September 23rd, 2019 (1441محرم23)

گرم محاذ

 

بابا الف

کشمیری نوجوانوں کی سڑکوں پر لاشیں گھسیٹنے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومتیں ماضی میں بھی خاموشی اختیار کرتی رہی ہیں تبدیلی کے نام پر منتخب حکومت کے بھی یہی تیور ہیں۔ ایسے واقعات کو نظر انداز کرکے ہم ماضی میں بھی بھارت سے مذاکرات کی درخواستیں کرتے رہے ہیں آج بھی ایسا ہی کررہے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان نے نریندر مودی کی مبارک باد کے جواب میں کہا تھا اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے مودی حکومت ایک قدم آگے بڑھائے گی تو ہم دوقدم بڑھائیں گے۔ مزید خیر سگالی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ پیشکش بھی کردی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنی ہم منصب سشما سوراج سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ بھارتی حکومت نے نوزائیدہ کی یہ بات بھی مان لی۔ تاہم بھارتی حکومت نے یہ وضاحت کردی کہ اسے مذاکرات کے آغاز سے باور نہ کیا جائے۔ مذاکرات کے لیے پاکستان کو ابھی اعتماد سازی کے لیے مزید اقدامات کرنے پڑیں گے پھر ہم سوچیں گے کہ پاکستان مذاکرات کا اہل ہے یا نہیں۔ عمران خان کی حکومت اس پر مبارک سلامت کے شور سے گونج اٹھی۔ اس ہنگامہ خیر سگالی کو ابھی دوچار دن بھی نہیں گزرے تھے کہ بھارتی حکومت نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کی دعوت واپس لے لی۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ پاکستان سے بھیجے گئے دہشت گردوں نے مقبوضہ کشمیر میں تین پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مزید یہ کہ پاکستانی حکومت نے کشمیری حریت پسند برھان مظفر وانی کی تصویر پر مبنی ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت نے اس کارنامے کو اون کرنے کے بجائے بھارت کی خدمت میں عرض کی جناب ڈاک ٹکٹ ہماری غلطی نہیں یہ تو سابقہ نگراں حکومت کی کارستانی ہے جس کے لیے ہم جوابدہ نہیں۔ جہاں تک پولیس والوں کی لاشوں اور دہشت گردوں کو بھیجنے کا تعلق ہے تو یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت کہاں مجھے، یہ واقعہ تو مذاکرات کی پیشکش سے دو روز پہلے کا ہے۔ بھارتی حکومت نے ان معذرتوں کو گھاس کی پتی کے برابر وقعت نہیں دی۔ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اعلان کردیا پاکستان سے بدلہ لینے کا وقت آگیا اس کے لیے اقدامات کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان پر تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دینے کے بجائے فلسفے کا موڈ غالب آگیا۔ فرمایا: ’’اپنی پوری زندگی میں ادنیٰ لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر قابض دیکھا ہے یہ لوگ دور اندیشی سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔‘‘ پتا نہیں نریندر مودی کو جواب دیا تھا یا نواز شریف کے خلاف بھڑاس نکالی ہے۔
مودی حکومت ہی نہیں، ہندو اکثریت انتقام کے جنون میں مبتلا ہے۔ وہ ہزار سالہ غلامی کی ذلت کا جواب دینے کے درپے ہیں۔ ایسے میں معقولیت کی کوئی بات دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔ کشمیر کے نہتے عوام اور معمولی اسلحے سے لیس نوجوان دس لاکھ بھارتی فوجوں سے برسر پیکار ہیں۔ بھارتی فوجیں انتہائی بے دردی سے انہیں شکار کررہی ہیں، ان کا خون بہا رہی ہیں، انہیں سڑکوں پر گھسیٹ رہی ہیں۔ اس کے جواب میں ایٹمی اسلحہ، جدید ترین میزائل، جنگی طیارے، اسلحہ اور ٹینک رکھنے والے ان کے پاکستانی فوجی بھائی اور پاکستان کا وزیراعظم دوستی کے ترانے گا رہا ہے۔ بھارتی آرمی چیف کھل کر آپ سے نفرت کا اظہار کررہا ہے، جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، ایک اور سرجیکل اسٹرائیک کی بات کررہا ہے۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے دندان شکن جواب آتا ہے
’’حضور ہم امن پسند لوگ ہیں‘‘۔ اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں لٹتے دیکھنا، اپنے نہتے جوانوں پر ظلم ہوتے دیکھ کر امن کی باتیں کرنا امن دوستی نہیں بے غیرتی اور بزدلی ہے۔ ستر برس سے گلے پھاڑ پھاڑ کر کہا جارہا ہے کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ ہمارے ہر حکمران نے جتنی اس جملے کی تکرار کی ہے شاید ہی اس سے سوا کوئی بات کی ہو لیکن ہر حکومت کا وزیر خارجہ بشمول شاہ محمود قریشی امریکا کو یقین دلانے میں مصروف رہتا ہے کہ ہم بھارت سے اچھے تعلقات اور تجارت میں تیزی لانا چاہتے ہیں۔ ہم چین کے ہانک کانگ والے طرزعمل سے متاثر ہیں۔ سمجھتے ہیں کشمیر بھی ہانک کانگ کی طرح ایک دن ہماری جھولی میں آگرے گا۔ یہ بات زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ ہانک کانگ میں کوئی تحریک آزادی نہیں چل رہی تھی۔ ہانک کانگ کے شہریوں کا دس لاکھ مسلح افواج قتل عام نہیں کررہی تھیں۔ ان کی لاشوں کو سڑکوں پر نہیں گھسیٹا جارہا تھا۔ تصور جہاد سے عاری ہمارے ادنیٰ عمال حکومت اس صورت حال سے فرار چاہتے ہیں۔ ان میں وہ جرات نہیں ہے کہ اہل کشمیر کے لیے کچھ کرسکیں۔ ٹویٹ، مذمتی بیانات، جنرل اسمبلی میں خطاب اور امن کے گانے تخلیق کرنے سے کشمیر اور اہل کشمیر کو آزادی نہیں مل سکتی، ان کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوسکتا۔
ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ بھارت نے پاکستان کی مذاکرات کی کوششوں کو کسی بھی حیلے سے سبو تاژ کیا ہے۔ متعدد مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے دورے کے موقعے پر کامیاب مذاکرات کیے تھے۔ نتائج کے اعلان کے لیے میزیں بھی بچھ گئیں تھیں لیکن آخر وقت میں ایڈوانی نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کردیا۔ اس کے بعد زرداری سے لے کر نواز شریف اور اب عمران خان سب بھارت سے مذاکرات کے طالب ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر کسی حل پر پہنچنا تو درکنار بھارت مذاکرات پر بھی تیار نہیں۔ بالفرض اگر مذاکرات ہو بھی جائیں تو کیا مذاکرات کے ذریعے بھارت سے کشمیر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مذاکرات ایک فریب کا نام ہے۔ اہداف طاقت کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر اور ہم نے آزاد کشمیر مذاکرات کے ذریعہ حاصل نہیں کیا۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کو مذاکرات کے ذریعے پا کستان سے علیحدہ نہیں کیا۔ امریکا نے مذاکرات کے ذریعے افغانستان اور عراق پر قبضہ نہیں کیا۔ بھارت کو مذاکرات کی دعوت کیوں دی جارہی ہے۔ ہندوؤں سے آپ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ یہی وہ نتیجہ تھا جس پر پہنچنے کے بعد مسلم لیگ نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت جب کہ بھارت طاقت کے نشے سے چور ہے، امریکا اس کا سرپرست ہے کشمیر حاصل کرنا تو درکنار بھارت سے یہ اعتراف کرواکر دکھا دیجیے کہ کشمیر میں دہشت گردی نہیں آزادی کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ ہندؤں کو جب بھی طاقت ملی، جب بھی کچھ اختیار ملا انہوں نے مسلمانوں کے خلاف بدترین ظلم اور تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے۔
بھارت سے مذاکرات کی درخواست کرنا اہل کشمیر پر بھارت کے ظلم وستم میں اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت کو مذاکرات کی دعوت کیوں دی جارہی ہے۔ بھارت کو مذاکرات کی دعوت امریکی منصوبے کا حصہ ہے جس پر ہمارے حکمران عمل کررہے ہیں۔ ہم مذاکرات کی بھیک مانگتے رہیں گے اور بھارت اہل کشمیر کی نسل کشی کرتا رہے گا۔ دس بیس سال گزریں گے بھارت کشمیر میں مسلمانوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے بھارت کشمیر میں پہلے ہی کامیاب کوششیں کررہا ہے۔ یوں امریکا کا وہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا جس میں امریکا بھارت کو علاقائی طاقت بنا نا چاہتا ہے۔ تاکہ وہ خطے میں مسلمانوں اور چین کے خلاف امریکی مفادات کی نگرانی کرے۔ سو دن پورے ہونے سے پہلے ہی عمران خان کی حکومت بھارت کے باب میں ذلت اور رسوائی کے اسی راستے پر چل پڑی ہے جو سابق حکومتوں کا شعار رہا ہے۔