November 15th, 2019 (1441ربيع الأول17)

وادئ کشمیر میں طاقت کی ڈولتی ہوئی ناؤ

 

 عارف بہار 

بانہال سے کپواڑہ تک135 کلومیٹر لمبی اور 32کلومیٹر چوڑی وادئ کشمیر بھارتی فوج کے بدترین محاصرے اور شدید فوجی جماؤ اور دباؤ کی زد میں ہے۔ چند لاکھ آبادی کے اوپر سات لاکھ فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کا بوجھ ہی کیا کم تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد دس ہزار مزید فوجی وادی میں پہنچا دیے گئے ہیں۔ اس قدر محدود علاقے اور مختصر آبادی پر یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد جماؤ اور تناسب ہے۔ انسانی تاریخ اور قوموں کے عروج وزوال کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ظالم اور مظلوم کے درمیان غیر متوازن تناسب کا وہ مقام ہوتا ہے جہاں طاقت کا ٹائٹینک ڈوبنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس حد پر پہنچ کر طاقت کی صلاحیت جواب دیتی ہے۔ طاقت کے بے اثر ہوجانے کا عمل مزید ردعمل کو جنم دینے کا باعث بنتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ پھر تاریخ کا دھارا اُلٹے رخ مڑنا شروع ہوجاتا ہے۔
محصور وادی کشمیر کم وبیش تین عشروں سے مسلسل طاقت کے جبر کا شکار ہے۔ جنت نظیر کہلانے والی وادی حسرت، یاس اور موت کی بستی میں بدل کر رہ گئی ہے۔ ایک عشرہ ہونے کو ہے کہ وادی شدید عوامی اُبال کا شکار ہے۔ عوام بھارت کے قبضے کے خلاف سربہ کف ہو کر باہر نکل پڑے ہیں۔ مزاحمت کی ایک لہر تھم جاتی ہے مگر ختم ہونے کے لیے نہیں بلکہ یہ عارضی وقفہ ایک نئی لہر کو جنم دینے کے لیے ہوتا ہے۔ برھان وانی کی شہادت کے بعد 2016 میں شروع ہونے والی لہر کسی وقفے کے بغیر جاری ہے۔ اس لہر میں پوری آبادی شریک ہے۔ عملی طور پر اگر کوئی شریک نہیں تو دلی طور پر وہ بھی مزاحمت کا ہمنوا ہے۔ وادی کے ٹین ایجر لڑکوں نے موت کے آئینے میں رخِ دوست دیکھ لیا ہے۔ انہیں موت میں کشش محسوس ہورہی ہے اور زندگی بے معنی اور حقیر لگتی ہے۔ ایسا کسی بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے نہیں ہورہا بلکہ یہ تصورات ان کے عقیدے اور ایمان سے جڑ گئے ہیں۔ پی ایچ ڈی اسکالر بندوق اُٹھاتے ہیں، کھاتے پیتے گھرانوں کے بچے گاڑیوں میں بارود بھر کر جبر کی علامتوں سے جا ٹکراتے ہیں۔ جن کی عمروں کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دنیاوی مستقبل کے پیچھے بھاگتے رہیں وہ موت کا تعاقب کرنے میں لطف محسوس کرتے ہیں۔ اگر کشمیر کی اپنی فوج ہوتی تو اس مقام پر ہاتھ کھڑے کرکے انسانی ہجوم پر گولیاں چلانے سے انکار کر دیتی۔ دنیا کے انقلابات میں ایسا ہی ہوتا ہے مگر یہاں چونکہ بھارتی فوج ایک مخصوص مذہب اور مخصوص ذہنیت کی حامل ہے اور اسے یہ سبق پڑھایا گیا کہ کشمیری اپنے علاقے کو بھارت سے الگ کرکے پاکستان کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں اس لیے یہ سبق بھارتی فوج کو کشمیریوں کو مارکر آسودگی اور لطف دیتا ہے۔ پلوامہ واقعے کے بعد وادی طاقت کے غیظ وغضب کے ایک نئے دور کا سامنا کر نے کو ہے۔
کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں سے آبادی کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ خندقیں کھودی جا رہی ہیں اور اسلحہ اگلی پوسٹوں پر پہنچایا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن زوروں پر ہے۔ مشترکہ مزاحمتی فورم کے لیڈر محمد یاسین ملک اور جماعت
اسلامی کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض سمیت ڈیڑھ سو سیاسی کارکن گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ آفتاب حریت کہلانے والے حریت پسند شبیر شاہ کے تہاڑ جیل میں قتل کی افواہیں پھیلا کر وادی میں سراسیمگی پیدا کی گئی۔ وادی کے دکانداروں کو غلہ ذخیرہ کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ بھارت بھر میں کشمیریوں کے خلاف پرتشدد کارروئیاں جاری ہیں۔ وادی کے مزدور، طلبہ اور تاجر انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پر ہیں۔ بھارت کے خوف زدہ مسلمان مزید سہم کر رہ گئے ہیں اور بھارت کی سکھ برادری کھل کر کشمیریوں کو جبر وتشدد سے بچاکر ماضی کے سارے قرض چکار ہی ہے۔ کشمیری طلبہ تو بھارت میں معاندانہ سلوک سہہ ہی رہے تھے طالبات بھی زد میں آرہی ہیں۔ بریلی میں وادی کی تین طالبات ڈاکٹر اُفق، ڈاکٹر سامعہ اور ڈاکٹر حمیرا کے خلاف پلوامہ حملے کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرنے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے روایتی سیاست دان حالات کی لہر کے باعث تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہونے کی کامیاب اداکاری کررہے ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ اپنے آئین کی دفعہ 35Aکی صورت کشمیرکی خصوصی شناخت کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؟ دنیا بھر کی نظریں اس جانب مرکوز تو ہیں مگر کشمیری اب سود وزیاں کے اس مرحلے سے گزرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کی نظریں بھارت کی عدالتوں، حکومتوں اور قوانین پر نہیں اس ہدف پر ہیں کہ کب قلعہ ہری پربت سے بھارت کا ترنگا لپیٹا جاتا ہے۔
محبوبہ مفتی کہہ رہی ہیں کہ کشمیر کی خصوصی شناخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو کشمیر میں بھارتی ترنگا اُٹھانے والا کوئی نہیں بچے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ وادی میں اب کوئی بھی ترنگا اُٹھانے والا باقی نہیں بچا۔ سری نگر کے روزنامہ چٹان کے مطابق گزشتہ اتوار کی صبح ایک شخص نے لال چوک کے تاریخی گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرانے کی کوشش کی۔ پولیس نے اس شخص کو حفاظتی حراست میں لیا۔ یہ شخص کوئی کشمیری نہیں بلکہ ہریانہ سے کار کے ذریعے سری نگر آنے والا دیپک شرما تھا۔ وادی میں بھارت پر بے بسی اور لاچارگی کا یہ دور شاید ہی اس سے پہلے کبھی آیا ہو۔ یوں لگتا ہے کہ اکہتر سالہ کشمکش کا فیصلہ کن مقام آچکا ہے۔ بھارت وادی کے محصور عوام پر جو قیامت برپا کرنا چاہتا ہے وہ خطے کو مزید کشیدہ اور بدحال کرنے کا باعث بنے گی۔ بھارت کی طاقت کو روکنے کے لیے اب مشوروں اور دھمکیوں سے بڑھ کر علاقائی طاقتوں چین، روس اور پاکستان کو مداخلت کرنا چاہے۔ ان طاقتوں کے پہلو میں انسانی المیہ رونما ہوا تو کوئی بھی نہ سکون سے جی سکے گا نہ ترقی کے خوابوں کو تعبیر مل سکے گی۔ کشمیر اب صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان جھگڑا اور واد�ئ کشمیر کی پٹی تک محدود ہمالیہ کے پہاڑوں سے پیر پنجال کی چٹانوں تک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ دونوں ملکوں کی پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے اس مسئلے کی گہرائی اور گیرائی میں اضافہ کرکے اسے علاقائی سیکورٹی کا معاملہ بنادیا ہے اگر امریکی ماہرین کی اس رپورٹ کو دیکھا جائے جس میں انہوں نے پاک بھارت ایٹمی جنگ کے پوری دنیا اور امریکا تک پہنچنے والے مضر اثرات کی بات کی تھی تو یہ ایک عالمی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔