September 22nd, 2019 (1441محرم22)

بھارتی جنگی جنون اور مسئلہ کشمیر کا نیا رُخ

 

افتخار گیلانی


جموں و کشمیر کی تاریخ خون سے نہائی ہوئی ہے۔دُور دُور تک ،خون کی اس بارش کے رُکنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اسی دوران جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے لیتہ پورہ۔ اونتی پورہ علاقے میں ۱۴فروری۲۰۱۹ء کو عسکریت پسندوں کے خودکش حملے سے ۴۰سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کی خبر نے جنوبی ایشیا میں کہرام کی صورت پیدا کر دی ہے۔
اس واقعے کے ایک دن بعد دارلحکومت دہلی کے ویمن پریس کلب میں مَیں اپنے صحافی دوست کی الوداعی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد باہر نکلا، تو دیکھا کہ اسکولوں کے نو خیز بچے ہاتھوں میں پرچم لیے پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے انڈیا گیٹ کی طرف رواں تھے۔میڈیا کے ایک حلقے کی جانب سے، جس میں الیکٹرانک میڈیا پیش پیش ہے، کشمیر کی تاریخ، جغرافیہ ،سیاسی تاریخ اور سیاست کے حوالے سے متواتر زہر افشانی کرکے کچے ذہنوں کو آلودہ کرکے کشمیر دشمنی پر کس قدر آمادہ کر دیا گیا ہے، اس کا اندازہ ایسے جلوسوں سے لگایا جاسکتا ہے۔
انڈیا گیٹ کے پاس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ کی معیت میں ایک جم غفیر پر جنگی جنون سوار تھا۔ وہ اپنی شعلہ بار تقریروں میں لاہور اور مظفر آباد پر بھارتی پرچم لہرانے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے اور کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔چوںکہ ایسے وقت میں بھارتی مسلمانوں کے رہنمائوں کو بھی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، ان کی نمایندگی کرتے ہوئے ایک باریش مولوی صاحب پاکستانی سفیر کو ملک بدر کرنے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔
آفس پہنچ کر معلوم ہوا کہ پٹنہ، چھتیس گڑھ، دہرا دون اور بھارت کے دیگر علاقوں سے کشمیری تاجروں اور طالب علموں پر حملوں اور ان کو بے عزت کرنے کی خبریں متواتر موصول ہورہی ہیں۔ رات گئے گھر واپس پہنچ کر دیکھا کہ ہماری کالونی کے دیگر حصوں میں رہنے والے چندکشمیری خاندان ہمارے یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا کہ شام ہوتے ہی علاقے میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے مکینوں کو باہر نکالا اور ہاتھوں میں موم بتیاں لیے مارچ کرتے ہوئے کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے خوب ہڑ بونگ مچائی تھی۔اتوار کی رات جس وقت میں یہ تحریر لکھ رہا تھا، کہ باہر سے کالونی میں ہمارے بلاک کا گارڈ دوڑتا ہو ا آیا اور ہمیں گھر کے اندر رہنے ، دروازے اور کھڑکیاں بند کرنے کی ہدایت دے کر چلا گیا۔
 معلوم ہوا کہ بیرونی گیٹ کے پاس ایک ہجوم جمع ہے اور پر جوش نعرے لگا رہا ہے۔ ان کی آوازیں دل دہلا رہی تھیں۔ کچھ دیر کے لیے مَیں سمجھا کہ غالباً میری زندگی کی آخری تحریر ہے۔ کیوں کہ ہجوم جنوبی دہلی میں واقع اس عمارت کے گرد جمع ہوچکا تھا، جہاں میں اپنے کم سن بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ ہجوم نے پہلی بار تو ہمارے گھر کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔ بلندآواز میں گالیوں کی بوچھاڑ اور دل دہلا دینے والے انتقامی نعروں کی یلغار جاری رکھی۔ ان کی قیادت کرنے والے ہمیں ’بھارت چھوڑ کر واپس کشمیر جائو‘ کا کہہ رہے تھے۔ مجھے یقین ہوچلا تھا کہ اب میرا آخری وقت ہے، لیکن سیکورٹی گارڈاور شریف النفس ہمسایوں نے پولیس کے پہنچنے تک ہجوم کو قدرے فاصلے پر روکے رکھا۔میں نے دہلی پولیس اور وزارت داخلہ میں جہاں جہاں ممکن ہوسکتا تھا، رابطہ کر نے کی کوشش کی۔ ان لمحوں میں میری بیوی، بچّے، خاندان کے دیگر لوگ اور وہ کشمیری جنھوں نے ہمارے گھر پناہ لے رکھی تھی، پوری توجہ سے صرف ایک کام کر رہے تھے: تلاوتِ قرآن! ان لمحوں میں مجھے ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات میں ہلاک ہوئے کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری یاد آرہے تھے، جو کم و بیش اسی طرح کے حالات کا شکار ہوگئے تھے۔ آدھے گھنٹے کے بعد دہلی پولیس کی ایک ٹیم آئی اور انھوں نے ہجوم کو پارک میں جلسہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن قریباً ایک گھنٹے کے بعد ہجوم پھر واپس آیا اور گیٹ کے پاس اشتعال انگیز نعرے بلند کرنے شروع کیے۔ آدھی رات کو میں نے اپنی فیملی کو ایک مسلم اکثریتی علاقے میں ایک رشتے دار کے ہاں منتقل کیا اور خود تحریر مکمل کرنے کے بعد دفتر میں جاکر پناہ لی۔
دہلی میں اپنے صحافتی کیریئر کے دوران میں نے کئی اتار چڑھائو دیکھے ہیں۔بد نامِ زمانہ تہاڑ جیل میں بھی آٹھ ماہ گزار چکا ہوں۔ جنگ کرگل ،پارلیمنٹ پر حملہ کے بعد آپریشن پراکرم     یا ۲۰۰۸ء میںممبئی حملوں کی رپورٹنگ بھی کی ہے ، مگر یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ اس قدر    جنگی جنون جو پچھلے پانچ سال میں عوام پر طاری کر دیا گیا ہے، اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا، اور نہ حالات اس قدر دگرگوں ہوئے تھے۔ ایک اعلیٰ افسر نے ایس ایم ایس کے ذریعے مجھے بتانے کی کوشش کی آر یا پار کا وقت آچکا ہے ۔
 کانگریس کے ایک سینیرجنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ: یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑیں گے۔ انھوں نے اپنے وزیروں اور پارٹی لیڈروں کو پہلے ہی حکم نامہ جاری کر رکھا ہے کہ وہ پلوامہ میں ہلاک شدگان کے دیہات اور محلوں میں جاکر ان کی آخری رسومات میں شرکت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں ڈیرا ڈالیں۔ مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد چونکہ معیشت کی بحالی اور دیگر وعدے ہوا میں بکھر چکے ہیں،رام مندر کی تعمیر کے نام پر کوئی تحریک برپا نہیں ہو پا رہی ہے۔
پھر دسمبر ۲۰۱۸ء کے حالیہ صوبائی انتخابات میں کسانوں ، دلتوں، دوسرے پس ماندہ طبقوں اور اقلیتوں نے مل کر ان کو شکست دی ہے۔ اس تجربے اور انجام کو سامنے رکھتے ہوئے آیندہ دوماہ میںعام انتخابات کے پیش نظر ہندو قوم پرست آخری ترپ کا پتا، یعنی نیشنلزم کی بحث بھڑکا کر اور ہندوئوںکو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے یہ ایک سنگین صورت حال ہوتی ہے کہ جب معاشرے کے کچھ طبقوں کو ’محب وطن‘ اور کچھ کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا جانے لگے۔ بھارتی برسرِاقتدار پارٹی کے قائدین، مرکزی وزرا اور اعلیٰ سیکورٹی افسران کی جانب سے بار بار کی بیان بازیوں سے اس پروپیگنڈا مہم کو دست و بازو فراہم ہو رہے ہیں۔ چنانچہ بھارت بھر میں اس وقت جو سیاسی صف آرائیاں ہورہی ہیں، اس میں کشمیر اور کشمیریوں کو ایک ایشو بنا کر سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے ہاتھ پائوں مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کشمیر میں حالات کی مسلسل خرابی کے ساتھ کئی حلقوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہو رہے ہیں۔حالیہ عرصے میں، حتیٰ کہ جنوبی صوبوں کرناٹک اور آندھرا میں بھی کشمیریوںکو ہراساں کرنے اور بے عزت کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جب کہ مہاراشٹر کے شہر پونا میں بھی کشمیری تاجروں، طلبہ اور محنت کشوں کو پولیس سے رابطہ قائم کرکے دہشت کی اس فضا سے حفاظت کے لیے امداد و اعانت طلب کرنا پڑی۔ ایک طرف حکومت اور مختلف سیکورٹی ایجنسیاں آپریشن سدبھاونا وغیرہ کے نام پر کھیل کود، ادب و ثقافت اور تفریح کی غرض سے کشمیری طلبہ و نوجوانوں کو بھارت کی دیگر ریاستوں میں لے جاکر وہاں کے تمدن اور سوچ سے ہم آہنگ کرنے کے پروگراموں پر روپے خرچ کرتی ہیں، وہیں دوسری طرف ان کی بھرپور تذلیل کی جاتی ہے۔
جو واقعہ پلوامہ میں پیش آیا، میں ایک عرصے سے اپنی تحریروں میں ایسی صورت حال کے برپا ہونے کے بارے میں خبردار کرتا آیا ہوں۔ہر قیمتی انسانی جان کے تلف ہونے پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔ جو لوگ روز اپنے عزیزوں اور جوانوں کے جنازے اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، اِس دکھ اور درد کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔۲۰۱۴ء میں ایک نجی تقریب کے دوران انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوبال نے کہا تھا کہ ’’یہ پہلا اور آخری موقع ہے کہ پاکستان اور کشمیریوں کو بتایا جائے کہ ان کی منزل ناقابل حصول ہے‘‘۔ اجیت دوبال کو اندازہ نہیں ہے کہ ان کی اس پالیسی کے تحت نہ صرف حُریت کانفرنس بلکہ بھارت نواز کشمیری سیاسی قیادت کو بھی نئی دہلی نے بے وقعت اور بے وزن کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ شاید آخری قیادت ہے ، جو مکالمے اور افہام و تفہیم کے مفہوم سے واقف ہے۔ جموں وکشمیر کے عوام کی اُمنگوں اور خواہشات کو سمجھنے کے بجاے ایک سیاسی اور انسانی مسئلے کو صرف فوجی ذرائع اور طاقت کے بل پر دبانے کی پالیسی نے کشمیر میں ایک نہایت خطرناک صورتِ حال کو جنم دیا ہے ۔ اگر موت اور تباہی کے اس رقص کو روکنا ہے ،تو انسانیت اور انصاف کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔مگر اس حملے کے بعد ٹی وی اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں ہونے والے بحث و مباحثے کے گمراہ کن رویے اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بھارتی قیادت مسائل کی طرف صحیح طریقے سے نہیں دیکھ رہی۔
     بھارتی فوج کے ایک سابق افسر کرنل (ریٹائرڈ) آلوک استھانا کے بقول : ’’خودکش حملہ آور پاس ہی کے گائوں کا عادل احمد تھا اور وہ پاکستانی علاقے سے نہیں آیا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ حملہ جنوبی کشمیر میں ہوا، جو شمالی کشمیر کے برعکس لائن آف کنٹرول سے کوسو ں دُور ہے۔  اس علاقے تک پہنچنے کے لیے سری نگر شہر سمیت کئی سخت سیکورٹی والے علاقوں سے گزر نا پڑتا ہے‘‘۔ کرنل استھانا کے مطابق: ’’عادل کے خودکش دھماکے سے ایک اہم سوال جو سامنے آیا ، وہ یہ کہ آخر مقامی کشمیری، جن میں سے کئی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس طرح سے اپنی جان دینے کے لیے کیوں تیار ہیں؟‘‘
اگر اس سوال کا تھوڑا ہی صحیح، جواب دے دیا جاتا ہے، تو باقی ساری چیزوں کا بھی حل نکل آئے گا، مگر اس جنگی جنوں میں کس کو ہوش ہے کہ اس اصل مسئلے پربات کرے۔ علاوہ ازیںگذشتہ تین عشروں کے دوران میں جو نسل کشمیر میں پروان چڑھی ہے، اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجاے ان کو مزید کچوکے دیے جا رہے ہیں۔ میں نے چند سال قبل خبردار کیا تھا، ’’اگرچہ کشمیر میں عسکریت میں بظاہر وہ قوت نہیں جو ۹۰ کے اوائل میں ہوتی تھی، مگر یہ خیال کرنا کہ اس تبدیلی سے وہاں امن و امان ہوگیا ہے خود کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا‘‘۔ اس کے لیے رحم دلی اور مفاہمت پر مبنی ایک ماحول تیار کرنا ہوگا۔ علاقے، یعنی رئیل اسٹیٹ کے بجاے  رئیل پبلک کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ کشمیر میں ایک ایک دل زخمی ہے ، اور یہ زخم مندمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ جب تک بنیادی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اقدامات نہیں کریں گے تب تک پلوامہ جیسے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہے ۔ لہٰذا، بہتری اسی میں ہے کہ حقائق سے انکار کے بجاے اس مسئلے کے حل کی سبیل کی جائے۔کوئی ایسا حل جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو، تاکہ برصغیر میں امن و خوش حالی کے دن لوٹ سکیں۔
وہ لوگ جو پاکستان میں رہتے ہیں، اگر وہ بھارت میں کشمیری طالب علموں، تاجروں اور مزدوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے حالیہ واقعات، اذیت ناک دبائو اور ناقابلِ تصور بے عزتی کو ذہن میں رکھیں تو ان میں ان کے لیے بے شمار سبق موجود ہیں۔ سب سے بڑا سبق یہ کہ آزادی واقعی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے آزادی کی قدر کریں۔ ممکن ہے کہ آپ کا کوئی حکمران کرپٹ ہو، کوئی ظالم ہو اور یا کوئی نااہل۔ لیکن اس سب کے باوجود اپنے وطن میں آپ کی وہ تذلیل اور توہین نہیں ہوگی، اور نہ ہجوم کے ہاتھوں یوں بے گناہ اور بے جواز قتل کیے جائیں گے۔ جموں و کشمیر کے رہنے والوں کے حوالے سے ذرا سوچیے، جو کہتے ہیں کہ آپ کتنے خوش نصیب ہیں اور ہم کتنے قابلِ رحم!