June 17th, 2019 (1440شوال14)

مودی کی ہوس اِقتدار

 

غزالہ عزیز

آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان حد بندی لائن (LOC) پر فائرنگ، مارٹر بموں کے ساتھ بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں طرف سے مسلمان اس کی زد میں رہے ہیں، بھارتی حکومت نے کنٹرول لائن پر 14 ہزار بنکرز کی تعمیر شروع کردی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے رہائشی ’’شراون کمار‘‘ کہتے ہیں:
’’کنکریٹ کے بنکر مسئلے کا حل نہیں‘‘
کشمیر کے تنازع کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ لیکن بھارتی حکومت پر جنگی جنون طاری ہے، یہ جنون اپنے 2 طیاروں کی تباہی اور پائلٹ کو گرفتار دیکھ کر بھی نہیں اُترا ہے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں 14 ہزار نئے بنکر تعمیر کرانے شروع کردیے ہیں۔ اس کی رپورٹ برطانوی میڈیا دے رہا ہے جس کے مطابق بھارت نے کنٹرول لائن پر راجوڑی، سامبا سیکٹر اور آس پاس کے علاقوں میں سیکڑوں زیر زمین بنکرز تیار کرلیے ہیں اور مزید کررہا ہے۔ اِن بنکرز کی چھت اور دیواریں عام مکان سے تین گنا موٹی ہوتی ہیں اور اُن میں 10 گنا اسٹیل استعمال ہوتا ہے۔ کشمیر کے رہائشی بھارتی حکومت کے اس اقدام سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ اقدام کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ بھارت کے اندر بھی ایسی ہی آوازیں اُٹھ رہی ہیں، بھارت کی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف اے ایس دلت بھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان سے مذاکرات اور اس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ پاکستان کے ساتھ مل جل کر معاملہ کرنا پڑے گا اور کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو طاقت سے نہیں دبایا جاسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی کشمیر کے عوام کے خلاف جارحانہ پالیسیاں تشدد کو بڑھانے کا سبب ہیں۔ حکومت اور سیکورٹی فورسز کی سخت گیر رویے نے کشمیری نوجوانوں کو عسکریت کی راہ پر لگایا ہے۔ کشمیری نوجوان آزادی کے متوالے ہیں۔ صورت حال اب اس نکتہ پر آپہنچی ہے کہ کشمیری جہادی گروہ حزب المجاہدین کے کمانڈر ’’ریاض نائیکو‘‘ بھارتی حکومت کو یہ وارننگ دیتے ہیں کہ اب کشمیر میں ’’کرو یا مرو‘‘ کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ اب مجاہدین جان دینے ہی کو ترجیح دیتے ہیں، حالاں کہ اب تک حزب المجاہدین فدائی حملوں سے دور رہی ہے۔ ریاض نائیکو کے آڈیو پیغام میں بھارتی حکومت کو مخاطب کرکے وہ کہتے ہیں ’’جب تک تمہاری فورسز یہاں ہیں تمہیں ان کے تابوت بھرنے پڑیں گے۔ رہی بات ہماری تو ہم تو نکلے ہی مرنے کے لیے ہیں۔ لیکن ہم اکیلے نہیں مریں گے بلکہ تمہیں بھی ماریں گے، وہ دن دور نہیں جب 15 سال کے بچے بھی بارود باندھ کر فوجی گاڑیوں میں جا گھسیں گے۔ کشمیری رہنما کے یہ بیانات محض دعویٰ نہیں تھے بلکہ واقعی ایسا ہوا، لیکن کیا کشمیریوں نے یہ سب کیا؟؟ پلوامہ حملہ حقیقت میں کس کی منصوبہ بندی تھی؟؟۔ اس سوال کا جواب بی جے پی کے ایک سابق رکن ’’اوی دندیا‘‘ دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پلوامہ حملہ بی جے پی نے الیکشن جیتنے کے لیے کروایا، اس کے ثبوت میں وہ ٹیپ شدہ آڈیو گفتگو پیش کرتے ہیں جس میں واضح طور پر بی جے پی کے رہنما الیکشن سے پہلے جنگ ضروری قرار دیتے ہیں، اور اپنی سیاست کو فوج کی سلامتی کے سوال سے جڑا قرار دیتے ہیں۔ بات چیت کے آخر میں رقم کے لین دین کے بعد مطلوبہ کام کرنے (یعنی خودکش دھماکا کرانے) کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پلوامہ حملہ بھارتی حکومت کی منصوبہ بندی تھی۔
اگر مودی اور بی جے پی کے دوسرے رہنماؤں کے بیانات کا ابتدا سے جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم بغیر کسی تحقیق کے، بغیر کسی جائزے اور رپورٹ کے فوری طور پر حملے کا الزام پاکستان پر لگادیتے ہیں۔ اس کام میں بھارتی ذرائع ابلاغ بھی حکومت کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔ شروع میں بھارت کی تمام سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتی ہیں لیکن جیسے جیسے بات آگے جاتی ہے بھارتی حکومت بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کے نتیجے میں ساڑھے تین سو دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کرتی ہے، پھر بھارتی طیارے پاکستان کی حدود میں گھس کر حملے کرتے ہیں اور پاکستان بھارت کے طیارے گراتا ہے۔ پائلٹ کو زندہ گرفتار کرتا ہے، پھر آخر کار بھارتی سیاستدانوں اور دیگر دانش وروں کی آنکھیں کھلتی ہیں، پھر مختلف سطح پر سیاستدان میڈیا سے مطلق لوگ اداکار اور گلوکار بھارتی حکومت کی فوج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ مرنے والے پائلٹ کی بیوہ اپنے بچے کو لے کر میڈیا میں بتاتی ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ رہا کیا جانے والا پائلٹ بھارتی میڈیا کے جنگی جنون کو پاگل پن قرار دیتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ بھارتی
وزیراعظم مودی کو الیکشن میں نتائج اپنے حق میں نظر نہیں آرہے ہیں۔ صوبوں میں وہ پہلے ہی الیکشن ہار چکے ہیں، لہٰذا وہ الیکشن جیتنے کے لیے پلوامہ حملے کا ڈراما رچاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح پہلے پارلیمنٹ اور بمبئی حملے کا ڈراما رچایا تھا اور پھر اُس کے نتیجے میں ہمدردی حاصل کرکے الیکشن جیت لیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ گجرات کے قسائی کو ابھی کتنے انسانوں کا لہو چاہیے؟؟ اقتدار کی مسند پر جمے رہنے کے لیے انہیں کتنے گھروں کے صحنوں کو تابوتوں سے بھرنا ہے؟؟ نفرت دہشت اور اقتدار کی حرص میں وہ ایک طرف کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی ہم وطنوں کو اپنے ہی دیس کے جوانوں کی لاشوں کے تحفے دے رہے ہیں۔ یہ سوال کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہم وطنوں کی زبانوں پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر ان کا نہ کل تھا نہ آج ہے۔ 1947ء کی تقسیم میں کشمیر ایک نامکمل ایجنڈا تھا۔ کشمیر کے عوام ستر سال سے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع کا ہر طریقہ استعمال کرچکے ہیں لیکن اُن کے پُرامن مظاہروں اور مطالبات کے جواب میں انہیں ہمیشہ قید و بند کی سزائیں دی گئیں، لاشوں کے تحفے دیے گئے۔ اب کشمیری عوام یہ جان چکے ہیں کہ اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے عسکری میدان ہی آخری حربہ ہے۔ لہٰذا کشمیر کا بچہ بچہ بھارت سے آزادی کا نعرہ لگاتا ہے۔ اور بھارت اس کے جواب میں پیلٹ گنوں کے ذریعے انہیں معذور کرتا ہے۔ لیکن بھارتی حکومت کے کشمیر پر مظالم ہوں، کنٹرول لائن پر معصوم شہریوں کا قتل ہو یا مودی کا اقتدار کی ہوس میں جنگی جنون کو بڑھاوا دینا، سب کا نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔ انڈیا سے کشمیر کی نفرت اور نتیجے میں کشمیر کی آزادی۔