August 6th, 2020 (1441ذو الحجة16)

کشمیر…. محض یوم یک جہتی کافی نہیں

 

متین فکری
اہل پاکستان ہر سال  5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا دن مناتے ہیں، وہ یہ دن گزشتہ 30 سال سے منارہے ہیں، اس دن کی بنیاد مجاہد ملت قاضی حسین احمد مرحوم نے رکھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روس ذلت و رسوائی کا داغ ماتھے پر سجائے افغانستان سے پسپا ہوچکا تھا اور افغانستان میں روس کی شکست سے حوصلہ پا کر مجاہدین نے کشمیر میں غلغلہ جہاد بلند کر رکھا تھا اور پوری مقبوضہ وادی جہاد کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ بھارت حواس باختہ تھا اور اس کے عسکری تجزیہ کار اسے مشورہ دے رہے تھے کہ کشمیر اس کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے، بہتر ہے وہ پاکستان اور کشمیری قیادت سے مذاکرات کے ذریعے اپنی باعزت واپسی کا راستہ تلاش کرے اور اسے روس کی طرح ذلت و رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایسے میں قاضی حسین احمد نے 5 فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منا کر اہل کشمیر کو پیغام دیا کہ وہ بھارت کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھیں، پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ اظہارِ یک جہتی کے لیے کنٹرول لائن پر انسانی ہاتھوں کی طویل زنجیر بنائی گئی، پہلا یوم یک جہتی جماعت اسلامی نے اپنے وسائل سے منایا، لیکن اس دن کی مقبولیت اور عوام میں اس کی پزیرائی دیکھ کر اگلے سال حکومت نے اسے سرکاری تعطیل قرار دے دیا۔ اس طرح 5 فروری پاکستان کا قومی دن بن گیا۔ لیکن اس دن کے جو تقاضے تھے وہ کسی حکومت نے پورے نہیں کیے۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ بھارت پر عسکری اور سفارتی دباؤ بڑھایا جاتا اور اسے پاکستان اور کشمیری قیادت کے ساتھ بامقصد مذاکرات پر مجبور کیا جاتا۔ 1990 کے عشرے میں بھارت دباؤ میں تھا، مجاہدین مقبوضہ کشمیر میں چھائے ہوئے تھے، کئی علاقے براہ راست ان کے کنٹرول میں تھے، بھارتی فوج ان کے ساتھ مقابلے سے کترا رہی تھی، ایسے میں اگر پاکستان کی حکومت عالمی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھاتی، اقوام متحدہ کو متحرک کرتی، او آئی سی کو فعال بناتی تو بھارت سے بہت کچھ منوایا جاسکتا تھا۔ لیکن حکومت عدم دلچسپی کا شکار ہوگئی۔ نواز شریف کو کشمیر کی آزادی سے زیادہ بھارت کی ناراضی کی فکر تھی۔ مجاہدین کشمیر کو امداد کی فراہمی کے معاملے پر نواز شریف قاضی حسین احمد سے اُلجھ پڑے۔ دونوں کے درمیان اختلافات اتنی شدت اختیار کرگئے کہ بول چال بند اور بیان بازی شروع ہوگئی۔ پھر نواز شریف کی حکومت ختم اور بے نظیر بھٹو کی حکومت آئی تو اس نے بھی مقبوضہ کشمیر میں برپا جہاد کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کیا اور عالمی سطح پر کشمیر کے مقدمے کو آگے بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہ کرسکی۔ نئے انتخابات ہوئے اور نواز شریف تین چوتھائی اکثریت سے پھر برسراقتدار آگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں جہاد جاری رہا لیکن اس میں وہ شدت برقرار نہ رہی جو ابتدا میں تھی۔ بھارت میں واجپائی برسراقتدار آئے تو انہوں نے نواز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔ مسئلہ کشمیر پر بھی بات چیت ہوئی، اس دوران کارگل کا معرکہ برپا ہوگیا اور بھارت کے ساتھ کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی، جب کہ پاکستان میں نواز شریف سے اختلافات کی آڑ میں فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے برسراقتدار آتے ہی مقبوضہ کشمیر میں جاری جہاد کی حمایت کا اعلان کیا اور دنیا پر واضح کیا کہ کشمیری مجاہدین اپنے وطن کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ بھارت ان کے خلاف پروپیگنڈا کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ابھی جنرل پرویز مشرف کا جہاد کشمیر کے ساتھ رومانس جاری تھا کہ 2001 میں نائن الیون ہوگیا۔ امریکا میں ٹوئن ٹاورز کا تباہ ہونا تھا کہ پوری دنیا میں زلزلہ آگیا اور ساری عالمی منظرنامہ بدل گیا۔ امریکا نے مسلمانوں کی آزادی کی تمام تحریکوں کو دہشت گردی قرار دے دیا۔ بھارت کی منہ مانگی مراد بَر آئی اور مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی مسلح تحریک جسے جہاد کہا جارہا تھا دہشت گردی قرار پا گئی۔ امریکا نے جنرل پرویز مشرف پر دباؤ ڈال کر تمام جہادی تنظیموں پر پابندی لگوادی، جہاد کشمیر کے لیے چندہ جمع کرنا خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ کنٹرول لائن کے راستے مجاہدین کی نقل و حرکت روک دی گئی۔ بعد میں بھارت نے کنٹرول لائن پر خار دار باڑھ لگا کر اور اس میں بجلی دوڑا کر مجاہدین کی نقل و حرکت کو بالکل ہی ناممکن بنادیا۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی مسلح جدوجہد بے آسرا ہو کر رہ گئی۔ جنرل مشرف کے بعد دو سول حکومتوں کا کردار بھی شرمناک رہا۔
پاکستان سے مدد رُک جانے کے باوجود کشمیری عوام نے ہمت نہ ہاری، وہ ہاتھوں میں پتھر لیے بھارتی فوج کے مدمقابل آگئے اور انہوں نے فلسطینیوں کی طرح ’’انتفاضہ‘‘ کا نیا دور شروع کردیا جو عدیم النظیر قربانیوں کے ساتھ بدستور جاری ہے۔ بھارت کشمیری نوجوانوں کا بے تحاشا لہو بہا رہا ہے۔ ظلم اور ریاستی دہشت گردی کی نئی تاریخ رقم کررہا ہے لیکن کشمیری نوجوانوں نے حوصلہ ہارنے سے انکار کردیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان جہادی صفوں میں شامل ہورہے ہیں اور بھارتی استعمار کو للکار رہے ہیں۔ دنیا کو یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو مزاحمت جاری ہے اس میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں، خود بھارتی جرنیل یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم جتنے کشمیری مارتے ہیں اس سے زیادہ کشمیری پھر سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ تو کیا ایسی صورت میں پاکستان کو محض یوم یک جہتی کشمیر منا کر خوش ہوجانا چاہیے؟۔ نہیں‘ اس کی ذمے داری ہے کہ وہ سفارتی محاذ پر غیر معمولی سرگرمی دکھائے، عالمی اداروں کو جھنجھوڑے، عالمی ضمیر کو بیدار کرے اور عالمی برادری کو کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر مجبور کردے۔ یہ کام کشمیر کاز کے ساتھ غیر معمولی کمٹمنٹ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اب بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں، اس کے ساتھ زبردست سفارتی جنگ کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی حکومت نے اگر یہ ذمے داری پوری نہ کی تو خدشہ ہے کہ کشمیریوں کا لہو کہیں رائیگاں نہ چلا جائے۔ یوم یک جہتی کشمیر آج ہمیں یہی پیغام دے رہا ہے