August 6th, 2020 (1441ذو الحجة16)

طاقت کے بل پر مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں

 

ایس احمد پیرزادہ 

ایک دہائی قبل بھارت کے سیاسی حلقوں میں فائر برانڈ اور سخت گیر سمجھے جانے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے اِڈوانی نے اپنی سوانح حیات My Country My lIfe میں اندراگاندھی کی جانب سے 1975ء میں لگائی جانے والی ایمرجنسی اور اس کی آڑ میں گرفتاریوں اور پابندیوں کا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔ 1976ء میں اپنی 19 ماہ کی گرفتاری کے بعد رہا ہونے کے حوالے سے ایک جگہ موصوف رقم طراز ہیں: ’رہائی کے بعد جب میں اپنے کمرے میں واپس آیا تو اپنی میز پر خطوط کا انبار پایا جن کی تعداد 600 کے قریب تھی۔ یہ خطوط بیرون ِملک سے آئے تھے جو کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ممبرز یا ساتھیوں کے تھے۔ اُن میں سے ایک خط ایمسٹرڈیم سے لاری ہارڈنگس کا کرسمس پیغام تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا: ’آزادی اور اَرمان ساتھ ساتھ نہیں چلتے، وہ (اندراگاندھی) آپ کی آزادی چراسکتی ہیں لیکن آپ کے اَرمان نہیں چھین سکتیں۔‘ لاری ہارڈنگس کے اس جملے پر ایل کے اِڈوانی نے آگے لکھا کہ ’ہاں! انہوں نے 60 کروڑ لوگوں کی آزادی چُرالی، لیکن وہ ان کی اْمیدوں کو ختم نہیں کرسکیں۔‘ ایل کے اِڈوانی بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی رہنماؤں میں شامل ہیں اور اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں بحیثیت نائب وزیراعظم کے اْن کی سخت گیریت ملکی معاملات پر چھائی رہتی تھی۔ موصوف نے لاری ہارڈنکس کے کرسمس پیغام کو اپنی سوانح عمری میں تحریر کرکے گویااس بات کو تسلیم کرلیا کہ وقت کے حکمران طاقت کے بَل پر لوگوں کی شخصی آزادی تو چھین سکتے ہیں، اْن کو قید کرسکتے ہیں، اْنہیں تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں لیکن وہ لوگوں کے اَرمانوں اور اْمنگوں کو اْن کے دل سے نہیں نکال سکتے۔ بی جے پی کی باگ ڈور آج جن ہاتھوں ہے ،وہ ایک زمانے میں ایل کے اِڈونی کو اپنا ’گُرو‘ اور خود کو ان کا ’چیلہ‘ مانتے تھے اور اْنہی کے سخت گیر اور فرقہ پرستانہ نقوشِ قدم پر چل کر اْنہی کی سوچ اور فکر کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے تھے، لیکن ایل کے اِڈوانی نے طاقت کے بل پر ’اَرمان اور اْمیدوں کو ختم نہ کرنے‘ کی جس بات اور فکر کو تسلیم کیا ہے، آج اْن کے چیلے وہی طریقہ اپناکر لوگوںکی شخصی آزادیاں سلب کرکے اْن کے خواب چھینے کی کوششوں میں ہر وہ اوچھا حربہ آزما رہے ہیں جو مختلف ادوارمیں مظلوموں کے خلاف قابض طاقتوں نے آزمائے ہیں۔ اس تعلق سے مشرق و سطیٰ میں فلسطین اور برصغیر میں جموں وکشمیر مثال کے طور پیش کیے جاسکتے ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر تقسیم ہند کے وقت سے ہی متنازع خطہ چلاآرہا ہے۔ اس خطے کے کروڑوں عوام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا۔ گرچہ دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں وعدے بھی ہوئے، قرادادیں بھی پاس ہوئیں، جنگیں بھی ہوئیں، معاہدے بھی ہوئے، سمجھوتے بھی ہوئے، صلح کی یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں، تاہم تاحال وعدے وفا ہوئے اور نہ یقین دہانیوں ہی کا پاس ولحاظ رکھا جا سکا بلکہ کسی قرارداد پر عمل تک نہیں ہوا۔ اس پر پوری دنیا اور عصری تاریخ گواہ ہے۔ جب بھی ریاستی عوام نے جائز اور جمہوری طریقے سے اپنے سیاسی حقوق کی بازیابی کی بات کی تو اْن کی بات سننے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے وہ سب کچھ کیا گیا جو طاقت کے نشے میں مغرور طاقتیں کمزور قوموں کے خلاف کرتی رہی ہیں۔ اپنے حقوق مانگنے والوں کے لیے جیل اور تعذیب خانوں کے دروازے وا کیے گئے، اْن کی نسلوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا، اْن کے پیرو جواں کے ساتھ کم سن بچوں تک کو زنیت زنداں بنایا گیا، اْن کی املاک تباہ و برباد کی گئیں اور اْنہیں ہر طرح کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔گزشتہ ایک دہائی بالخصوص 2008ء کی عوامی تحریک کے بعد سے یہاں حکام نے نئی نئی اصطلاحات ایجاد کیں جن کا سہارا لے کر کم سن بچوں سے لے کر بڑے بزرگوں تک کو جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے۔ شخصی آزادیاں اس خیال خام کے تحت سلب کرلی جاتی ہیں کہ لوگ تنگ آکر اپنی اْمیدوں اور اَرمانوں کی دنیا ہی کو جلا کر راکھ کردیں۔ اور یہ سب کچھ وہی لوگ کررہے ہیں جنہوں نے 70ء کی دہائی میں ایمرجنسی کے نتیجے میں ہونے والی گرفتاریوں کے بعد تسلیم کیا کہ جسموں کو پابند سلاسل بنانے سے نظریے کمزور نہیں ہوتے اور نہ ہی قومیں اور جماعتیں خواب دیکھنا ترک کرتی ہیں۔
بی جے پی کی دہلی سرکار نے کشمیری عوام کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی جو پالیسی شروع ہی سے اختیار کی ہوئی ہے، اْس پر وہ افسپا (آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ) کی مددسے پوری طاقت اور شدت کے ساتھ عمل پیرا ہے۔ ایک جانب آپریشن آل آؤٹ کے ذریعے آئے دن کشمیری نوجوانوں کو مارا جارہا ہے، ہر سال سیکڑوں شہری، بالخصوص نوجوان گولیوں کا نشانہ بنائے جارہے ہیں۔ بلاناغہ مقامی اخبارات میں بڑے بڑے جنازوں کی دل آزار خبریں اورخون کھولا دینے والی تصاویر شائع ہوتی ہیں۔ مرنے مارنے کو شوق اور مشغلہ بنادیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں کشمیری نونہالوں کی لاشوں سے قبرستان آباد ہورہے ہیں۔ کشمیر کے سیاسی حل کاارمان رکھنے والے نوجوانوں پر آئے دن بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا جارہا ہے، سیاسی جدوجہد پر یقین رکھنے والی مزاحمتی جماعتوں کے اکثر کارکنان کو مسلسل جیلوں میں نظر بند رکھا جارہا ہے۔ وادی کی جیلوں کے علاوہ صوبے جموں کے کورٹ بلوال، ہیرا نگر، ادھم پور، امپھالہ نیز ہریانہ ، دہلی، گجرات اور یوپی کی جیلوں میں بھی کشمیری قیدی برسوں سے پڑے سڑ رہے ہیں،جن میں اکثریت سیاسی قیدیوں کی ہے۔ آئے دن اخبارات میں خبریں اور تبصرے شائع ہوتے رہتے ہیں کہ جیلوں میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ اْنہیں معقول غذا فراہم نہیں کی جارہی، عدالتوں میں سرکاری وکلا اْن کے مقدمات کو جان بوجھ کر طول دیتے ہیں۔ ایک ایک قیدی پر بار بار پبلک سیفٹی عائد کرکے اْنہیں رہا ہی نہیں ہونے دیا جارہا۔ اس طرح لوگوں کا قانونی اداروں سے یقین و اعتبار ہی ختم کیا جارہا ہے اور وہ اپنے مستقبل سے بھی ناامید ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ سب دہلی کے حکمران دیش بھگتی یا نیشنل انٹرسٹ کے نام پر کررہے ہیں جبکہ پس منظر میں حقیقی مقصد بھارت کو ہندوتوا نظریے کے تحت ریاست بنانا ہے۔ اس ہدف کو ووٹ بینک سیاست کا منافع بخش کاروبار بنانے کے لیے بکاؤ میڈیا کے ذریعے پورے بھارت میں ایسا انسان دشمن ماحول بنایا گیا کہ عام بھارتی بھی کشمیریوں پر روا غیر انسانی مظالم اور افتادکو ’جائز ‘ہی نہیں سمجھتے ہیں بلکہ کشمیریوں پر مزید سختیاں کرنے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔
ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی نے ’نیشنل انٹرسٹ‘ نام کی شے کو الٰہ دین کا چراغ بنادیا ہے، یہ وہ ’جن‘ ہے جس کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی ہر محاذ پر ناکام ہوجانے کے باوجود مخصوص زہر یلا مائنڈ سیٹ رکھنے والے عوام کا ووٹ حاصل کرتی ہے۔ بھارتیوں کے لیے کشمیریوں کی جائز اور مبنی برحق جدوجہد اور پاکستان دو ایسے ’خطرات‘ دانستہ طور پر ’’گھڑ‘‘ لیے گئے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے وہ بغیر سوچے سمجھے سخت گیر اور دھوکے باز پالیسی سازوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی نیشنل انٹرسٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے کونے کونے میں کبھی کشمیری طلبہ کو نشانۂ عداوت بنایا جارہا ہے تو کبھی کشمیری تاجروں کے مال و جان پر حملے ہورہے ہیں۔ کبھی پولیس اور حکومتی ایجنسیاں ریاست سے باہر کشمیری نوجوانوں کو فرضی مقدمات میں ملوث کرکے نہ صرف اْن کی زندگیاں برباد کرتے ہیں بلکہ بیرونِ ریاست کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے عمل کو ترقی اور شہرت پانے کی خاطر ٹریڈ مارک کے طور بھی استعمال کیا جارہا ہے۔رواں برس یکم جنوری ہی سے دہلی سے خبریں موصول ہونے لگی ہیں کہ وہاں کے ہوٹلوں میں کشمیریوں کو کمرے کرایے پر نہیں دیے جارہے۔ رات کے دوران پولیس ہوٹلوں میں گھس کر کشمیریوں کو تنگ کرنا اپنی ڈیوٹی سمجھتی ہے۔ گویا بیرون ریاست کشمیریوں کو ’مجرم اور باغی‘ ہونے کا منفی احساس دلایا جارہا ہے۔ اس سخت گیر رویے کی کہانی شروع سے آج تک کسی بھی پارٹی کی حکومت میں معمولی ہیر پھیر کے ساتھ روارکھی گئی۔ اب مودی سرکارنے اس پالیسی کو کرسی کا چھومنتر بناتے ہوئے سیاسی صنعت کاری میں بدل دیا ہے جس میں ’آپریشن آل آؤٹ‘ کو سرمایہ کاری کی حیثیت حاصل ہے۔ یوں متواتر بھارتی عوام میں کشمیریوں کو خطرہ، دشمن، جنونی کے طور پر پیش کرکے اپنے اپنے الیکشن ایجنڈے میں رنگ بھرنے اور ووٹ بینک سیاست ہوتی رہتی ہے اور صرف کرسی کی خاطر ایک پوری قوم کی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے۔
اندرونِ خانہ گزشتہ نصف دہائی سے اب ایک نئی رسم کو جنم دیا گیا ہے۔ اسمبلی الیکشن ہوں یا پارلیمانی انتخابات، پنجایتیں بنانی ہوں یا پھر بلدیات کے لیے کونسلروں کا انتخاب عمل میں لانا ہو، سرکاری ورزش کو یقینی بنانے کے نام پر پہلے ہی سے شہر و دیہات میں گرفتاریوں کا اندھا دْھند سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔ جن نظر بندوںپر کسی وجہ سے ایک مرتبہ پبلک سیفٹی ایکٹ لگ چکا ہوتا ہے، اْنہیں ہر انتخاب سے قبل پھر تھانے بلاکر مہینوں تک کے لیے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس سرکاری کھیل تماشے کے چکر میں کچھ لوگ ایسے پھنستے رہتے ہیں جن کے ماہ وسال زیادہ تر سلاخوں ہی کے پیچھے گزرتے ہیں اور اْن لوگوں کے لیے الیکشن یا کوئی بھی بڑا سرکاری پروگرام وْبال جان ہی بن جاتا ہے۔ رواں برس ریاستی اسمبلی کے ساتھ پارلیمانی انتخابات بھی ہوں گے۔ مجوزہ انتخابات کے نتیجے میں ’مشکوک کشمیریوں‘ کے سروں پر ’طویل گرفتاریوں کے سلسلے‘ کا خطرہ پھر سے منڈلا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں بے گناہ لوگوں کو زینت ِزندان بنانے کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں ،حکومتی پالیسی ساز اداروں میں کوئی یہ سوچنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے کہ ایسے ہی غیر مناسب اور انسان دشمن اقدامات کشمیری نوجوانوں کو جمہوری طور طریقوں سے متنفر کرتے ہیں۔ عوامی سطح پر مجموعی طور پر اضطراب اور بے چینی پیدا ہوجاتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سرگرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں وردی پوشوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ اس سخت گیری اور آہنی و استبدادی طریقے سے عوامی سطح پر وقتی طور منصوعی خاموشی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن دلوں کے اندر پنپتی نفرت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
عوام کو اپنی بات سامنے رکھنے کا حق حاصل ہے، لوگوں ہی سے حکومتیں بھی ہیں اور ملک بھی۔ لوگوں سے اگر جبراً اْن کی مرضی چھین لی جائے، اْن کی سانسوں پر پہرے بٹھائے جائیں، اْنہیں زبردستی فرماں بردار بنانے کی کوششیں کی جائیں، اْن کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھا جائے تو لازمی طور پر ردعمل بھی پیدا ہوجاتا ہے اور ایسی صورت میں دنیائے انسانیت کے بڑے بڑے ایوان بھی لوگوں کو اپنا احتجاج درج کرانے کا حق فراہم کرتے ہیں۔ اْنہیں اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے اْبھارتے ہیں او ر اکیسویں صدی میں یہ ہرگز ممکن نہیں کہ ایک پوری قوم کو محض طاقت کے بل پر خاموشی اختیارکرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ دہلی سے سرینگر تک حکمران، فورسز ایجنسیاں، پالیسی ساز اور سیاست دان زمینی حقائق کا فہم و ادراک کریں، وہ اپنے ذاتی اور حقیر مقاصد کو پانے کی خود غرضانہ سوچ ترک کرکے بڑے اور وسیع طریقوں سے سوچنا شروع کریں۔ افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریں، عوامی خواہشات کا احترام کریں، لوگوں کی بات سنیں اور لوگوں کی اکثریت جس طرح سے بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتی ہے اْنہیں اس کا حق فراہم کر یں۔ مذاکرات کی میز پربیٹھ کر ٹھنڈے دل و دماغ ہی سے مستقل اور ٹھوس بنیادوں پر مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔ بات چیت اور افہام و تفہیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو کشمیریوں سمیت برصغیر کے کروڑوں عوام کو سکھ، امن اور آزادی کی زندگی عطا کرسکتا ہے، بصورت دیگر تباہی و بربای ہی دیکھنے کو ملے گی۔ اس لیے دہلی کو ریاست جموں وکشمیر میں لوگوں کی شخصی آزادی چھینے کی روش ترک کردینی چاہیے اور اسے یہ جان لینا چاہیے کہ اس جارحانہ طرز عمل سے قومیں نہ اپنے دل کے اَرمانوں چھوڑ سکتی ہیں اور نہ ہی خواب دیکھنا اور اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے کوششیں کرنا ترک کرتی ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ کشمیر میں طاقت کی زبان میں بات کرنے کی پالیسی ترک کی جائے اور مسئلے کا اْس کے تاریخی پس منظر میں منصفانہ ، آبرومندانہ ، جمہوریت پسندانہ حل نکالا جائے۔ مار دھاڑ، قیدو بند ، تباہ کاریاں، بشری حقوق کی خلاف ورزیاں ہی اگر مسئلے کا حل ہوتیں تو 90ء کی دہائی میں ہی یہ سارا قصہ ختم ہوچکا ہوتا لیکن لاکھ دبانے سے بھی کشمیر کا مسئلہ زندہ ہے کیونکہ حقائق اور سچائی قوت ِ بازو سے دبائے نہیں جا سکتے ہیں۔