August 26th, 2019 (1440ذو الحجة24)

مقبوضہ کشمیر میں بڑی کاروائی

 

 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ بھارتی فوج کا تشدد اور ظلم اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب بھارتی استبداد میں دبے کشمیریوں کے ہاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ کوئی روز ایسا نہیں جاتا کہ جب بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی شہادت نہ ہوتی ہو ۔ پیلٹ گن کے بہیمانہ استعمال سے اب تک ہزاروں کشمیریوں کو نابینا کیا جاچکا ہے ۔ اس میں مرد وزن اور معصوم بچوں اور ضعیف افراد کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔ بھارتی فوجیوں کا خاص نشانہ کشمیری جوان ہیں ۔ ہر روز کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے اور نوجوانوں کو چن چن کر حراستی مراکز میں منتقل کردیا جاتا ہے جہاں ان پر سفاکانہ تشدد کیا جاتا ہے ۔ جمعرات کے روز پلوامہ سیکٹر میں بھارتی فوجی قافلے پر حملہ ظلم کے شکار ان جوانوں کا تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق ردعمل تھا ۔ اس حملے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ بھارتی حکومت ہوش کے ناخن لے اورمقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاؤنی سے دوبارہ ایک پرامن وادی میں تبدیل کرے ۔ اس کے بجائے بھارتی حکومت نے دوبارہ سے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی ہے اور اس حملے میں پاکستان کا ہاتھ ہونے کا واویلا شروع کردیا ہے ۔ بھارت نے نہ صرف پاکستان کو اس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے بلکہ خدشہ ہے کہ وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی بڑی کارروائی بھی کرسکتا ہے ۔پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کی اطلاعات اتنی قوی ہیں کہ امریکا نے بھی اپنے شہریوں کو پاکستان کا سفر کرنے سے محتاط رہنے کا مشورہ دیاہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اب اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ خود بھارتی حکومت کے کٹھ پتلی بھی آواز بلند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں کئی مرتبہ کٹھ پتلی حکومت بنانے والے فاروق عبداللہ کا ایک وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں فاروق عبداللہ بھی بھارتی حکومت کو یہ مشورہ دینے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اگر بھارتی حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو اس طرح کے واقعات پیش آتے رہیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی قیادت آخر کیوں یہ بات نہیں سمجھ لیتی ۔ کشمیر ایک علاقائی نہیں بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس بارے میں اقوام متحدہ میں طے کیا جاچکا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کرنے کا حق کشمیریوں کو ہے ۔ اس کے لیے وہاں پر استصواب رائے ہونا چاہیے ۔ بھارت کی اس ہٹ دھرمی کا خمیازہ صرف کشمیری ہی نہیں بھگت رہے بلکہ پورا بھارت بھگت رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان وجہ نزاع ہے ۔ اسی وجہ سے بھارت نے نہ صرف بھاری بھرکم فوج رکھی ہوئی ہے بلکہ ہر برس یہ اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی خریدتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اگر بھارت ایک برس اسلحہ کی خریداری نہ کرے تو ہر کشمیری کو 30 لاکھ روپے مل سکتے ہیں ۔ بھارتی عوام شدید مفلوک الحالی کا شکار ہیں ۔ پورے بھارت میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے ۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا یہ حال ہے کہ گزشتہ دنوں ایک لڑکی کو اس کے بوائے فرینڈ کے ساتھ جاتے ہوئے بارہ لڑکوں نے اغوا کرکے گینگ ریپ کیا ۔ نئی دہلی کو پوری دنیا میں ریپ کیپیٹل کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ بھارت کو چاہیے کہ کشمیریوں کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے دے اور اپنی توانائی اپنے عوام کے تحفظ اور خوشحالی پر صرف کرے ۔ موجودہ بھارتی قیادت عام انتخابات میں کامیابی کے لیے کبھی ہندوتوا کا نعرہ بلند کرتی ہے اور اس کے تحت مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوجاتا ہے تو کبھی دشمنوں کو سبق سکھانے کے نام پر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائی شروع کردیتی ہے ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ بھارت پاکستان میں کیا کچھ کرتا رہا ہے اور اب امریکی حکومت کی امریکی شہریوں کے لیے پاکستان میں محتاط رہنے کی ہدایت بھی یہ بتاتی ہے کہ بھارتی حکومت کے عزائم کیا ہیں ۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ امریکا سے دہشت گردی کی اطلاع کے بارے میں مکمل معلومات لے اور بھارتی عزائم کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور اقدام کرے ۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پوری دنیا میں جارحانہ سفارتی مہم چلائی جائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کو پوری دنیا میں پیش کیا جائے تاکہ دنیا جان سکے کہ بھارت کا اصل چہرہ کیا ہے ۔ اس ضمن میں دوست ممالک خصوصا چین سے مدد لی جائے ۔ چین نے ارونا چل پردیش اور ہماچل پردیش میں بھارت سے اپنے سرحدی معاملات بہ زور قوت حل کیے ہیں ۔ چین کی مدد سے مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کے لیے بھارت کو مجبور کیا جاسکتا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے بارے میں روایتی بیانات کا خاتمہ کیا جائے اور اس ضمن میں قوم کو اعتماد میں لے کر ایک قومی پالیسی تشکیل دی جائے ۔ صورتحال یہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق دہلی میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کرکے سخت الفاظ میں احتجاج کیا گیا۔ سفارتخانے پر احتجاج بھی کروایا جارہا ہے۔ بھارتی وزراء تو کھل کر دھمکیاں دے رہے ہیں۔ واقعات کے مطابق بھارتی فوج کے کاررواں پر ہائی وے پر حملہ ہوا ہے جب کہ فوج کی نقل وحرکت خفیہ رکھی جاتی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات 7 لاکھ بھارتی فوج کیا کر رہی ہے۔ یہ فوج کی سیکورٹی کی صریح ناکامی ہے۔ پلوامہ میں جس خودکش حملے کا الزام پاکستان پر عاید کیا جارہا ہے وہ ایک کشمیری نوجوان وقاص نے کیا جو پلوامہ میں پیدا ہوا اور آباؤ اجداد کی طرف سے کشمیری ہے۔ اس کا الزام جیش محمد پر لگانا حماقت ہے۔ پاکستان میں جیش محمد پر پابندی ہے اور بھارت دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس نے پلوامہ سمیت پوری مقبوضہ وادی میں جیش محمد کا خاتمہ کردیا اور اس کے کئی کمانڈر مار دیے گئے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایسے واقعات عموماً اس وقت پیش آتے ہیں جب کوئی اہم غیر ملکی شخصیت پاکستان آرہی ہوتی ہے۔ بھارت کو افغانستان میں ناکامی کا سامنا ہے چنانچہ اسے پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کا موقع مل گیا ہے۔ کرتار پور بارڈر کھولے جانے پر بھی بھارت میں منفی پروپیگنڈا کیا گیا چنانچہ مذکورہ واقعے پر یہ معاملہ بھی متاثر ہوگا۔ اگلے ماہ پاکستانی وفد کرتارپور بارڈر پر گفتگو کرنے نئی دہلی جانے والا تھا، اب شاید نہ جاسکے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کا مقدمہ بھی عالمی عدالت میں شروع ہورہا ہے اور بھارت کی کوشش ہوگی کہ اپنے حاضر سروس جاسوس کو بچانے کے لیے پلوامہ کے حملے میں پاکستان کو ملوث کرے۔ خدشہ یہ ہے کہ بھارتی انتہا پسندوں کے بیانات کے مطابق پاکستان کے اندر کوئی بڑی کارروائی بھارت کی طرف سے ہوسکتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو انتخابات جیتنے کے لیے پاکستان کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی ضرورت ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مقبوضہ وادی میں روزانہ 2، 3 ، 5 کشمیری شہید کیے جارہے ہیں۔ اس کا ردعمل تو ہونا ہی تھا۔ گزشتہ 30 سال میں مقبوضہ کشمیر میں یہ بڑا واقعہ ہے۔اس سے پہلے اڑی میں بھارتی فوج پر حملہ ہوا تھا جس میں 14، 15 بھارتی فوجی مارے گئے تھے، بھارت نے فوری طور پر خودکش حملہ آور اور جیش محمد سے وابستگی کا اعلان تو کردیا ہے لیکن ایسا ہی اعلان ممئی حملے میں ملوث اجمل قصاب کے بارے میں کیا گیا تھا کہ وہ ایک چھوٹی سی کشتی میں سمندر عبور کرکے ممبئی میں داخل ہوا۔ اور اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اجمل قصاب بھارتی ریاست اتر پردیش کا رہائشی تھا اور اس کے پاس تمام شناختی دستاویزات تھیں جو چند دن میں نہیں بن سکتیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پلوامہ حملہ بھی ’’را‘‘ کی سازش ہو تا کہ مزید کشمیریوں کو ہلاک کرنے کا جواز مل جائے۔ یہ کام شروع بھی ہوگیا ہے۔

                                                                                                                                                                           بشکریہ جسارت