September 22nd, 2019 (1441محرم22)

کشمیر—-ظلم رہے اور امن بھی ہو؟؟

 

شکیل احمد ترابی

 

پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد بھارتی نیتاؤں نے حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بجائے روایتی انداز میں پاکستان کیخلاف الزام تراشی کی انتہاء کر دی۔ پردھان منتری نریندرمودی نے کہا جُلم (ظُلم)کی انتہاء ہوگئی، ہم اس جُلم کا بدلہ لیں گے۔ مودی جی کی کابینہ میں کوئی صاحب فہم و ذکاء ہوتا تو انہیں بتاتا کہ جناب خود کش بمبار شہید عادل احمد ڈار نے جُلم کا بدلہ ہی تو لیا ہے۔ جناب مودی کشمیر میں ریاستی ظلم بھی رہے اور امن بھی ہو یہ کیسے ممکن ہے؟ کشمیریوں نے انتخابات میں حصہ لیکر بھی دیکھ لیا مگر ان کی بات کہیں نہ سنی گئی۔ کشمیر میں مسلح مزاحمت کی سب سے بڑی تنظیم حزب المجاہدین کے سالار اعلیٰ سید صلاح الدین نے نہ صرف سیاسیات میں ماسٹرز کر رکھا ہے بلکہ وہ عملی سیاست میں بھی متحرک رہے۔ وہ 1987ء میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم متحدہ محاذ کی طرف سے امیدوار تھے۔ بھارت سرکار نے دھاندلی کی انتہاء کردی اور لوگ بندوق اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔
مسئلہ کشمیر کو نہرو جی اقوام متحدہ لیکر گئے، استصواب رائے کے لیے کئی قراردادیں منظور ہوئیں مگر کشمیریوں کو رائے کے اظہار کا موقع نہ دیا گیا۔ ہندوستانی حکومتوں کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ جنت نظیر کشمیر کو موت کی وادی میں بدل کر رکھ دیا گیا۔ ہر دس گز پر فوجی یا پیراملٹری فورس کا کوئی اہلکار تعینات ہے۔ پھولوں اور زعفران سے لدے کشمیر کی فضاؤں میں خون و بارود کی بُو کی بدولت سانس لینا دشوار ہے۔ کوئی بچہ و خاتون ہمت کر کے کھڑکی یا بالکونی سے باہر جھانکے تو اگلے ہی لمحے پیلٹ گن کے ذریعے اسے نابینا بنا دیا جاتا ہے یا گولی ان کا سینہ چیر دیتی ہے۔ 7 لاکھ بھارتی فوج کشمیریوں کے قتل پر مامور ہے۔ جنوری 1989ء سے 31دسمبر 2018ء تک 95ہزار کشمیری شہید کر دیے گئے۔ ان میں سے 7100 دوران حراست شہید ہوئے، ایک لاکھ شہری گرفتار کیے گئے، ایک لاکھ سات ہزار بچے یتیم ہوئے۔ گیارہ ہزار عفت مآب کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کی گئی۔ اے پی ڈی پی Association of Parents of Disappeared Persons ان والدین کی تنظیم ہے جن کے بچے، بھائی یا قریبی رشتہ دار، بھارتی فورسز کے ذریعے گرفتاری کے بعد لاپتا ہوئے۔ اے پی ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق 8ہزار کشمیر ی بھارتی فوج کی حراست میں لا پتا ہو گئے ہیں۔ سال 2018ء میں اسرائیلی فوج نے 312 فلسطینیوں کی جان لی لیکن بھارت ظلم و درندگی میں اس سے بھی آگے جا نکلا۔ اِس سال میں بھارتی فوج نے 3ہزار آپریشن کیے، جن میں 375 نہتے کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ ان میں 10خواتین اور 35نوجوان بھی شامل ہیں۔ 21کشمیریوں کو حراست میں لیکر شہید کیا گیا، جبکہ 34خواتین بیوہ اور 78بچے یتیم ہوگئے۔ 600 سے زائد گھروں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا، 1300 افراد بینائی سے محروم ہوئے۔ دختران ملت کی قائد آسیہ اندرابی آئے روز پابند سلاسل بنا دی جاتی ہیں، ان کے جیون ساتھی 51سالہ ڈاکٹر قاسم فکتو مسلسل 27برس سے جیل میں بند ہیں۔ قائد حریت سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک اور دیگر قائدین کو جیلوں یا گھروں میں نظر بند رکھا گیا، نمازجمعہ کی ادائیگی تک سے روکا گیا۔
2018ء کے آخر میں 18ماہ کی ایک بچی حبہ نثار کی آنکھ پیلٹ لگنے سے ضائع ہوئی، اب وہ ساری زندگی ایک ہی آنکھ سے دیکھ سکے گی، بھارتی فوج نے بچی اور ماں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ تشدد سے بچنے کی کوشش میں تھیں۔ 8سے 80سال کی خواتین کی اجتماعی آبروریزی بھارتی فوجیوں نے کی۔ دلہن بنی منیبہ، آسیہ اور نیلوفر کو حُجلہ عروسی سے اٹھا کر فوجی کیمپوں میں اجتماعی ہوس (گینگ ریپ) کا نشانہ بنایا گیا۔ نوخیز کلی 8 سالہ آصفہ کو بدترین تشدد کے بعد گینگ ریپ کیا گیا۔ 23فروری 1991ء کو مقبوضہ وادی کے ضلع کپواڑہ کے جڑواں دیہاتوں کونان اور پوش پورہ میں گھروں کی تلاش کی آڑ میں 150سے زائد خواتین کو ہندوستان کی فوج نے بے آبرو کیا۔
پلوامہ کے گاؤں ترال کے استاد مظفر وانی کے بیٹے خالد اور برھان موٹر سائیکل پر گھر جارہے تھے جنہیں ہندوستانی فوج نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کے بعد برھان زیر زمین چلا گیا اور پھر فوج کے ظلم نے برھان وانی کو مجاہدکمانڈر بنا دیا۔ برھان نے سوشل میڈیا کے ذریعے مزاحمتی تحریک کو نئی جہت دی۔ 8جولائی 2016ء کو فوجی کاروائی کے دوران برھان کو شہید کر دیا گیا۔ برھان کی شہادت نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے مہمیز کا کام کیا۔ برھان کی شہادت سے کشمیر کی تحریک میں عام آدمی شریک ہو گیا۔ اس شہادت نے پوری وادی میں آگ لگا دی، اب اس آگ پر قابو پانا بھارتی سرکار کے بس میں نہیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالر منان بشیر وانی کو بھارتی فوج نے اکتوبر 2018ء میں دو ساتھیوں سمیت شمالی کشمیر میں شہید کیا۔
برھان وانی کے گاؤں کے بہت قریب عادل احمد ڈار نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اور ایک پی ایچ ڈی اسکالر منان وانی کے یوں مسلح تحریک میں شامل ہونے نے بھارت کو اخلاقی طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر منان وانی نے انڈیا کی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کیا تھا کہ بھارت ایک ’’دہشت گرد‘‘ ملک ہے۔ بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آکر منان بشیر وانی کی طرح اور بھی جوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہیں۔ برھان وانی کے گاؤں کے قریبی علاقے میں عادل احمد ڈار کے خودکش حملے کے نتیجے میں سینٹرل ریزرو پولیس کے 40 سے زائد اہلکار مارے گئے۔ عادل بھی کشمیر کا ایک عام نوجوان تھا جس کا عسکریت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ پولیس کے تشدد نے عادل کو بارودی مشین میں تبدیل کر دیا۔ دنیا کی کسی عدالت اور کسی ادارے نے کشمیریوں کی فریاد کو نہ سنا تو عادل کے ضمیر کی عدالت نے فیصلہ کیا کہ جن لوگوں کے ہاتھوں اس کی ماں بہن کی عزت محفوظ نہیں ایسے لوگوں کو پھر زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ بھارتی سرکار یاد رکھے عادل کشمیر کا پہلا خود کش بمبار ہے آخری نہیں۔ مودی جی آپ کب تک دنیا کو فریب دیتے رہیں گے کہ یہ حملہ پاکستان نے کروایا؟ آپ کے ملک کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا ایک نہیں کئی بار کہہ چکے کہ ہم کشمیر کو کھو چکے ہیں۔ نصف صدی سے زائد عرصہ تک بھارتی سرکار کی مسلط کردہ کٹھ پتلی کشمیری قیادت فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی اب ببانگ دھل کہہ رہے ہیں کہ تحریک آزادی کو نیا جوش و ولولہ پاکستان نہیں بھارتی سرکار کے مظالم دے رہے ہیں۔
جناب مودی۔۔۔!
پاکستان آپ کا باجگزار نہیں کہ جسے آپ روز دھمکیاں دیتے رہیں۔ پاکستان کی قیادت کے آپس کے اختلافات ممکن ہیں مگر کشمیر کے حوالے سے پوری قوم یکسو ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے مودی جی کو صحیح جواب دیا کہ اگر جنگ آپ شروع کریں گے تو اس کو پھر ختم کرنا آپ کے بس میں نہیں ہوگا۔ یہ بات مودی اور ان کے فوجی سربراہ کے بخوبی علم میں ہے کہ دونوں ممالک اب جوہری قوت کے بھی حامل ہیں۔ ہم پرامن لوگ ہیں مگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اب کے روایتی انداز کی جنگ نہ ہو گی، اس لیے مودی جی اپنی بات پر غور کیجیے کہ جلم آخر کب تک؟ ظلم رہے اور امن بھی ہو، ایسا اب ممکن نہیں ہوگا۔ کشمیریوں کا بھی اب اٹل فیصلہ ہے کہ جلم کا جواب جلم سے دیں گے۔ بھارت کے سنجیدہ طبقے کے لیے بھی غور وخوض کا وقت ہے کہ مودی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کشمیر میں مداخلت کے حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے۔
(اس حوالے سے اشعار کے ذریعے طنز کیا ہے ان کا یہی کہنا ہے کہ پاک بھارت سرحدی تنازع اور کشیدگی اسی وقت ہوتی ہے جب الیکشن ہوتا ہے۔