس کے لیے کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ نصاب میں اسلامی تعلیمات کو شامل کرنا، اساتذہ کی تربیت، جہالت کا خاتمہ، فحش ویب سائٹس پر پابندی، ایسے ٹی وی اشتہارات اور ہورڈنگز پر پابندی جو فحاشی پھیلانے میں کوئی کردار ادا کررہے ہوں۔ ان میں سے کوئی قدم تو نہیں اٹھایا جائے گا مگر مغرب کی نقالی میں ایک مسلمان عورت بھی ’’می ٹو‘‘ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ساری دنیا کو وہ بے حیائی کی باتیں بتانے نکل کھڑی ہوئی جس کا تذکرہ بھی باحیا گھرانوں میں ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

مغرب میں خاندانی نظام کے جو تارو پود بکھر چکے ہیں اب اس گھر کے قلعہ کی دوبارہ تعمیر ناممکن ہے۔ وہاں کے سماج میں جب کسی لڑکی کا بوائے فرینڈ اس کے ساتھ بے وفائی کرتا ہے، یا کوئی عورت کسی مرد کی بے نیازی پر اس سے بدلہ لینا چاہتی ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیتی ہے کہ اس مرد نے فلاں وقت مجھے جنسی ہراساں کیا، اور عدالت معاوضے میں اسے مطلوبہ رقم دلوانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک واقعہ اخبارات کی زینت بنا کہ ایک ریٹائرڈ امریکی جج پر ایک خاتون نے کئی عشرے قبل جنسی ہراسگی کا الزام لگا کر بھاری معاوضہ طلب کیا۔ جب صحافیوں نے سوال کیاکہ وہ اتنے عرصے بعد ایسا کیوں کررہی ہے؟ بروقت عدالت کیوں نہ گئی؟ تو اس نے کہا کہ اس وقت ریٹائرمنٹ پر اس کو اتنی رقم ملی ہے کہ یہ میرا ہرجانہ بآسانی ادا کرسکے گا۔ اُس معاشرے میں یہ بھی کاروبار کی ایک شکل ہے، اور بیشتر صورتوں میں قانون عورت ہی کا ساتھ دیتا ہے اور مرد معاوضے کی ادائیگی پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں یہ ہے ہمارا آج۔ سکڑتی ہوئی دنیا میں فکر ہونی چاہیے اپنے اور آئندہ نسلوں کے ایمان کو بچانے کی۔ اس کے لیے شعوری اقدامات اٹھانا ہوں گے اور عزم مصمم کرنا ہوگا کہ ’’آئو بنائیں سب مل کر…آج سے بہتر اپنا کل‘‘۔