September 22nd, 2019 (1441محرم22)

کیا بھارتی سفاکی کو روکنے والا کوئی نہیں؟

 

ہر گزرتے دن کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ دہشت گردی کو روکنے کے نام پر بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن کیا ہوا ہے اور تلاشی کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں وہی گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں شروع کیا ہوا ہے ۔ بھارتی حکومت نے پہلے ہی کسی بھی فرد کو بلاجواز اور کسی عدالتی کارروائی کے بغیر حراست میں رکھنے کا قانون منظور کیا ہوا ہے جس کے تحت کئی درجن افراد کو روز پابند سلاسل کردیا جاتا ہے اور پھر ان کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ بھارتی فوج اسی پر بس نہیں کرتی بلکہ پیلٹ گن کا اندھا دھند استعمال کیا جاتا ہے جس کے باعث کشمیریوں کے چہرے داغدار ہوگئے ہیں اور اکثر کی بصارت ہی چلی گئی ہے جبکہ روز کئی افراد جام شہادت نوش کرتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر پر پابندی عاید کی گئی تھی ۔ اب اطلاع آئی ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر بھی پابندی عاید کرکے اس کے رہنماؤں کو پابند سلاسل کردیا گیا ہے ۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جس بہیمیت اور سفاکی کا مظاہرہ کررہا ہے ا س کی وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر کوئی بھی کسی بھی درجے میں اس کو روکنے والا نہیں ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں اور وہ پاکستان کے نام پر قربانیاں دے رہے ہیں اس لیے یہ پاکستان ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے اور کشمیری حریت پسندوں کو بھارتی استبداد سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب نے اسرائیل اور بھارت کے مظالم کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے اور فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو اسرائیل اور بھارت کا حق تسلیم کرلیا ہے ۔ اب بھارت اور اسرائیل چاہے جو کرتے پھریں ، پاکستان سمیت دنیا کے سارے ممالک ان کے ساتھ تعلقات میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ۔ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا سنگ میل طے کرتے ہیں اور بھارت کی خوشنودی کے لیے دنیا کا ہر کام کرنے کو تیار ہیں ۔ حتیٰ کہ متحدہ عرب امارات میں ہندوؤں کی قلیل تعداد کے باوجود وسیع و عریض مندر بھی تعمیر کردیا گیا ہے ۔ اصولی طور پر مندر کے لیے اتنی بڑی زمین کی ضرورت نہیں ہوتی ہے جتنی بڑی متحدہ عرب امارات میں دان کی گئی ہے کیوں کہ ہندو اجتماعی پوجا کے بجائے انفرادی سطح پر پوجا کرتے ہیں تب بھی عرب بھارت کی خوشنودی کے لیے ہر سطح پر جانے کے لیے تیار ہیں ۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہورہا ہے کہ پاکستان اپنا کردار ادا نہیں کررہا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی قیادت نے بھارت سے ہار مان لی ہے ۔ چاہے کنٹرول لائن پر بھارتی حملے ہوں یا دریاؤں کا پانی روکنے کی بھارتی جارحیت ، پاکستان کا رویہ معذرت خواہانہ ہی ہوتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بھی اب جارحانہ پالیسی اپنائے اور عالمی سطح پر باقاعدہ گروپ تشکیل دیے جائیں جن کے تحت بھارت کا چہرہ بے نقاب کیا جائے اور بھارت کو تنہا کیا جائے ۔ اس ضمن میں ترکی اور ملائیشیا پاکستان کے بہترین مددگار ثابت ہوسکتے ہیں ۔ ملائیشیا کے سربراہ مہاتیر محمد نے گزشتہ دن ہی اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے سوا ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے ۔ ان کا موقف اصولی ہے کہ وہ یہودیوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ اسرائیل کے خلاف اس لیے ہیں کہ اس نے دوسروں کی زمین پر قبضہ کررکھا ہے جو کہ ڈاکوؤں کا کام ہے ۔ یہی کیس بھارت کے ساتھ بھی ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے اور اہل زمین کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں ۔ کچھ ایسا ہی موقف ترکی کے سربراہ طیب اردوان کا بھی سامنے آتا رہا ہے ۔ اگر پاکستان ملائیشیا اور ترکی کے ساتھ مل کر فلسطین اور کشمیر کی آزادی کی تحریک چلائے تو اس سے دیگر ممالک کو بھی اصل صورتحال سے آگاہ کرنے میں مدد ملے گی اور اسرائیل و بھارت کو لگام دی جاسکے گی ۔ ابھی یا کبھی نہیں کے اصول پر کام کرتے ہوئے پاکستان کو فوری طور پر متحرک کیا جائے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کا ایک ہی مطلب ہوگا کہ پاکستان نے عملی طور پر بھارتی تسلط کو تسلیم کرلیاہے ۔

                                             بشکریہ جسارت