November 19th, 2019 (1441ربيع الأول22)

یوم جمہوریہ: کشمیریوں کے لیے یوم سیاہ

 

؂جاوید الرحمن ترابی

ہندوستان کی سیاست کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اٹل بہاری واجپائی ہوں ایل کے ایڈوانی، مُرلی منوہر جوشی، نریندر مودی یا ونکیا نائیڈو سب کی روح آر ایس ایس میں پھنسی ہوئی ہے۔ بھارت میں منائے جانے والے یوم جمہوریہ کے خلاف سب سے زیادہ رد عمل کشمیر میں پایا جاتا ہے اور کشمیری ہر سال اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جہاں بھارت نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ جمہوریت جس جبر اور نا انصافی کے خلاف وجود میں آئی تھی، بھارت میں اس کی کوئی رمق نظر نہیں آتی بھارت میں مقیم اقلیتیں ڈھائے جانے والے مظالم سے تنگ آ کر چیخ رہی ہیں کہ انہیں ہندو اکثریت کے ظلم و ستم سے نجات دلائی جائے وہ مذہبی انتہا پسند غنڈوں کے ظلم کا نشانہ بن رہی ہیں۔ بھارت کی بانی کانگریس نے جس مکرو فریب اور دھوکے سے تقسیم کے دوران نا انصافی کی اس نے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ کشمیری مسلمان اس دن کی امید میں بھارتی فوجی اور ثقافتی یلغار کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں۔ 1947 میں آزادی ملی تو آل انڈیا مسلم لیگ جو مسلمانانِ برصغیر کی نمائندہ جماعت تھی کے مطالبے کو عملی شکل دی گئی یوں اس کا مطالبہ پورا ہوا، لیکن نامکمل کیوں کہ کانگریس نے انگریزوں کے ساتھ مل کر تقسیم میں نا انصافیاں کیں اس وقت بھارت کے پاس اپنا آئین نہیں تھا۔ بھارتی آئین کے حتمی مسودے پر 24جنوری 1950ء کو دستخط کیے گئے اور اسے یوم جمہوریہ کے دن 26جنوری 1950ء کو نافذکیا گیا اس دن کے انتخاب کی وجہ ’’26 جنوری 1930ء‘‘ کا دن قرار دیا جاتا ہے جب کانگریس نے ہندوستان کی آزادی کے طور پر اسے 1930ء کو منایا تھا۔ اس دن کے بعد بھارتی عوام کو اپنی حکومت کے چناؤ کا اختیار مل گیا اسی دن بھارت کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندرا پرساد نے گورنمنٹ ہاؤس کے دربار ہال میں حلف اٹھا یا اور آورن اسٹیڈیم جا کر بھارتی ترنگا لہرایا۔ اس دن سے بھارتی یہ دن مناتے آ رہے ہیں، جبکہ عام تعطیل کی وجہ سے سرکاری دفاتر اور کاروباری مراکز بند ہوتے ہیں۔ ویسے تو پورے بھارت میں 24سے 29جنوری تک اس دن کے حوالے سے مختلف تقریبات ہوتی ہیں، لیکن سب سے بڑی تقریب کا بندو بست دہلی میں 26جنوری کو کیا جاتا ہے۔ بھارت میں سرکاری طور پر یہ دن ’’یوم جمہوریہ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن بھارت جمہوری ملک نہیں بلکہ ایک ہندو راشٹریہ بن چکا ہے جو انتہا پسند آر ایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔
جمہوریت کی عمارت جس تصور پر کھڑی ہوتی ہے اس میں مساوات، احتساب، انسانی حقوق کی پاسداری، بلا امتیاز رنگ و نسل اور علاقہ کے ترقی کے مواقع اور اقتدار میں شراکت کے عوامل شامل ہیں۔ بھارت میں جمہوریت ان تمام چیزوں سے آزاد ہے اس پر ہندتوا کا رنگ غالب ہے جسے ہندو انتہا پسند تنظیمیں مزید شوخ کرتی رہتی ہیں۔ وہ برملا اظہار کرتی ہیں کہ مسلمان غیر ملکی اور دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتے رہنا اس کی نظریاتی بنیاد ہے۔ انہیں مطعون و مجروح کرتے رہنا آر ایس ایس کا محبوب مشغلہ اور مستقل پالیسی ہے، ڈاکٹر ہیڈ گوار، ویر سوارکر اورشری گولوالکر کی ہندتوا پر مبنی کتاب اس کی تصدیق کرتی ہے عام مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہریلے خیالات و نظریات کی اشاعت آر ایس ایس اپنا فرض سمجھتی ہے۔
بھارت میں سرکاری سطح پر سب کچھ ہوتا ہے، لیکن بھارتی عوام کی بڑی تعداد کو ابھی تک حقیقی آزادی اور اس کا پھل نہیں مل سکا۔ بھارت میں آج بھی 22 کروڑ سے زیادہ افراد خط افلاس سے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں ترقیاتی بجٹ کا بیش تر حصہ دفاع اور افواج پر خرچ کر دیا جاتا ہے مختلف مذہبی، لسانی اور نسلی طبقوں کو جبراً بھارت کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ درجنوں علیحدگی کی تحریکوں کو دبانے کے لیے سیکورٹی اداروں کے لشکر ان پر تعینات ہیں۔ جموں اور کشمیر میں ایسے متعدد امتیازی قوانین نافذ ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلریشن اور شخصی آزادیوں کے خلاف ہیں جو جدید جمہوری معاشروں نے افراد کو زیادہ سے سہولتیں دینے کے لیے مختص کر رکھے ہیں۔ جمہوریت کی بنیادی روح اس وقت کچلی جاتی ہے، جب ایک ہی ملک میں ایک طرف یوم جمہوریہ منایا جاتا ہو اور دوسری طرف کچھ لوگوں پر ڈریکونین قوانین مسلط کر رکھے ہوں۔ کشمیر میں فوجی دستوں اور ریاستی فورسز کو نام نہاد ایکنو کے ذریعے کشمیریوں کو غائب کرنے اور قتل کرنے کے لائسنس دیے گئے ہیں۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلریشن کے آرٹیکل 3کی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست اور فرد کے درمیان معاہدہ عمرانی سے بھی روگردانی کے مترادف ہے۔ قانون کا بنیادی مقصد کمزور انسانوں کو طاقتور سے تحفظ دینا ہے، لیکن کشمیر میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے جہاں طاقتور کو کمزوروں پر ظلم کرنے کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ کشمیر کی 70سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ایک لاکھ
کشمیریوں کو قتل کرنے کے الزام میں ایک درجن سیکورٹی اہلکاروں کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ نہ ہی بھارتی ضمیر پر کوئی بوجھ ہے۔ 1987ء کے بعد تو بھارتی تشدد میں بے پناہ اضافے سے انسانیت کی روح تڑپ اٹھی تھی۔ سو پور جو کشمیر کا کاروباری اور تجارتی مرکز ہے میں تحریک آزادی کو دبانے کے لیے 1993ء میں جب بھارتی فوجی درندوں نے جس بے رحمی اور سفاکی کا مظاہرہ کیا اسے یاد کر کے آج بھی سو پور میں رہنے والے کانپ اٹھتے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک درندہ صفت فوجی نے دوکانوں اور مکانوں سے اٹھنے والے آگ کے شعلوں میں ایک آٹھ سالہ بچے کو اپنی سنگین پر چڑھا کر پھینکا تو دیکھنے والے بے اختیار چیخ اٹھے۔ لاقانونیت اور ظلم کو ’’آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990ء‘‘۔ کے تحت روا رکھا جاتا ہے، جسے ہر سال ’’یوم جمہوریہ‘‘ منانے والی بھارتی پارلیمنٹ نے 1990ء میں منظور کیا تھا۔ اس قانون کو، نان کمیشنڈ آفیسر کو کسی شہری کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کرنے کا اختیار دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کشمیر اور دنیا بھر میں جہاں بھی کشمیری ہیں بھارت کے یوم جمہوریہ کو اس موقف اور عزم کے ساتھ یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کہ دنیا کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہ دینا جمہوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی قرارداد کے تحت اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور بھارت ایک جمہوری ملک نہیں بلکہ برہمن بالادستی اصل حکمران ہے۔ اس دن مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جاتی ہے۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے شہروں اور قصبات میں بھارتی فوجوں کے لاؤ لشکر بڑھا دیے جاتے ہیں تا کہ کشمیریوں کے مظاہروں سے یوم جمہوریہ منانے کا مزا کرکرا نہ ہو جائے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جو برہمن اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔