September 17th, 2019 (1441محرم17)

27 اکتوبر کشمیریوں کا یوم سیاہ کیوں؟

 

عارف بہار

27اکتوبر کو کنڑول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں آباد کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں۔ مظفر آباد سے سری نگر تک کشمیری ہم آواز ہو کر کشمیر پر بھارت کے قبضے کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ کشمیر میں ستائیس اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب کشمیر کی وادیوں میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی کہ بھارت نے اپنی فوج سری نگر ائرپورٹ پر اتار دی ہے اس کے ساتھ کشمیرکے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی تھی۔ حالات سے مایوس ان سرگرم اور جواں سال سیاسی کارکنوں نے پاکستان کی طرف ہجرت شروع کردی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کشمیر میں نیشنل کانفرنس اور اس کے قائد شیخ محمد عبداللہ بھارتی فوج کو ایک ناگزیر برائی، جان بچانے کے لیے شراب کا گھونٹ اور مسیحا جان کر بغلیں بجارہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ چند ہی برس میں فوج امن وامان قائم کر کے خودمختار کشمیر کو ان کی جھولی میں ڈل کر لکھن پور سے آگے چلی جائے گی۔ مگر ان کی یہ غلط فہمی تادیر برقرار نہ رہ سکی۔ نیم خودمختار ریاست جموں وکشمیر کے محترم وزیر اعظم کو جلد ہی انداز ا ہوگیا کہ کوئی چھوٹی قوم جب بڑی قوموں کے مفادات کا ایندھن بن جائے تو اس کے پاس نار نمرو سے نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ وزیر اعظم کشمیر کو اپنے عہدے کے دوران ہی احساس ہوگیا کہ قبائلی لشکر بارہ مولہ تک سیر وتفریح اور کشمیر کے حسنِ بے مثال کی ایک جھلک دیکھ کر کسی دوشیزہ کی طرح شرما کر لجا کر واپس وزیر ستان چلے گئے ہیں مگر قبائلیوں کے نام پر بن بلائے مہمان مرہٹے فوجی تو اس قدر ڈھیٹ ہیں کہ واپس جانے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ خُوبرو لوگوں کی دھرتی پر قبیح صورت مرہٹوں کی مسلسل موجودگی کسی ستم سے کم نہ تھی اس پر مستزاد ان کے ہاتھوں میں ہمہ وقت تنی ہوئی وہ بندوقیں تھیں جن کی نال میں آخر تک روشنی کا کوئی سراغ نہیں بلکہ تاریکی ہی تاریکی تھی۔ اس صورت حال سے مایوس وزیر اعظم کشمیر اور ’’شیرِ کشمیر‘‘ شیخ عبداللہ کی بے چینی بڑھنے لگی اور انہوں نے بھارت سے کشمیر میں اپنا قیام طویل کرنے کے بجائے وعدوں کی پابندی کرنے کی بات کرنا شروع کی۔ اس بات سے دہلی والوں کی جبینیں شکن آلود ہوتی چلی گئیں اور پھر وزیر اعظم کشمیر کو اصلی اور بڑے وزیر اعظم ہند پنڈت نہرو نے جو ذاتی زندگی میں ان کے ہم ذات کول برہمن، سوشلسٹ نظریاتی ساتھی تھے، انہی کی طرح مذہب کو ریاستی امور سے دور کسی کھونٹے میں باندھنے کے قائل تھے، نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا اس شعر سے مختلف نہ تھا۔
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یوں
اصلی وزیراعظم نہرو نے اپنے دوست لیکن چھوٹے وزیر اعظم شیخ عبداللہ کو اقتدار کی مسند سے اُٹھا کر پٹخ دیا اور ان کا ٹھکانہ جیل قرار پایا۔ اس کے بعد بھارت نے دنیا کی ہر عیاری، دھوکا دہی، جعل سازی، دھونس، دھاندلی، ظلم وتعدی کا سہارا لے کر کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر آفرین ہے کشمیری قوم کے عزم و ہمت پر کہ جو چھیا سٹھ برس سے مسلسل ایک ہی حرف انکار بلند کیے ہوئے ہیں کہ وہ بھارتی نہیں، نہ بھارتی بن سکتے ہیں۔ بھارت نے انہیں اندار گاندھی کی موت پر آنسو بہانا سکھانے کی ہر تدبیر کی مگر وہ جذباتی اور سیماب صفت لوگ بھٹو اور ضیاء الحق کی موت پر روتے رہے، بھارت نے انہیں کپل دیو اور اظہر الدین کے چھکوں پر دیوانہ وار رقص پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ میانداد اور شاہد آفریدی کے چھکوں پر رقص ومستاں ہوئے۔ بھارت نے ان کے ذہنوں کی انڈینائزیشن کی تدبیریں کیں تو یہ صوفی منش قوم خود اپنی ذات اور قومی وجود میں گم ہو کر Self centred ہو کر رہ گئی۔ اس نے اس بات سے کوئی غرض نہیں رکھی کہ لکھن پور سے آگے کون حکمران ہے اور کیا ہوتا۔ دہلی کے روز وشب کیا ہیں؟ اور وہاں کیا ہوتا ہے؟ اس نے بھارت کے دیوہیکل ہیروز کے مقابلے میں کشمیریت اور کشمیری شناخت کا چراغ جلائے رکھنے کے لیے اپنے چھوٹے چھوٹے ’’میڈ اِن کشمیر‘‘ ہیرو تراشے اور تلاشے۔وہ بھارت کے دکھ میں اس کے ساتھ روئے نہ اس کی خوشیوں میں ہنسے۔
کشمیری قوم آج بھی مُصر ہے کہ بھارت انہیں بھارتی بنانا چاہتا ہے تو اس کے معروف جمہوری طریقہ اختیار کرے۔ وہ طریقہ جس کا اعلان و اظہار مہاراجا کے پروانۂ الحاق ملنے کے بعد وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کیا تھا کہ ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں اگر کوئی اختلاف پیدا ہوگا اسے عوام کی مرضی کے اصول کے تحت حل کیا جائے گا۔ پنڈت نہرو نے آل انڈیا ریڈیو سے اپنے خطاب میں لاررڈ ماؤنٹ بیٹن کی مبہم اصطلاح کو استصواب رائے کا واضح نام دیا۔ شیخ عبداللہ نے الحاق کو عوامی تائید کی legitimacy تو دی مگر وہ مسلسل کہتے رہے کہ الحاق عارضی ہے۔ کشمیری آج بھی پنڈت نہرو کے اقوال اور وعدوں کی چتا کو کاندھوں پر اُٹھائے پھر رہے ہیں مگر بھارت بطور ریاست ان اصولوں اور وعدوں سے انکاری ہوچکا ہے۔ کشمیر یوں کا بھارت کے ساتھ یہی یک نکاتی جھگڑا ہے۔ وہ بھارت سے بھارت کے پہلے وزیر اعظم اور جنگ آزادی کے بانی پنڈت نہرو کے ’’اقوالِ زریں‘‘ کی پاسداری چاہتے ہیں۔ وہ ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ نامی شہرہ آفاق خود نوشت کے مصنف کشمیر کو اپنی محبوبہ کہنے والے پنڈت نہروکی تقریروں اور وعدوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔
وقت کے گھڑیال پرکشمیریوں کے جذبات کی سوئی 1948 کے پہلے یوم سیاہ سے 2013 تک انہی وعدوں پر اٹک کر رہ گئی ہے۔ بھلا نظریات کے اس تسلسل کو اس دھارے کو فوج کے ذریعے موڑا جا سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ پنڈت نہرو کے وعدے تاریخ کا ایسا قرض ہیں اور بوجھ ہیں جنہیں چکائے بغیر، اتارے بغیر بھارت کو سکون وآرام حاصل نہیں ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ آج دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت، دنیا کے سب سے بڑی جمہوریہ، مغرب کی پسندیدہ ترین ریاست، اسرائیل اور امریکا جیسے طاقتور ملکوں کی اسٹرٹیجک پارٹنر، معاشی آسودگی، سیاسی استحکام، داخلی امن وامان کی بے شمار منزلیں عبور کرنے، میزائلوں کا انبار لگانے کے باوجود پنڈت نہرو کے وعدوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کی کشیدگی کی کلید کشمیر ہے اور کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں رکھ کر دونوں ملکوں میں مثالی تعلقات قائم نہیں ہوسکتے اور مثالی تعلقات قائم نہ ہونے کا نقصان یہ ہے کہ نہ بھارت افغانستان کے راستے وسط ایشیا کے معدنی ذخائر تک پہنچ سکتا ہے اور نہ مست ہرنی کی طرح سارک ممالک میں آزادانہ تجارت اور آمد ورفت کی چوکڑیاں بھر سکتا ہے۔ حد تو یہ اس عارضے کی وجہ سے وہ اپنے عالمی طنطنے اور قبولیت کے باوجود سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے سے بھی محروم ہے۔