December 10th, 2019 (1441ربيع الثاني12)

مسئلہ کشمیر حل کرانے کاایک اور موقع

 

کشمیر میں شدید سردی کے باوجود مجاہدین اور تحریک حریت کے جوان مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں برفباری اور موسم کی خرابی کے ساتھ ساتھ بھارتی افواج کی حد درجہ سیکورٹی کی موجودگی میں اب تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان دراندازی کررہا ہے کشمیر میں پوری تحریک سو فیصد مقامی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کا دماغ خراب ہوگیا ہے اور وہ حد سے باہر نکل گئی ہے۔ اگر چہ عالمی اداروں کی قرار دادوں اور مطالبوں کا کوئی وزن آج کل نہیں ہوتا لیکن پھر بھی او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی رکوانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے۔ پاکستانی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی بھارتی جارحیت کیخلاف قرار داد منظور کی گئی ہے اور پاک فوج نے بھی بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ جدوجہد آزادی کو گولیوں سے دبایا نہیں جاسکتا۔ اس وقت بھارتی جنون کا یہ حال ہے کہ وہ کشمیریوں کو براہ راست نشانہ بنارہا ہے۔ عالمی ادارے اگر سخت ایکشن لیں تو بھارت کو بریک لگے گا ورنہ اس کی ہمت بڑھتی رہے گی اسلامی کانفرنس نے عالمی برادری کو بھی متوجہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر آگے آئے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں ان کا حق دلوائے۔ اس وقت پاکستان کی پوزیشن ایسی ہے کہ وہ امریکا اور چین دونوں سے اپنی بہت ساری باتیں منواسکتا ہے۔ امریکا افغانستان میں امن کے لیے اور وہاں سے اپنی رہی سہی عزت بچا کر نکلنے کا راستہ تلاش کررہا ہے پہلی مرتبہ باضابطہ درخواست کرکے طالبان سے مذاکرات کی بات کی اور مذاکرات بھی ہورہے ہیں دوسری طرف جب تک سی پیک ہے پاکستان کی ضرورت چین کو ہے۔ اگر سی پیک کے منصوبوں سے پاکستان کو فائدے ہوئے تب بھی اور نقصان ہو تب بھی چین کی ضرورت تو سی پیک رہے گا لہٰذا پاکستان چین کو بھی عالمی قوت کے طور پر استعمال کرسکتا ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ جرأت مند قیادت کا ہے۔ یہ خیال کیا جارہا تھا کہ عمران خان مغرب اور عالمی برادری کے سامنے جرأت کے ساتھ پاکستان کا موقف رکھیں گے لیکن ابھی تک ان کی حکومت اپنی سمت متعین نہیں کرسکی ہے معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہر روز نیا بحران آرہا ہے اور حکومت ڈالر، سرمایہ کاری، قرضوں کے حصول، آئی ایم ایف اور انڈے مرغی میں الجھی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کامسئلہ تو پاکستانی حکمرانوں کی کمزوری کی وجہ سے بھی خراب ہوا ہے ورنہ ماضی میں کئی مواقع ملے اور اس طرح کی صورتحال تھی بلکہ بھارت اس سے زیادہ دباؤ کا شکار تھا اور پاکستان امریکا اور پوری عالمی برادری کا چہیتا تھا لیکن ہمارے حکمراں کشمیر میں استصواب کی تاریخ نہیں متعین کراسکے۔ جنرل ضیا اور جنرل پرویز کو سب سے زیادہ اچھے مواقع ملے تھے جنرل ضیا تو ایٹم بم کے منصوبے کو بہت زیادہ ترقی دے گئے لیکن جنرل پرویز یکطرفہ شرائط تسلیم کرکے سب کچھ گنوا بیٹھے۔ اگر وہ بھی چند باتیں منوالیتے تو ان کے دور میں ہی کشمیر آزاد ہوسکتا تھا۔ اب جو موقع ملا ہے وہ جنرل ضیا اور جنرل پرویز کے دور سے بھی زیادہ بہتر ہے کیونکہ دنیا کی بڑی طاقتیں امریکا اور چین دونوں پاکستان کے بغیر خطے میں قدم نہیں رکھ سکتیں۔ امریکا افغانستان کا مسئلہ حل کرانا چاہتا ہے اور چین سی پیک کے سارے منصوبے کو پرامن رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کی ساٹھ ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے ثمرات اسے ملیں۔ ایسے میں بیدار، مغز اور جرأت مند قیادت اپنے قومی مفادات کی روشنی میں بڑے فیصلے کرواسکتی ہے۔ جب پاکستان طالبان کے ساتھ امریکا کے مذاکرات کرواسکتا ہے تو امریکا اور چین کا دباؤ استعمال کرکے اقوام متحدہ کے ذریعے کشمیر میں استصواب کے لیے فضا سازگار کرواسکتا ہے۔ اس کے لیے مستقبل بین قیادت کی ضرورت ہے۔سارا مسئلہ قیادت کا ہے، کشمیری اپنی جانیں قربان کرکے پاکستان سے یکجہتی اور الحاق کے حق میں فیصلے دیے جارہے ہیں اور یہاں سے ڈھیلی ڈھالی کوششیں ہورہی ہیں۔البتہ اقوام متحدہ میں پاکستانی قرارداد جو دوسرے علاقوں پر قبضوں اور حق خود ارادیت کے حوالے سے ہے متفقہ طور پر منظور ہوئی ہے۔ اس کے اچھے ا ثرات پڑیں گے۔ ملک کے اندر بھی کشمیر کے لیے فضا سازگار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے کم از کم کشمیریوں کی حوصلہ افزائی تو ہوتی ہے۔ ترکی ایغور مسلمانوں کے لیے زبردست مارچ کر رہا ہے تو پاکستان کشمیریوں کے لیے سرکاری سطح پر ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔ جتنا زور ڈیم فنڈ کے لیے دیا گیا ہے اتنا اگر کشمیر کے لیے دیا جاتا فضا سازگار کی جاتی تو کشمیر آزاد ہوچکا ہوتا اور پانی کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا۔

                                                                                                                                                                                    بشکریہ جسارت