November 15th, 2019 (1441ربيع الأول17)

کشمیر پر دونوں جانب دو رُخی پالیسی

 

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دھمکی دی ہے کہ پلوامہ حملے کا سفارتی اور تجارتی جواب دیں گے اسے مودی کے لہجے اور رویے کی تبدیلی تصور کیا جارہاتھا لیکن بیان اور اقدامات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بھارت نے مزید دس ہزار فوجی مقبوضہ کشمیر میں داخل کردیے ہیں۔ کشمیر میں طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں کی جارہی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر عبدالحمید فیاض سمیت دو سو افراد کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ پوری وادی میں جنگ کا ماحول بنادیاگیا ہے اور کہا جارہاہے کہ سفارتی اور تجارتی جواب دیں گے۔ پاکستان کی جانب سے تو اب تک صرف بیانات دیے گئے ہیں اور عزائم کا اظہار کیا گیا ہے لیکن مقبوضہ وادی میں فوج اتارنے یا مجاہدین کی عملی مدد والا کوئی کام نہیں کیا گیا۔ بلکہ الٹاجماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت پر پابندی لگاکر بھارت کو خوش کیا گیا اور پلوامہ حملے کی تحقیقات کی یکطرفہ پیشکش کرکے پاکستان کی پوزیشن کو متنازع بنایا جارہاہے۔ بھارت کا حال یہ ہے کہ کشمیریوں پر مظالم کو بے نقاب کرنے پر بھارتی حکومت نے ایمنسٹی اور گرین پیس نامی تنظیموں پر پابندی لگادی ہے۔ ان اقدامات کو رویے اور لہجے میں تبدیلی ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر ہم بھارت کے اقدامات اور رویوں کے تضاد کو دو رخی اور دوغلا پن کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ مودی کا کہناہے کہ ہماری لڑائی کشمیریوں سے نہیں کشمیر کے لیے ہے لیکن کیا مودی سرکار سے کوئی یہ پوچھنے والا ہے کہ اگر لڑائی کشمیریوں سے نہیں ہے تو ہزاروں کشمیریوں کو قتل کیوں کر ڈالا۔ پیلٹ گنوں کا استعمال کرکے ہزاروں کشمیریوں کے چہروں کو زخمی اور بینائی سے محروم کیوں کیا۔ 8 لاکھ فوج کیوں وادی میں اتاری ہوئی ہے۔ پلوامہ حملے کا سفارتی اور تجارتی جواب مزید دس ہزار فوج اتار کر دیا جارہاہے۔ اسے کسی طور بھی معقول رویہ نہیں کہا جاسکتا۔ کسی دانشور نے بھارت میں کانگریس کی حکومت آنے کی دعا کی ہے کہ اس سے نسبتاً کم تشدد اور سختی کا امکان ہے۔ ایسے دانشوروں کے لیے عرض ہے کہ مسلمانوں کے خلاف سارے پر تشدد کام بشمول سانحہ مشرقی پاکستان کانگریس کے دور کے واقعات ہیں۔ مودی تو پاکستان کے خلاف بڑھکیں مارنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ لیکن ہم کیا کررہے ہیں رویہ تو ہمارے حکمرانوں کا بھی دو رُخا ہی ہے۔ ایک طرف حکومت پاک فوج کو جوابی حملے کا اختیار دے رہی ہے، فوج کے ترجمان کہہ رہے ہیں کہ جنگ شروع بھارت کرے گا لیکن اسے ختم ہم کریں گے۔ اور پی ٹی آئی کے وزرا کے کیا کہنے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت دنیا کے نقشے پر ہی موجود نہیں رہے گا۔ انہیں ایسی ہی بات کہنی چاہیے تھی لیکن پی ٹی آئی کیا کررہی ہے ان کی حکومت کے اہم رکن رمیش کمار عمران خان کا خصوصی پیغام لے کر دہلی پہنچ گئے اور زہریلی تقریروں اور چبھتی ہوئی زبان والی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے مصافحہ کر بیٹھے۔ شاید عمران خان کے پیغام میں یہی لکھا ہوگا کہ ہم نے پاک فوج کو فیصلہ کن جوابی حملے کا اختیار دے دیا ہے اب جلدی سے کشمیر خالی کردیں۔ یقیناًیہ کوئی خیر سگالی پیغام ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگیں تباہی لاتی ہیں اور ان سے بچنا چاہیے لیکن جس قسم کے بیانات دیے جارہے ہیں اقدامات اس سے مطابقت نہیں رکھتے اگر نواز شریف یا پیپلزپارٹی کی حکومت کا کوئی نمائندہ اس قسم کی کشیدہ صورتحال میں اچانک بھارت پہنچ کر وزیر خارجہ کو پاکستانی وزیراعظم کا پیغام پہنچاتا تو آج کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ انہیں غدار ہی قرار دیتے۔ بھارتی وزیراعظم کو کسی قسم کا پیغام بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن جب پاکستانی عوام کو یہ باور کرایا جارہا ہو کہ ہم بھارت کو تباہ کرنے جارہے ہیں چند روز میں کشمیر آزاد ہوجائے گا اور مودی ہمارے پیروں میں گرا پڑا ہوگا تو ایسے حالات میں ایلچی بھیجتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے تھی۔ بہر حال دونوں جانب سے جس قسم کے رویے کا مظاہرہ کیا جارہاہے وہ صرف میڈیا کا محاذ گرم کرنے اور اپنے اپنے لوگوں کے جذبات گرم رکھنے کا بہانہ ہے۔ دونوں جانب کی قیادت کشمیر یا کشمیریوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ اس طرح کے کشیدہ حالات پیدا کرنے کے بعد مذاکرات، دوستی اور تعلقات معمول پر لانے کے بیانات بھی اب معمول بن گئے ہیں۔ کوئی بھی شخص جو پاک بھارت حکمرانوں کا طرز عمل جانتا ہے وہ پیشگوئی کرسکتا ہے کہ معاملہ کیا ہے اور کیا ہونے جارہاہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیری پاکستانی قیادت کی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں اور وہ پس رہے ہیں۔ بھارت کے حوالے سے بھی یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ وہ کشمیر پر اپنے دعوے میں اٹل ہے وہ کبھی کشمیر نہیں چھوڑنا چاہے گا۔ پاکستان کے حکمرانوں نے ضرور ڈھیل اور ڈیل کی کوشش کی تھی یہ دو رخی پالیسی ختم ہونی چاہیے۔

                                                                                                                                                                     بشکریہ جسارت