October 16th, 2019 (1441صفر16)

آہ! جماعت اسلامی جموں و کشمیر

 

ابو تراب الہلالی

۔22؍ فروری کی شب جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی مرکزی قیادت کے ساتھ ساتھ اضلاع و تحصیل سطحوں پر امراء کو اپنے گھروں سے گرفتار کیا گیا۔ یہ ایک ڈرامائی کاروائی تھی۔ اُن کے لواحقین نے بتایا گرفتار کرنے کے لیے حکومتی دستے آئے تو ہم نے گرفتاری کی وجوہات جاننے کی ان سے کوشش کی تو جواب میں اتنا ہی کہا گیا کہ ’اوپر سے آرڈر ہے، باقی ہمارے ہاتھ کچھ نہیں ہے‘۔ گرفتار شدگان میں کئی سارے زعماء جماعت علیل ہیں۔ جماعت کے ارکان، ہمدرد و رفقاء کو بھی پابند سلاسل کر دیا گیا۔ گرفتار شدگان میں سے جہاں سیکڑوں کی تعداد اس وقت مقید ہیں، وہیں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض، نائب امیر احمد اللہ پرے مکی، ترجمان اعلیٰ ایڈوکیٹ زاہد علی، سابق قیم جماعت غلام قادر لون کے ساتھ ساتھ امراء اضلاع و امراء تحصیلات بھی تادم تحریر یا تو پولیس حراست میں ہیں یا جیلوں میں مقید۔
جماعت اسلامی کی قیادت کو گرفتار کرنے کی وجوہات کسی سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ظاہر نہ کر دی گئی۔ البتہ پولیس ذرائع کا حولہ دیتے ہوئے مقامی روزناموں میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ فراہم کرنے والی بھارتی آئین کی دفعہ 35؍ اے کی سماعت اور مجوزہ انتخابات کے حوالے سے یہ قدم احتیاطی طور اٹھایا گیا، باقی جماعت میں سے کسی بھی فرد کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہے، نہ ہی وہ غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں۔ اب ہر کوئی یہی سوچ رہاتھا کہ دفعہ 35 ؍اے کے ساتھ اگر کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو زمینی سطح پر لوگوں کی رہنمائی کرنے کے لیے جماعت کا اثر رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس لیے ممکنہ خطرہ کو ٹالنے کے لیے جماعت کی قیادت کو مقید کر دیا گیا۔ بھارت کے زیر نگران انتخابی عمل کو ’بحسن خوبی‘ انجام دینے کی خاطر جماعت اسلامی کے کارکنان کوئی ’خلل‘ نہ ڈالیں، اس لیے انہیں قبل از وقت بند رکھا گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا فائدے سے خالی نہیں ہوگا کہ حالیہ بلدیاتی و پنچائتی انتخابات میں لوگوں کی سرد مہری بھارت کے ایوانوں میں واویلا مچانے کے لیے کافی تھی۔ اُن انتخابات کی نہ کوئی مثال دی گئی نہ ہی لوگوں نے اُسے تسلیم کیا۔ حد یہ ہے لوگوں کی کثیر تعداد محض پانچ دس ووٹوں سے لیڈر بن گئے۔ اب مزید ایسی کسی ہزیمت سے پہلے ضروری ہو گیا تھا کہ آزادی و حریت پسند قیادت کو مقید کیا جائے۔ اِن میں اب جماعت اسلامی ہی ایسی تنظیم رہ گئی تھی جس کے خلاف حکام کے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں تھا کہ جس سے یہ عندیا ملتا ہو کہ جماعت کوئی غیر قانونی کام کر رہی ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کا طریقہ کار نہایت ہی پرامن و عوام دوستی پر مشتمل ہے۔ جماعت کا دستور اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ سماج میں تبدیلی لانے کی خاطر جماعت کسی زیر زمین کاروائی یا کسی تخریب کاری کو بطور آلہ استعمال نہیں کرے گی۔ نہ صرف مذہبی و سیاسی سطح پر بلکہ فلاحی و تعلیمی میدان میں بھی جماعت اسلامی اس وقت اعلیٰ پائے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ہزاروں بچوں کی تعلیم و تربیت، یتیموں و بیواؤں کی دادرسی، شورش سے پیدا شدہ حالات سے لڑنے کے لیے لوگوں کی معاونت، غریبی کے خلاف لڑائی، بیماروں و مسکینوں کی اعانت، نہ جانے ایسے کتنے شعبے ہیں جن میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر اس وقت ناقابل تردید کردار ادا کر رہی ہے۔ رہی بات مذہب و سیاست کی تو اس میں جماعت اسلامی کا موقف وہی ہے جو اس کے اکابرین پیش کرتے آئے ہیں۔ مذہبی طور پر لوگوں کو اپنے دین سے جڑے رہنے کی خاطر وعظ و تبلغ، دروس و تقاریر، لڑیچر کی فراہمی، وغیرہ ذرائع کا استعمال کر رہی ہے۔ اس میں بھی جماعت اسلامی کی اپروچ اعتدال پر ہے۔ سیاست کے معاملے میں جماعت اسلامی کا نظریہ وہی ہے جو اقوام متحدہ کی قرار داتوں میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عوامی استصواب رائے کے ذریعے ہی حل کیا جائے، کیوں کہ اس حق کا وعدہ ایک تو فطری بطور پر لوگوں کو ملنا چاہیے، دوسرا اس حق کا اقرار بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری نے بھی کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے تناظر میں جماعت اسلامی مزید یہ بھی کہتی ہے کہ بھارت، پاکستان اور کشمیر کی لیڈر شب ایک ہی میز پر جمع ہو جائیں اور اس دیرینہ مسئلے کا حل نکالیں۔
اس سلسلے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ تمام امور جماعت اسلامی جموں و کشمیر ببانگ دہل انجام دے رہی ہے۔ کوئی زیر زمین کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ نہ صرف جموں و کشمیر میں بلکہ پوری دنیا میں جماعت اسلامی کی دعوت فساد فی الارض کی روادار نہیں ہے۔ پر امن طور پر ہر محاذ پر مسئلے کو سلجھانے کی روادار یہ جماعت نہ صرف کشمیر کے مسلمانوں کی فلاح کی ضامن ہے، بلکہ وادی میں مقیم غیر مسلم آبادی کی ترقی کی خواہاں۔ اس کا ثبوت جماعت اسلامی کے طریقہ کار میں بارہا دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کو گرفتار کرنے کے لیے حکام کے پاس نہ کوئی ثبوت تھا نہ کوئی عدالتی چارچ شیٹ۔
اس کے بالکل ایک ہفتے کے بعد جمعرات، 28؍ فروری کی شام حکومت ہند کی اندرونی معاملات کی وزارت کی طرف سے ایک غیر متوقع آرڈر آیا کہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر بھارت کی سالمیت اور عوامی امن کے لیے خطرہ ہے، مزید اس کی وجہ سے ملک میں افراتفری اور ملکی یکجہتی کو بھی خطرہ ہے، تنظیم کا عسکری تنظیمات سے قریب کا تعلق ہے اور یہ ملک میں تخریبی کارروائیاں بھی انجام دیتی ہے، اس لیے اس تنظیم پربھارتی قانون Unlawful Activities Act, 1967 کے تحت پانچ سال تک پابندی عائد کی جاتی ہے۔ متعلقہ حکم نامے پر نہ صرف حریت پسند قیادت بلکہ مین اسٹریم جماعتیں بھی برہم ہوئیں، اور اسے ہر کسی ذی حس انسان نے حقیقت کے منافی اور سر اسر غیر جمہوی قرار دیا۔ بھارت نواز پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سیاسی تناؤ مزید بڑھ جائے گا اور امن کی راہوں میں مزید خرابی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ایک مذہبی و سیاسی جماعت ہے، جس کے تحت کئی سارے فلاحی ادارے چل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کر دیا کہ جماعت اسلامی تشدد کی روا دار نہیں ہے۔ حال ہی میں بھارتی بیوروکریسی کو خیر آباد کہنے والے، سابق آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل نے کہا کہ ’فلاحی کاموں و انسانی بچاؤ کے کاموں میں جماعت اسلامی نے کافی کام کیا ہے، میں اس بات پر حیران ہوں کہ ایسا کام کرنے پر بھی جماعت اسلامی پر کیوں کر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جماعت اسلامی کے کام کاج کا طریقہ پر امن ہے، جس میں کسی بھی تشدد یا انتہا پسندی کی آمیزش تک نہیں ہے۔ سیاسی محاذ پر بھی اسی پر امن طریقہ کار کو اپنایا جار ہا ہے۔ جماعت کی اپنی پالیسی ہے، جس میں کسی کے ساتھ غیر دستوری و زِیر زمین روابط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جماعت کے زیر سایہ اس وقت سیکڑوں میں فلاحی ادارے چل رہے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں طالب علم ان اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں نوجوان روز گار بھی کما رہے ہیں۔
ہر جگہ پر بیت المال کا قیام ہے، جہاں پر غریبوں کی داد رسی کی جاتی ہے۔ متعلقہ حکم نامے کے بعد ریاستی سرکار کی طرف سے ایک اور حکم نامہ نافذکیا گیا کہ جس میں جماعت کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے لیے اضلاع سطح پر آفسروں کو اختیارات دیے گئے۔
پابندیوں کا یہ سلسلہ جماعت پر عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔ ماضی میں بھی جماعت پر پابندیاں عائد کی گئیں، جماعت کے کارکنان کو شہید کیا گیا، جماعت کے لڑیچر کو جلایا گیا، حتیٰ کہ قرآن پاک کے اوراق تک کو بھی یہ کہتے ہوئے نہیں بخشاگیا کہ یہ ’مودودیؒ ‘ قرآن ہے۔ جماعت کے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور دوست و احباب تک کو بھی نہیں بخشا گیا۔ لیکن یہ بات بلا خوف و تردید کہی جا سکتی ہے کہ جماعت ماضی کے مقابلے میں نئے جذبے اور نئے ولولے کے ساتھ ہر وقت پر ابھری۔ کشمیر کے ایک معروف قانون دان، ڈاکٹر شیخ شوکت نے اس حوالے سے ایک ہم نقطہ بیان کیا کہ جماعت اسلامی کا معاملہ بالکل مختلف ہے، یہاں پر کسی ایک فرد کو پابند سلاسل کرنے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اِس کے بعد اُس جگہ کو پُر کرنے کے لیے میکزم موجود ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی ایسے ہتھکنڈے آزمائے گئے، لیکن بدلے میں حاصل کچھ نہیں ہوا۔ جماعت کا ہر رکن، ہمدرد، رفیق اپنی جگہ خود ایک جماعت ہوتا ہے۔ جماعت ایک فکر ہے، ایک نظریے ہے، جسے قید یا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کارکنان کو اپنے کام کا پورا ادراک ہوتا ہے، جماعت کے اندر کی گئی تربیت کا خاصا ہی یہ ہے کہ حالات چاہے کتنے بھی ناسازگار ہوں، لیکن کارکن اپنے بنیادی مشن سے کبھی دستبرار نہیں ہوسکتا۔ وہ عین موقع پر خود کا امیر بنتے ہوئے اپنا کام جاری و ساری رکھتا ہے، قطع نظر اس کے تنظیم کالعدم ہے یا کام کر رہی ہے۔
جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے بہی خواہاں سے یہی امید ہے کہ وہ ناامید نہ ہوں، حالات کے تھپیڑوں سے غم نہ کھائیں، جذبات کی نظر اپنے خیالات کو نہ کریں، منفی سوچ کو توڑ پھینکیں، بلکہ یہ وقت ہے اللہ کے شکر کا، کہ زمانہ گواہ ہے کہ باطل کے سامنے زِیر ہونے کے مقابلے میں ہم نے صعوبتیں برداشت کیں، قید خانے پسند کیے، ٹارچر تک کو بھی برداشت کیا، لیکن اپنے موقف اور اصولوں پر ڈٹے رہے۔ مومن کی شان ہی کچھ اور ہے۔ اُسے دنیاوی کامیابی یا ناکامیابی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، بلکہ وہ بس اللہ کے سامنے اپنی سعی کرتے ہوئے عظیم مرتبہ کما لیتا ہے۔ ضرورت استقامت اور صبر و ثبات کی ہے، اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی، حکمت عملی سے کام لینی کی ہے، متوقع راہیں ڈھونڈنے کی ہے اور پاک پروردگار سے ہی حمایت و نصرت کی درخواست کرنی ہے۔