September 22nd, 2019 (1441محرم22)

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

 

غازی سہیل خان

22؍ اور 23 ؍فروری کی درمیانی رات کو جب ساری دنیا محو خواب تھی اسی دوران میں ریاست جموں وکشمیر کی انتظامیہ شبینہ کریک ڈاؤن کے دوران جماعت اسلامی جموں وکشمیر اور دیگر دینی تنظیموں کے قائدین کی بڑے پیمانے پر گرفتاری عمل میں لائی۔ وادئ کشمیر میں رات کے وقت گرفتاریاں، پکڑ دھکڑ وغیرہ کوئی نئی بات نہیں، تاہم اس تازہ کارروائی کے حوالے سے کشمیری عوام اس لیے حیرت زدہ ہوئے کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر سے وابستہ کئی کارکنان اور ضلعی و تحصیلی نظم کے ساتھ ساتھ امیر جماعت ڈاکٹر عبد الحمید فیاض کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ انتظامیہ نے جماعت سے وابستہ کارکنان کے ساتھ ساتھ علیل زعماء جماعت کو بھی گرفتار کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا۔ اس کے ٹھیک ایک ہفتے کے بعد یعنی 28فروری کی شام حکومت ہند کی طرف سے غیر متوقع حکمنامہ آیا کہ ’’جماعت اسلامی جموں کشمیر بھارت کی سالمیت اور عوامی امن کے لیے خطرہ ہے، تنظیم کا عسکری جماعتوں کے ساتھ قریب کا تعلق ہے اور یہ ملک میں تخریبی کارروائیاں بھی انجام دیتی ہے، اس لیے اس تنظیم کو بھارتی قانون (unlawful activities act 1967)کے تحت پانچ سال تک کی پابندی عائد کی جاتی ہے‘‘۔ اس غیر جمہوری اور غیر اخلاقی حکم نامے پر جہاں مذاحمتی لیڈران نے برہمی کا اظہار کیا وہیں ریاست جموں وکشمیر کی کئی ہند نواز سیاسی جماعتوں نے بھی اسے غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا۔
اس فیصلے کے حوالے سے جہاں جموں کشمیر کے عوام میں شدید قسم کا غم و غصہ پایا جا رہا ہے وہیں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی۔ جے۔ پی کا جماعت پر پابندی کا یہ حکمنامہ پنج سالہ ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایک الیکشن اسٹنٹ ہے اور یہ پارٹی دیش بکتی کے نام پر، عوام کے جذبات سے کھیل کر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ چوں کہ بی جے پی نے 2014 ء میں بھارتی عوام سے بہت سارے دعوے اور وعدے کیے، بی جے پی ان سارے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی۔ امن وامان قائم ہونے کے بجائے بھارت کی اقلیتوں کا جینا دو بھر کر دیا گیا، دلت طبقے اور مسلمانوں کو شدید مشکلات میں پھنسا دیا۔ گائے کے نام پر مسلمانوں کو نہ صرف خوف زدہ کیا گیا بلکہ محض گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں یو۔ پی کے اخلاق احمد جیسے درجنوں معصوم لوگوں کو جنونیوں کے ذریعے بڑی ہی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ نوٹ بندی کر کے ایک ایک دانے کے لیے غریب عوام کو ترسایا گیا، جس میں دو سو سے زائد لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے۔ GST کا اطلاق کر کے بھارت کے چھوٹے کاروباری طبقے کو مزید ترقی اس کو روز گار ہی سے محروم کر دیا۔ جب کہ کشمیر کے مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے بی، جے، پی پوری طرح سے ناکام ہو گئی، کشمیریوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، پکڑ دھکڑ کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہو تا جا رہا ہے، PSA اور AFSAPA جیسے کالے قوانین کی آڑ میں کشمیریوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت کا کشمیر میں مظالم کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اقوام متحدہ نے بھارت اور پاکستان پر دباؤ بڑھایا ہے کہ کشمیر تنازعے کو حل کیا جائے، اسی طرح امریکا بھی اس مسئلہ کے حوالے سے بار بار اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ حال ہی میں سشما سوراج کا OIC کے اجلاس میں شرکت کے باوجود OIC نے ایک ’’رسمی قرارداد‘‘ کے ذریعے بھارت سے کشمیر میں مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ جب کہ اسی دوران میں یورپی پارلیمنٹ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ کشمیر میں مظالم بند کردے۔ یہ 2007ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ جب یورپی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بات کی گئی۔ اسی بیچ 14فروری کو پلوامہ میں ایک مشتبہ فدائی حملے میں چالیس سے زیادہ فورسز اہلکار ہلاک ہو گئے جس کے نتیجے میں کشمیریوں اور پاکستان کو سبق سکھانے کی خاطر حُب الوطنی کے نام پر بھارت کی جنتا (عوام) کے جذبات کا خوب استعمال کر کے اپنے میڈیا کے ذریعہ سے خوب منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔ جب کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی میڈیا کے جنگی جنون کو آنے والے الیکشن کے لیے استعمال کرنے کا اچھا موقع پاتے ہی رات کی تاریکی میں پاکستان کے خیبر پختونخوا کے بالاکوٹ علاقے میں ایک ہزار کلو وزنی بارود گرا کر بھارت کے عوام کو حسب معمول بیوقوف بنا کر جشن منانے کا موقع فراہم کیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس ساری ناکامی کو چھپانے کی خاطر نریندر مودی نے جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر بھارتی جمہورت کو ایک اور بار پھر داغدارکر ڈالا۔
جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر پابندی کوئی نئی بات نہیں، اس سے پہلے بھی دو بار جماعت پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ 1975ء میں ایمرجنسی کے دوران شیخ محمد عبداللہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹایا جائے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جماعت اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان عمل میں آکر پھر سرگرم ہو گئی۔ اس کے بعد1979ء میں ذوالفقار علی بٹھو کی پھانسی کی سزا بھی جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو بھگتنا پڑی جس کے دوران جماعت سے وابستہ کارکنان کو چُن چُن کر مارا گیا۔ اس جماعت سے وابستہ افراد کی جائداد کو تباہ کیا گیا، گھر جلائے گئے، باغات کاٹے گئے، اتنا ہی نہیں بلکہ جماعت کے بانی مولانا مودودی ؒ کی تفسیر تفہیم القرآن کو کہ یہ کہہ کر جلایا گیا کہ یہ ’’مودودی قرآن‘‘ ہے۔ ریاست میں عسکری دور کی شروعات کے ساتھ ہی جماعت اسلامی ایک بار پھر آزمائش سے دوچار کر دی گئی۔ اس دور کی حکومتوں نے اپنے کارندوں کی مدد سے جماعت سے وابستہ کارکنان کو بڑی ہی بے دردی کے ساتھ قتل کیا تاہم ان حالات میں بھی جماعت نے صبرو ثبات سے کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح 1990ء میں جماعت پر عسکریت کی لیبل لگا کرپابندی لگا دی گئی۔ تاہم جماعت نے روز اول ہی سے بغیر کسی رنگ و نسل ذات پات کے انسانیت کی خدمت کی ہے۔ جماعت کے ہر حلقہ میں بیت المال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں بیواوں، یتیموں، محتاجوں اور مساکین کی مدد کی جاتی ہے، جماعت سے وابستہ کارکنان نے ہزاروں پوائنٹ خون جموں وکشمیر کے ضرورت مندوں کوعطیہ کیا۔ گزشتہ سال صورہ میڈیل انسٹی ٹیوٹ میں مفت ایمبولنس کی سہولت کا غریب و مجبور عوام کے لیے وقف کرنا ہو یا مفلوک مریضوں کی دوائیاں اور دیگر علاج کے لیے پیسہ صرف کرنا، جماعت نے خدمت خلق میں نا قابل یقین کارنامے انجام دیے۔ جن میں ستر کی دہائی میں زلزلوں سے متاثرہ علاقہ بڈگام کے عوام کی آبادکاری ہو یا یاری پورہ میں آتشردگی سے متاثرہ پنڈت برادری کے لیے امدادی سامان کی فراہمی، سرینگر ہو یا جموں، کپواڑہ ہو یا کشتواڑ، غرض جموں و کشمیر کی مفلوک الحال انسانیت پر لگے زخموں پر مرحم کا کام کر کے خدمت خلق کے شعبہ میں سبقت حاصل کر لی ہے۔ 2014ء میں کشمیر میں قیامت خیز سیلاب میں جماعت کے ایک عام کارکن نے جان فشانی سے کام کیا وہیں جماعت کے زعماء، اعلیٰ مناصب پر فائز ارکان، ڈاکٹرز اور انجینئرز نے سیلاب زدگان کی راحت رسانی اور سرینگر شہر میں گلی گلی جا کر صفائی مہم میں حصہ لے کر خدمت خلق کی تاریخ میں ایک روشن باب رقم کر دیا۔ اسی طرح سے تعلیم کے میدان میں جماعت نے قابل رشک کام انجام دیا ہے تین سو سے زائد اسکولوں میں جماعت کے کارکنان اور رفقاء نہایت کم معاوضہ لے کر جموں کشمیر میں ناخواندگی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے، جماعت کے اسکولوں میں ہزاروں یتیم بچوں کو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ وردی اور کتابیں تک فراہم کی جاتی ہیں، ان تعلیمی اداروں نے سماج کو ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سیاست دان عطا کیے ہیں جو آج انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ بلاشبہ جماعت جیسی دینی وسیاسی و سماجی تنظیم کا دہشت گردی کے ساتھ کیا واسطہ؟ جماعت کیوں اور کس لیے کسی ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے؟ جو جماعت امن کی داعی ہو دنیا کے مظلوم انسانوں کے درد و غم میں شریک ہو، وہ انسانیت کے لیے خطرہ کیسے بن سکتی ہے؟
جماعت پر پابندی کے بعد آئے روز مختلف الخیال لوگوں کے مذمتی بیانات آرہے ہیں اور سماج کے ایک حساس طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی نظم کو تو قید کیا جا سکتا ہے لیکن کسی نظریے کو ابھی تک کوئی قید نہیں کر سکا اور نہ ہی مستقبل میں کر سکے گا۔ جماعت اسلامی کوکشمیر ہی میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں انسانی جذبات کی امین اور مظلوموں کی آواز مانا جاتا ہے وہ چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم جماعت نے ہر ایک کو انسانیت کی نظر سے دیکھ کر مدد کی ہے۔ کشمیر کے حساس طبقے کا یہ کہنا ہے کہ جماعت انسانیت دوست نظریہ رکھتی ہے پر پابندی کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے کہ کس طرح سے انتخابات میں دھاندلیاں پر اور جماعت اور مظالم کی وجہ سے محمد یوسف شاہ کو صلاح الدین بننا پڑا۔ جمہوری نظام میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی جمہوری جماعت کی political space کو ختم کر کے اپنے نظریے کو پھلانے کی کوشش کرے۔ پابندی تو ان تنظیموں پر لگنی چاہے جو نیشنلزم اور دیش بھگتی کے نام پر انسانیت کو مار کاٹ رہے ہیں، جو ہاتھوں میں ننگی تلواریں لے کر سر عام گھوم پھر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں دلی سرکار کو چاہیے کہ اگر وہ کشمیر میں سماجی اور سیاسی میدان میں امن دیکھنا چاہتے ہیں تو اُنہیں بغیر کسی شرط کے جماعت سے پابندی ہٹا کر سارے قائدین اورکارکنان کو رہا کر دینا چاہیے۔ طاقت کے بل بوتے پہ کسی نظریہ کو دبانا یا کسی نظم کو در زنداں کرنا کوئی عقل مندی نہیں اور نہ ہی اس طرح کی لاحاصل مشق سے جمہوریت اور انسانیت کی پاسداری کا دم بھرنے والوں کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔