September 23rd, 2019 (1441محرم23)

آزادی کشمیریوں کا بنیادی حق!!!

 

زین صدیقی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم شدومد کے ساتھ جاری ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا ظلم ہوتا دیکھ رہی ہے، مگر کسی میں انسانی، اخلاقی اور سفارتی جرات نہیں ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف کچھ بول سکے۔ پاکستان 1947 ہی سے اس تنازع کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ کشمیری اب تک ایک لاکھ سے زاید جانوں، ہزاروں عصمتوں کی قربانی دے چکے ہیں اور مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ 70سال سے سیاہ تاریخ رقم کی جارہی ہے مگران کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کشمیر کی تحریک آزادی کی سب سے بڑی تحریک بن چکی ہے۔ اب اسے محسوس کیا اور سمجھا جانے لگا ہے۔ کشمیریوں کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی پر سے اپنا ناجائز قبضہ ختم کرے اور انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دے۔
بھارت کشمیریوں کا بنیادی حق سلب کرتے ہوئے ان پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے مگر بھارت نے اس کبھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ مسئلے کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ میں منظور قراردادیں موجود ہیں جن پر آج تک عمل نہیں کیا گیا۔ بھارت کو جب بھی مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی دعوت دی گئی، اس نے راہ فرار اختیار کی اور پاکستان کیخلاف حیلے بہانوں سے پروپیگنڈا شروع کردیا، یعنی اس نے مسئلہ پر سرے سے سنجیدگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا۔
کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کے لیے 1947 میںآزادی ہند کے وقت مہاراجا کشمیر و بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اس کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ کشمیریوں جدو جہد کے باعث کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا کہ بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھا دیا۔ اقوام متحدہ نے تنارع کے حل کے لیے 2 قراردادیں منظورکیں جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ طے کیا گیاکہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ تقسیم ہند کے وقت وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا کہ تقسیم ہند میں کسی ریاست سے زیادتی نہیں ہو گی۔ کسی ریاست کی بھارت یا پاکستان میں شمولیت پر تنازع پیدا ہوا تو وہاں کے عوام سے رائے لی جائے گی۔ عوام جو فیصلہ کریں گے وہی قبول کیا جائے گا جب کہ جموں و کشمیر کے بارے میں کہا گیا کہ برٹش گورنمنٹ کی خواہش ہے کہ ریاست سے دہشت گردوں کے انخلا کے بعد حالات معمول پر آنے پر عوام کی رائے لی جائے گی اور اس کی بنیاد پر الحاق کا فیصلہ ہوگا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے، آج 70برس بعد بھی کشمیریوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے نہیں دیا گیا۔
بھارت کا غاصبانہ تسلط آج بھی قائم ہے۔ 8لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی مقبوضہ وادی پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں، کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کے ذریعے ریاست کا انتظام چلایا جاتا ہے اور من مانے فیصلے کرائے جاتے ہیں جب کہ یہ کشمیریوں اور اس کی قیادت کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہتاہے۔ مقبوضہ وادی سے روزانہ شہادتوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ بھارتی فورسز نے جہاں انسانی جانوں کو نقصان پہنچانے کا گھناؤنا عمل شروع کر رکھا ہے وہیں، احتجاج کرنے والوں کو بزورطاقت روکنے کا وحشیانہ عمل بھی جاری ہے۔ مقبوضہ وادی میں اکثر ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی جاتی ہے۔ ہڑتالوں سے کاروبار زندگی مفلوج ہوچکا ہے۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی نے گزشتہ دنوں حق خود ارادیت کے حوالے سے پاکستان کی پیش کردہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ غیر ملکی اور سامراجی تسلط میں زندگی گزارنے پر مجبور افراد کو حق خود ارادیت دینے کے بارے میں قرار داد کی ریکارڈ 83 ممالک نے حمایت کی۔ قرارداد کو آئندہ برس حتمی منظوری کے لیے جنرل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ قرارداد میں ملکوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دیگر ممالک و علاقوں پر اپنے قبضے، فوجی مداخلت اور تمام جبر پر مبنی تمام کارروائیاں ختم کریں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے قرارداد کی منظوری پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ بغیر کسی استثنیٰ کے اور بشمول کشمیری اور فلسطینی عوام کے دنیا بھر میں کسی بھی قوم کا حق خود ارادیت ناقابل تنسیخ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قرار داد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی جو سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق ہے میں پیش کی گئی تھی، کمیٹی نے یہ قرارداد بغیر رائے شماری کے متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔ رواں سال اس قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کی تعداد میں 8 کا اضافہ ہوا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر حق خود ارادیت کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
حق خود ارادیت کی قرارداد پر ممالک عمل کریں تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس دائرے میں امریکا بھی آئے اور شام کے حکمران بھی، برما کی بدھسٹ حکومت بھی اور سیکولر بھارت بھی اور ان لوگوں کو حق خود ارادیت ملے گا جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ آگ و خون میں نہا رہے ہیں اور انہیں دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر آزاد ہو، کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق ملے اور وہ آزاد فضا میں سانس لیں۔ ہمیں یقین ہے کی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ضرور رنگ لائے گی اور یہ حق لینے سے دنیا انہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔