September 22nd, 2019 (1441محرم22)

مسئلہ کشمیر، ذمے دار اقوام متحدہ ہی ہے

 

اقوام متحدہ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے کی پیشکش کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر فریقین چاہیں تو صورتحال بہتر کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں ۔ دیکھنے میں یہ ایک بہترین پیشکش ہے اور اس سے بھارت کی جانب سے شروع کی جانے والی الزام تراشی پر عالمی برادری کی تشویش کا اظہار ہوتا ہے ۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر میں ہونے والے تمام خونریز واقعات کا براہ راست ذمہ دار ہی اقوام متحدہ ہے ۔ اگر اقوام متحدہ کشمیر میں استصواب رائے کروانے کے حوالے سے اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کروالیتا تو آج اس خطہ کی صورتحال یکسر مختلف ہوتی ۔ اسے اقوام متحدہ کی منافقت کہا جائے یا پھر جانبداری کہ اقوام متحدہ نے کبھی بھی کشمیر میں بھارتی مظالم کی کھل کر مذمت نہیں کی ۔ یہ کشمیر میں بھارتی فوج کے اندوہناک مظالم ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر ہیں ۔یہ کشمیر کا مسئلہ ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت اپنے بجٹ کا تقریبا ایک تہائی فوج پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں ۔اگر کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو چکا ہوتا توآج اس خطے میں جنگ کے ہولناک بادل کے بجائے امن کے نغمے ہوتے اور ہر سو خوشحالی ہوتی ۔ ایسے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش کا کشیدگی ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کشمیریوں کے زخموں پرنمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ انتونیو گوترش اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں اور بھارت کو مجبور کریں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے ۔ اگر انتونیو ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کا نام تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا ۔ اقوام متحدہ کم از کم اس امر کو تو یقینی بنائے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون ۔ بے گناہ کشمیریوں پر جو مظلوم ہو رہے ہیں ، دنیا نے اس کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کرکے بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی کا لائسنس دے دیا ہے ۔ اگر یہی کچھ ہونا ہے تو پھر اقوام متحدہ کے قیام کا جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ جناب انتونیو کو سمجھنا چاہیے کہ علاقے میں پائیدار امن کے حل کے لیے ان کا کردار کیا ہونا چاہیے ۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے کا منتظم ہونے کے نانے ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سلسلے میں وہ بھارت پر عالمی دباؤ ڈالنے کے لیے کلیدی کردار ادا کریں ۔ یہ ان کے منصب کا تقاضا ہے کہ جس طرح اقوام متحدہ نے مشرقی تیمور اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو حق خود ارادیت دلوایا ، بالکل اسی طرح اہل کشمیر کو بھی ان کا بنیادی حق استصواب رائے دلوائیں ۔ یقیناًیہ خطہ جناب انتونیو کی مداخلت کا منتظر ہے مگر یہ مداخلت ماضی کی طرح نہیں ہونی چاہیے کہ بھارت کو تھپکی دے کر کہا کہ شریر بچے اب مت کرنا ۔ کشمیری حیران پریشان ہیں کہ خاشق جی کے قتل پر تو اقوام متحدہ پوری طرح متحرک ہوجاتا ہے مگر بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں کو مسلمانوں کی جان و املاک کو نقصان پہنچانے کی سرکاری سرپرستی میں کھلی چھوٹ دی جاتی ہے ۔ گجرات کا واقعہ سب کے سامنے ہے ۔ کشمیر میں روز آگ اور خون کا کھیل کھیلا جاتا ہے مگر اس پر کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے ۔ یہ سب کچھ اقوام متحدہ کے دہرے معیار کے سبب ہے ۔ جناب انتونیو کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ بھارت نے پلوامہ حملے پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلا رکھی ہے لیکن خود بھارت سے ایسی آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ یہ ڈرامہ خود بھارت نے رچایا ہے ۔ پاک بھارت کشیدگی صرف اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب کشمیریوں کو حق خود ارادیت مل جائے ۔                                                                                                                                                                                                   بشکریہ جسارت