November 19th, 2019 (1441ربيع الأول22)

کشمیری قیادت کو دباؤ میں لانے کی بھارتی کوشش

 

متین فکری

بھارت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی اور مسلح مزاحمت کو کچلنے کے لیے اپنے بہت سے آپشن پر بیک وقت کام کررہا ہے۔ طاقت کا وحشیانہ استعمال اور مقبوضہ علاقوں میں خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب مقبوضہ علاقے میں کوئی نہ کوئی نوجوان شہید نہ کیا جاتا ہو۔ بعض اوقات ایک دن میں کئی کئی نوجوان شہید کردیے جاتے ہیں۔ 16 ستمبر کی خبر ہے کہ بھارتی فوج نے چھاپے اور تلاشیوں کے دوران 6 نوجوانوں کو شہید کردیا اور ایک مکان بارود سے اڑا دیا۔ مجاہدین کے تعاقب کی آڑ میں بستیوں کا محاصرہ اور گھر گھر تلاشی لینا فوج کا روز کا معمول ہے۔ اس آپریشن کے دوران گھروں میں موجود قیمتی سامان تباہ کردیا جاتا ہے۔ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، مردوں کو گھروں سے باہر نکال کر انہیں کان پکڑا دیا جاتا ہے۔ جس گھر میں کوئی نوجوان موجود ہو اسے حراست میں لینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے اور تشدد کا شکار ہونے کے بجائے مجاہدین کی صف میں شامل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں اور فوجی آپریشن کی سُن گُن لگتے ہی گھر سے فرار ہوجاتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کا تعلیمی مستقبل بڑی حد تک تباہ ہوچکا ہے، وہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ان کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے جو کشمیری نوجوان بھارت کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم ہیں ان کے ساتھ بھی ناروا سلوک کی داستانیں عام ہیں انہیں ذرا ذرا سی بات پر تعلیمی اداروں سے نکال دیا جاتا ہے، اس طرح ان کے اندر مایوسی پھیل رہی ہے اور یہ مایوسی انہیں بھارت کے خلاف ’’بغاوت‘‘ پر اُکسا رہی ہے۔ بھارت سمجھتا ہے کہ طاقت کے وحشیانہ استعمال سے وہ اس بغاوت کو کچل دے گا تو یہ محض اس کی خام خیالی ہے، اس کے ردعمل میں کشمیری نوجوان مسلح مزاحمت کی جانب زیادہ شدت سے مائل ہورہے ہیں اور بھارت کی فوجی قیادت کو یہ اعتراف کرنا پڑا ہے کہ ہم جتنے کشمیری مارتے ہیں اس سے زیادہ پھر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اس صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھارت کا دوسرا آپشن یہ ہے کہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کردیا جائے اور مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں یا کم از کم غیر موثر اکثریت میں بدل دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ اسرائیلی حکمت عملی کے تحت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری ہندوؤں کی بستیاں قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کی راہ میں ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور آرٹیکل 35-A حائل ہے جس کے تحت کوئی غیر ریاستی باشندہ ریاست میں کوئی زمین یا جائداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی ریاست میں مستقل رہائش اختیار کرسکتا ہے۔ یہ قانون ڈوگرا راج کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور بھارتی آئین میں بھی اسے تحفظ دیا گیا ہے۔ اب کسی این جی او نے اس آرٹیکل کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ میں اسے منسوخ کرنے کے لیے رٹ دائر کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ رٹ مودی سرکار کی ایما پر دائر کی گئی ہے تا کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہندوؤں کو آباد کرکے وہاں مسلمانوں کی اکثریت کو غیر موثر کردیا جائے اور کشمیری مسلمان اقوام متحدہ کی جس قرار داد کی بنیاد پر حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں اس کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔ مذکورہ رٹ کی ابتدائی سماعت بھارتی سپریم کورٹ میں ہوچکی ہے جس پر کشمیری عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس ردعمل میں غیر مسلم کشمیری آبادی بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غیر کشمیری باشندوں کو ریاست میں آباد ہونے کی اجازت دی گئی تو اس سے بڑا فساد برپا ہوگا اور کشمیری کلچر تباہ ہوکر رہ جائے گا۔ مودی سرکار یہ کام کرنے پر تُلی ہوئی ہے جب کہ کشمیری عوام بھی آرٹیکل 35-A کو ختم کرنے کے خلاف شدید مزاحمت کا عزم کیے ہوئے ہیں اور عملاً اس کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں۔
بھارت ایک اور آپشن پر مستعدی سے عمل کررہا ہے وہ یہ کہ کشمیر کی مزاحمتی قیادت پر غیر انسانی ہتھکنڈوں کے ذریعے شدید دباؤ ڈال کر اسے تحریک آزادی سے دستبردار ہونے یا کم از کم غیر فعال ہونے پر مجبور کیا جائے، اس وقت مقبوضہ علاقے میں پوری کشمیری قیادت گھروں میں نظر بند، زیر حراست یا جیلوں میں بند ہے۔ جو قائدین گھروں میں نظر بند ہیں، ان کی اولاد اور عزیز واقارب کو تفتیشی مراکز میں لے جا کر پوچھ گچھ کی آڑ میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے اور نظر بند قائدین کو ذہنی اذیت پہنچائی جارہی ہے۔ بزرگ کشمیری رہنما سید گیلانی ایک مدت سے نظر بند ہیں، ان کے تمام سماجی رابطے منقطع ہیں جب کہ ان کے دونوں بیٹوں ڈاکٹر نعیم گیلانی اور پروفیسر نسیم گیلانی کو بار بار تفتیشی مرکز میں بلا کر ان سے توہین آمیز سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اپنے والد گرامی کو تحریک آزادی کی قیادت سے باز رکھیں۔ گیلانی صاحب کا ایک داماد الطاف شاہ گزشتہ ایک سال سے بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہے اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس دُکھ نے بھی گیلانی صاحب کو نڈھال کردیا ہے۔ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین (سید محمد یوسف) کم و بیش تیس سال سے آزادی کے بیس کیمپ (آزاد کشمیر) میں مقیم ہیں اور یہیں سے مجاہدین کی قیادت کررہے ہیں جب کہ ان کے اہل خانہ مقبوضہ وادی میں اپنے آبائی گھر میں موجود ہیں۔ گزشتہ سال ان کے ایک بیٹے شاہد یوسف کو مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں پکڑ کر تہاڑ جیل پہنچادیا گیا جہاں اس پر تشدد کیا جارہا ہے اور اسے ناکردہ جرم کے اعتراف پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اب ان کے دوسرے بیٹے شکیل یوسف کو بھی گرفتار کرکے تہاڑ جیل لے جایا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس پر بھی تشدد کیا جارہا ہے۔ سید صلاح الدین نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں مجھے جدوجہد آزادی سے روکنے کے لیے میرے اہل خانہ اور عزیزواقارب کو نشانہ بنارہی ہیں اور میرے خاندان پر منی لانڈرنگ کا الزام لگا کر میرے تحریکی کردار کو داغدار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن وہ دباؤ میں نہیں آئیں گے اور اپنا تحریکی کردار جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کشمیر بار ایسوسی ایشن اور کشمیر سول سوسائٹی کے ذمے داران سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بچوں کی تیس سال پہلے اور آج کی جائداد کی تحقیقات کریں اور یہ معلوم کریں کہ اس جائداد میں اضافہ ہوا ہے یا کمی واقع ہوئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سید صلاح الدین کا خاندان ان کے نہ ہونے سے مالی مشکلات کا شکار ہے اور ان کے بیٹے گزر اوقات کے لیے معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں لیکن اب انہیں گرفتار کرکے خاندان کا یہ سہارا بھی چھین لیا گیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق ممتاز خاتون رہنما دختران ملت کشمیر کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی کو بھی گرفتار کرکے تہاڑ جیل پہنچادیا گیا ہے جب کہ کشمیر ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ سید شبیر حسین شاہ ایک مدت سے تہاڑ جیل میں قید ہیں ان کی اہلیہ ڈاکٹر بلقیس شاہ نے بتایا ہے کہ غیر انسانی سلوک کی وجہ سے ان کے شوہر کی صحت اس قدر خراب ہوگئی ہے کہ وہ اب اپنے پاؤں پر کھڑے بھی نہیں ہوسکتے۔
کشمیر کی مزاحمتی قیادت کو دباؤ میں لانے کا یہ غیر انسانی بھارتی عمل پوری عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے بھارت کو اس سے باز رکھنے کی موثر کوشش کرنی چاہیے، جب کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہونے کے ناتے سیاسی، اخلاقی، قانونی اور سفارتی لحاظ سے اس بات کا پابند ہے کہ وہ کشمیری عوام کے خلاف بالعموم اور کشمیری قیادت کے خلاف بالخصوص بھارت کے ظالمانہ رویے کو عالمی فورموں کا موضوع بنائے اور پوری دنیا میں اپنی جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے۔ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایک ایسا موقع ہے جس میں وزیراعظم عمران خان خود شریک ہو کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اُٹھاسکتے ہیں۔