October 20th, 2019 (1441صفر21)

کشمیری کب تک انتظار کریں ؟

 

پاکستانی قوم الیکشن اور دھاندلی کے چکر میں 2013ء سے پھنسی ہوئی ہے۔ 2013ء میں جن لوگوں نے انتخابات کو ریٹرننگ افسران کا انتخاب قرار دیا تھا آج ان پر خلائی مخلوق کی مدد سے انتخاب جینے کا الزام لگ رہا ہے۔ 2013ء کے بعد سے احتجاج ، دھرنے، ہنگامے جاری رہے یہاں تک کہ 18کے انتخابات آگئے اور ایک بار پھر ہنگاموں، احتجاج اور ہڑتالوں کی فضا ہے لیکن کیا پاکستانی قوم ان ہی چکروں میں پڑی رہے گی پاکستان کا قیام امت مسلمہ کے لیے امیدوں کا پیام لایا تھا لیکن آج یہ صورت ہے کہ پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ ’’ کشمیر‘‘ پاکستانی سیاست میں اداروں کی مداخلت کے سبب نظر انداز ہو رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ دو برسوں میں سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کو قتل کیا گیا۔ پاکستانی علاقوں میں گھس کر حملے کیے گئے۔ پاکستانی شہریوں کے گھروں کو بلا وجہ نشانہ بنایا گیا۔ کبھی تو یہ حال ہوتا ہے کہ ہماری حکومت عوام، فوج، میڈیا اور سب ہی ادارے بھارت کے خلاف یک آواز ہوتے ہیں اور کبھی یہ حال ہوتا ہے کہ مہینوں کے لیے کشمیریوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ بھارت، جس نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، ایک دن کے لیے بھی اس سے غافل نہیں ہوا اس کے سیاست دان، بیورو کریٹس، میڈیا، فوج اور سفارت کار اس حوالے سے نہایت یکسو ہیں ۔ ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کشمیر پر قابض ہیں انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان کا قبضہ جائز نہیں ، بھارتی فوج وہاں ظلم کررہی ہے، لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس موقف کی ہر حال میں حمایت کرنی ہے کہ کشمیر ہمارا ہے اور سارے کا سارا ہمارا ہے۔ جبکہ پاکستان میں حکومت بدلتے ہی پالیسی بدلنے کی باتیں ہوتی ہیں ۔ جنرل پرویز تھرڈ آپشن کی باتیں کررہے تھے تو نواز شریف پر الزام تھا کہ وہ کشمیر ہی بھارت کو دینے کو تیار ہوگئے تھے۔ کشمیر کا سفارتی مقدمہ کیوں کر لڑا جائے جبکہ پاکستان میں حکومتوں کی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں بلکہ بسا اوقات ایک ہی حکومت کی پالیسی تبدیل ہو جاتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے کے دفتر خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر احمد کمال نے قاضی حسین احمد کی جانب سے کشمیر پر اقوام متحدہ میں آواز نہ اٹھانے کے سوال پر کہا تھا کہ قاضی صاحب جب ہم کشمیر پر زیادہ آگے جاتے ہیں تو اسلام آباد سے ہماری ڈور کھینچ لی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر پر پاکستانی حکمران اور حکومت چلانے والے ادارے کس قدر سنجیدہ ہیں۔ اب بھارت کی جانب سے کشمیر میں ہندو پنڈتوں کو لابسانے کے مسئلے پر بھی پاکستانی حکمرانوں نے کشمیریوں کو تنہا چھوڑ رکھا ہے صرف کشمیری احتجاج اور ہڑتالیں کررہے ہیں، یہاں سے ایک آواز تک سرکاری سطح پر نہیں نکلی۔ پاکستانی ادروں نے اپنے اپنے دائروں سے باہر نکل کر دوسروں کی اصلاح کا جو بیڑا اٹھا رکھا ہے اس نے ملک کی حالت تباہ کردی ہے۔ جس کا کام سرحدوں کی دیکھ بھال تھا وہ انتخابات کی دیکھ بھال کررہا ہے، جس کا کام انصاف دلانا تھا وہ ڈیم بنا رہا ہے۔ جس کا کام ملک میں ترقی کے منصوبے بنانا تھا وہ قرضوں کے حصول کے منصوبے بنا رہا ہے، جس کا کام الیکشن کرانا تھا وہ کسی اور کے احکامات بجا لا رہا ہے اور جس کا کام ان سب پر نظر رکھنا تھا یعنی میڈیا۔۔۔ وہ تو بک گیا ہے یا پھر خوفزدہ ہے تو پھر کشمیر پر کون نظر رکھے گا۔ اس کے لیے کون مجتمع ہوگا۔ جب انتخابی نتائج تبدیل ہوں گے، الیکشن کمیشن نا اہلی کا مظاہرہ کرے گا کہیں انصاف کا امکان نہ ہوگا تو سیاسی جماعتیں جلسے جلوس کریں گی اس کے لیے وسائل جمع ہوں گے اور یوں ملک میں نیا انتشار ہوگا۔ ایسے میں کشمیر کی بات کون کیسے کرے گا۔ اب اگر سب کچھ افہام و تفہیم سے بھی ہو جائے توبھی کم ازکم ایک ماہ لگے گا اس کے بعد ہی نئی پاکستانی حکومت کشمیریوں کے لیے کچھ کرسکے گی۔ کشمیر جیسے اہم مسئلے کے حوالے سے یہ غفلت اور غیر ذمے داری نہایت غلط ہے۔ اس پر سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ ہمارے ہمارے خیال میں تو نگراں حکومت اس حوالے سے فوری طور پرایک آل پارٹیز کانفرنس طلب کرے اور آنے والی حکومت اور اپوزیشن سب کو اس میں بلائے اور پاکستان کی جانب سے بھارت کو ایک مضبوط جواب دیا جائے۔ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے بھارت کئی برس سے کوششیں کررہاہے۔ آج کل پاکستانی قوم اور حکمران طویل غفلت کا شکار ہیں اس سے فائدہ اٹھا کر اس نے اپنی سازشیں تیز کردی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سنجیدہ جواب کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور امریکا و یورپ میں پاکستانی سفارتی حکام کو فوراً متحرک کیا جائے اور عالمی برداری اور اداروں کو بھارت کی غیر قانونی حرکت سے آگاہ کیا جائے وہ اپنے ہی آئین کی شق کو معطل کر کے پنڈتوں کو بسانا چاہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے اس عمل کے خلاف پنڈت اور سکھ بھی احتجاج میں شامل ہیں ۔ کشمیری تواپنی جنگ لڑ رہے ہیں وہ اقوام متحدہ کے مبصر کو اپنی یاد داشت پیش کریں گے۔ پاکستانی سفارت کار بھی فعال ہو جائیں تو بھارتی کارروائی کو کچھ بریک لگے گا۔ یہ کشمیری کب تک اس کا انتظار کریں گے کہ ان کی ہمنوا حکومت پاکستان میں آئے گی اور کشمیریوں کا مقدمہ لڑے گی۔

                              بشکریہ جسارت