August 6th, 2020 (1441ذو الحجة16)

امریکا نکل سکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں؟

 

متین فکری

 

اگرچہ ابھی امریکا اور افغان طالبان کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ امریکا افغانستان سے نکلنے پر آمادہ ہوگیا ہے اور وہ اٹھارہ ماہ کے اندر اپنے ناٹو اتحادیوں سمیت افغان سرزمین سے پسپا ہوجائے گا۔ یہ وہی امریکا ہے جس نے سترہ سال پہلے افغانستان پر اپنی بھرپور فوجی طاقت کے ساتھ حملہ کیا تھا اسے اقوام متحدہ کی غیر مشروط تائید حاصل تھی جب کہ ناٹو ممالک کا مضبوط عسکری اتحاد بھی اس کی پشت پر تھا اور ناٹو کے فوجی بھی امریکی افواج کے شانہ بشانہ افغان طالبان اور عوام کے خلاف برسرپیکار تھے۔ امریکا نے اس جنگ میں کون سا جدید ہتھیار تھا جو افغانستان کے مفلوک الحال اور فاقہ زدہ عوام کے خلاف استعمال نہیں کیا۔ بہت سے انتہائی تباہ کن اور مہلک ہتھیار پہلی مرتبہ افغان سرزمین ہی پر استعمال کیے گئے۔ خاص طور پر ’’بموں کی ماں‘‘ کا تجربہ جس نے پہاڑوں کی تہوں میں موجود غاروں کو ریزہ ریزہ کردیا۔ افغانستان میں امریکا کے جنگی اخراجات کا تخمینہ کھربوں ڈالر لگایا جاتا ہے لیکن بے اندازہ دولت خرچ کرنے اور اپنی جدید ترین جنگی مشینری کا نہایت سفاکی سے استعمال کرنے کے باوجود امریکا فاقہ مست افغانوں کو زیر نہ کرسکا، وہ پاکستان کی طرف امداد طلب نظروں سے دیکھتا رہا۔ پاکستان کے فوجی حکمران نے دھمکی میں آکر اپنی سرزمین تو افغانستان پر امریکی فضائی حملوں کے لیے پیش کردی تھی لیکن اس سے زیادہ وہ امریکا کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ امریکا اس سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرتا رہا۔ وہ رخصت ہوا تو پاکستان کی سول حکومتوں سے بھی امریکا کا مطالبہ یہی تھا لیکن پاکستان کی کوئی حکومت اس کی توقعات پر پوری نہ اُتر سکی۔ بالآخر اسے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ ترک کرکے دست امداد دراز کرنا پڑا۔ امریکا نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ افغان طالبان سے مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرے اور ان مذاکرات کو ممکن بنائے۔ امریکا کی خواہش تھی کہ طالبان قیادت افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوجائے اور وہ پیچھے بیٹھ کر کٹھ پتلیوں کی تار ہلاتا رہے لیکن طالبان کی دور اندیش قیادت نے افغان کٹھ پتلی حکومت کا کردار تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا اور بالواسطہ رابطوں کے ذریعے امریکا پر واضح کردیا کہ اگر مذاکرات ہوئے تو صرف اس کے ساتھ ہوں گے کہ وہی جارح طاقت ہے اور مذاکرات بھی اس بنیادی نکتے پر ہوں گے کہ امریکا افغانستان سے اپنی فوجیں کب نکالے گا۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان ایک سہولت کار کی حیثیت سے امریکا اور طالبان قیادت کا براہ راست رابطہ کرانے اور دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا ہے۔ طالبان قیادت اور امریکی نمائندوں کے درمیان خوشگوار اور مثبت ماحول میں بات چیت ہوئی ہے اور طالبان قیادت کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ہم اپنی بہت سی باتیں منوانے میں کامیاب رہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ معاہدہ طے پاجانے کے بعد صدر ٹرمپ باضابطہ طور پر افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا اعلان کریں گے۔ طالبان قیادت نے یقین دلایا ہے کہ بیرونی حملہ آور فوجوں کی واپسی کے بعد کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی اور عام معافی کا اعلان کردیا جائے گا۔
مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال بھی افغانستان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ امریکا کی طرح بھارت نے بھی ریاست جموں و کشمیر پر جارحانہ قبضہ کررکھا ہے اور اس کی آٹھ لاکھ سے زیادہ افواج نے مقبوضہ ریاست کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے۔ ہر بازار، ہر چوک اور ہر آبادی میں بھارتی فوجی اسٹین گنیں تھامے کھڑے ہیں اور ذرا سے شبہے پر گولیوں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔ پوری کی پوری بستیاں کیمیائی مادہ چھڑک کر نذر آتش کی جارہی ہیں۔ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ بہیمانہ طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچل دیا جائے لیکن وہ اپنی اس کوشش میں بُری طرح ناکام رہا ہے اور خود اس کے لوگ یہ اعتراف کررہے ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اس کے جرنیلوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت سے نہیں بات چیت اور مذاکرات ہی سے حل ہوسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر اَڑا ہوا ہے، وہ کشمیری قیادت سے بامقصد مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔ اس کی خواہش ہے کہ حریت لیڈر شپ ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو جائز تسلیم کرلے اور اس فریم ورک میں کشمیریوں کے لیے کچھ سہولتوں اور مراعات پر اکتفا کرلے لیکن کھیل اب بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، اب اس کے لیے کشمیر کو آزاد کرنے اور کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ عالمی ضمیر بجا طور پر یہ سوال کرسکتا ہے کہ اگر امریکا افغانستان میں سترہ سال تک قوت آزمانے کے بعد وہاں سے نکلنے پر آمادہ ہوسکتا ہے تو بھارت کشمیر سے نہیں نکل سکتا۔ وہ کشمیری قیادت اور پاکستان کے ساتھ مثبت مذاکرات کے ذریعے اپنی باعزت واپسی کا راستہ تلاش کرسکتا ہے۔ بصورت دیگر عالمی برادری اور خاص طور پر اقوام متحدہ کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان اپنی سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے عالمی سطح پر ایک ایسی فضا پیدا کرسکتا ہے کہ بھارت کے لیے گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ امریکا کی واپسی کے عمل نے بہرکیف کشمیریوں کا کیس بہت مضبوط کردیا ہے۔