October 15th, 2019 (1441صفر15)

کشمیر میں بھارتی جارحیت اور او آئی سی

 

پاکستان میں سیاست کا میدان گرم ہے۔ الزامات، جوابی الزامات اور انتخابی اتحاد بن رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے قابو سے باہر ہو کر اساتذہ کو بھی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ شوپیاں میں بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے یونیورسٹی کے پروفیسر سمیت 10افراد کو شہید کردیا۔ آپریشن کے نام پر بھارتی فوج نے براہ راست فائرنگ کی، کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اس وحشیانہ آپریشن کے خلاف کشمیری سڑکوں پر نکل آئے پوری وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ پیلٹ گن کا استعمال حسب معمول جاری رہا۔ دو روز میں شہید ہونے والوں کی تعداد 15ہوگئی ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے اپنے وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارتی مظالم کی مذمت کردی ہے لیکن محض مذمت سے کیا ہوگا۔ کشمیر کا مسئلہ تب تک حل نہیں ہوگا جب تک پاکستان کی جانب سے استصواب رائے کے لیے زور دار مہم نہیں چلائی جائے گی اور یہ کام کبھی ہوتا نظر نہیں آیا۔اقوام متحدہ دنیا بھر میں جارح ممالک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کا محافظ اور پشتیبان ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں امریکا نے جنگ مسلط کی ہے اقوام متحدہ اس کا محافظ ادارہ بن کر اس کے سارے اقدامات کو جواز بخشتا ہے ۔اگر پاکستانی حکومت اپنے اس موقف میں سچی ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے تو او آئی سی سمیت تمام مسلم ممالک اور اگر زندہ ضمیر والے کوئی یورپی ممالک ہیں تو ان کوبھی کشمیر میں بھارتی جارحیت ظلم و جبر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا جائے۔ نہتے مظاہرین پر فائرنگ ، پیلٹ گن کا استعمال، تلاشی کے نام پر گھروں میں گھسنا لوگوں کو گرفتارکرنا، جیلوں میں ٹھونسنا یہ سب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پاکستانی حکومت اپنا فرض نہیں نبھاتی۔ محض رسمی بیان بازی سے کچھ نہیں ہوگا۔ او آئی سی نے محض ہمدردی کا اظہار کر کے اپنی ذمے داری سے پیچھا چھڑایا ہے۔ پاکستان میں عرصے کے بعد ایک وزیر خارجہ مستقل مقرر ہواتو اسے بھی اقامہ لے ڈوبا اب وزارتی اجلاس میں بھی سیکرٹری خارجہ کی نمائندگی ہوگی۔ یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ او آئی سی کے ایجنڈے پر آج کل عرب دنیا کے سنگین حالات بھی ہوں گے لیکن کشمیر کا معاملہ تو فلسطین کے بعد سب سے زیادہ پرانا ہے اسے اب تک حل کیوں نہیں کیا جاسکا۔ او آئی سی میں شامل ممالک چاہیں تو چند دنوں میں بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں۔ لیکن کہیں اور سے ڈوری ہلنے کے سبب ان کے اپنے گھٹنے کہیں اور ٹک جاتے ہیں۔ اسلامی ممالک کی معاشی قوت بھارت کو کشمیر سے دستبردار کراسکتی ہے۔ حالاں کہ بھارت میں انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے لیکن اسلامی اتحاد اس کو دباؤ میں لاسکتا ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ بنگلا دیش نے بھارت کو اسلامی سربراہ کانفرنس کا رکن بنانے کا مطالبہ کردیا تھا وہ تو خیر ہوئی کہ او آئی سی نے اسے رکن بنانے کی درخواست مسترد کردی۔ لیکن اگر اسلامی اتحاد کی کیفیت ایسی ہی رہی تو کوئی بعید نہیں کہ کسی روز گؤ ماتا کے یہ بچاری مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کا ملک بھی او آئی سی کا رکن بن جائے گا۔ بنگلا دیش کا جو حال ہے اس کی اس تجویز سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل حسینہ واجد نریندر مودی کے کسی ریاستی وزیر اعلیٰ کا کردار ادا کررہی ہیں۔ یہ بات تو سامنے نہیں آئی کہ اس تجویز اور درخواست پر او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا ردعمل کیا تھا۔ لیکن بنگلا دیش سے یہ درخواست آگے بڑھوانے کا خاص مطلب ہے ۔یہ بتاتا مقصود ہے کہ بھارت مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کررہا ہے وہ درست ہے اور کشمیر، جھاڑکھنڈ، بہار، بنگال وغیرہ کے مسائل پاکستان پیدا کررہا ہے۔ پاکستانی قیادت خصوصاً وہ لوگ جن کا کنٹرول ملک پر ہے وہ نئے الیکشن نئے حکمران اور نئے ارکان پارلیمنٹ تلاش کرنے میں مصروف ہیں ان کی ساری توجہ پاکستان کے اندر جوڑ توڑ پر ہے تو کشمیر کے معاملے کو کون دیکھے گا۔