June 19th, 2019 (1440شوال15)

حکمران کشمیر کی حمایت کیلئے خود کب جاگیں گے?

 

پاکستانی قوم آج یوم یکجہتی کشمیر منار ہی ہے ۔ یہ عوامی دباؤ ہے جس کی وجہ سے حکومتیں 5فروری کی عام تعطیل ختم نہیں کر پائیں ۔ ورنہ تو قومی اہمیت کو اجاگر کرنے والے مواقع ختم کرنا حکومتوں نے اپنی ذمے داری سمجھ لی ہے۔ کشمیر تقسیم برصغیر کا نا مکمل ایجنڈا ہے ۔ کشمیر کو بھی دیگر ریاستوں کی طرح بھارت نے ہڑپ کر رکھا ہے لیکن یہاں تحریک حریت اُٹھ کھڑی ہوئی ورنہ حیدرآباد دکن ، منادور اور دیگر علاقوں سے تو آواز تک نہیں اٹھی ۔ بھلا ہو قاضی حسین احمد مرحوم کا جن کی کوششوں کے نتیجے میں حکومت پاکستان پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے پر تیار ہوئی ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے اسے بھی مدر ڈے ، فادر ڈے اور دیگر ایام کی طرح منانا شروع کر دیا ہے ۔ یہ دن منانے کا مقصد محض دن منانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ کشمیر کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ قومی نصاب میں کشمیر کیاسباق ایک ایک کر کے غائب کر دیے گئے ہیں بلکہ برہان مظفر وانی شہید کی تصویر لگانے پر فیس بک نے اکاؤنٹس بند کیے تو پاکستانی حکومت کچھ نہ بول سکی ۔ آج پھر قوم 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منا رہی ہے لیکن اس حال میں کہ بھارت پورے کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے یہاں سے منہ توڑ دینے اور بھر پور جواب دینے کے بیانات جا رہے ہیں ۔ نہ کشمیر پر بین الاقوامی فورمز میں وکالت کی جار ہی ہے نہ بھارت کی دہشت گردی کو اجاگر کیا جا رہا ہے ۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور آمروں کے در کی خاک چھاننے کے بعد پی ٹی آئی کے وزیر خارجہ بننے والے مخدوم شاہ محمود قریشی اب بھی وہی بات کہہ رہے ہیں جو وہ جنرل پرویز ، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے وزیر ہونے کے دوران کہتے تھے ۔ یعنی کشمیر میں مظالم پر دنیا کو جگانے کی کوشش کریں گے ۔ لیکن خود کب جاگیں گے ۔ اس کا پتا نہیں ۔ وہ کسی ضروری کام سے برطانیہ جا رہے تھے تو جاتے جاتے یہ کہہ کر گئے ہیں بلکہ قوم کے لیے زبر دست خبر سنا کر گئے ہیں کہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے ۔ اس ستون سے چمٹ کر ہمارے سارے حکمران آہ زاری کرتے ہیں ، یہودیوں کی دیوار گریہ کی طرح ہر سال کشمیریوں پر مظالم کی یاد مناتے ہیں اور کشمیریوں کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اس مرتبہ بھی اتنا ہی ہوگا ۔ ان حمایتوں میں عملی حمایت کب شامل ہو گی ۔ دنیا کہتی ہے کہ مذاکرات ہر مسئلے کا حل ہیں لیکن سوویت یونین اور امریکا جیسے بدمعاش ممالک بھی اچھی طرح افغان مجاہدین سے پٹنے کے بعد مذاکرات پر رضا مند ہوئے تھے ۔ بھارت تو مذاکرات کا مذاق اڑاتا ہے ۔ آج راضی ہوتا ہے اور کل مکر جاتا ہے ۔ صبح مذاکرات کی بات کرتا ہے اور شام کو مکر جاتا ہے ۔ اس کے رہنما پاکستان آتے ہیں کشمیر کومتنازع مانتے ہیں اور دہلی جا کرکہتے ہیں کہ پاکستان سے آزاد کشمیر پر مذاکرات ہو سکتے ہیں جسے وہ مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں ۔ ایسے ڈھیٹ قابض ملک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے حریت کشمیر کی کھلم کھلا مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ کشمیری کوئی علیحدگی کی تحریک نہیں چلا رہے ۔ انہیں اقوام متحدہ نے استصواب رائے کا حق دیا ہے ۔ اسے استعمال کرنے کاموقع نہیں دیا جا رہا ہے ۔ جب بھارت ے اندر تحریک حریت مضبوط ہو گی بھارتی فوج کی بھی اسی طرح پٹائی ہو گی جس طرح افغانستان میں سوویت یونین اور امریکا و ناٹو کی ہوئی ہے ۔ تو یہ بھارت بھی مذاکرات پر آمادہ ہو گا ۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ یہ مذاکرات وہ قطر میں کرے افغانستان میں یا دہلی و اسلام آباد میں ۔ بس اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی قیادت جرأت مند ہو۔۔۔ پاکستان کے حکمران صرف باتیں بناتے ہیں قوم کو جعلی جھگڑوں میں الجھا رکھا ہے ۔ اس نے اس کو چور کہا اور اسمبلی میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا تم نے بھٹو کو برا کیوں کہا تم نے ضیاء الحق اور نواز شریف کو برا کیوں کہا ۔ ایک دوسرے کی زباں گدی سے کھینچ لینے کے دعوے کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے ۔۔۔ یہ سب ڈرامے اس لیے کر رہے ہیں کہ قوم ٹی وی پر ان کو دیکھے ، کشمیر کو بھول جائے ۔ اس کا اندازہ لگانا ہے تو 5 فروری کے ٹی وی چینلز کے خبر ناموں میں کشمیر کی اصل خبروں کا تناسب دیکھ لیں ۔ وزراء کے بیانات یا تقریروں کو اس سے الگ رکھا جائے ۔ یہ تو جماعت اسلامی اور کچھ دیگر دینی جماعتیں ہیں جو اس اہم قومی مسئلہ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ورنہ ہمارے حکمران توکب کے اس کو بھی دفن کر چکے ہوتے.

             از جسارت