October 15th, 2019 (1441صفر15)

آسیہ اندرابی کا شکوہ بجا ہے 

 

دختران ملت جموں کشمیر کی سربراہ عظیم مجاہد خاتون آسیہ اندرابی نے شکوہ کیا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی قیادتوں نے تحریک کشمیر کے معاملے میں غفلت برتی ہے ۔ کشمیر میں بھارتی جارحیت مسلسل جاری ہے ۔ پاکستان کا نام لینے پر کشمیریوں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر کے انہیں جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد خطے میں اب کوئی قیادت نہیں جو تحریک چلائے ۔ سب سے بڑھ کر آسیہ اندرابی نے جو پیغام دیا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کو دار الاسلام دیکھنے کے لیے بہرصورت الحاق چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگ آرام طلبی چھوڑ کر گھروں سے نکلیں اور دنیا کے بڑے فورمز پر دستک دیں ۔ منقسم کشمیر کے بارے میں آسیہ اندرابی نے کہا کہ یہ ہے تو ایک جان۔۔۔ ایک حصے میں ناسور ہے زخمی ہے۔۔۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورے بدن کو تکلیف ہوتی۔ آسیہ اندرابی نے آزاد خطے اور نام نہاد بیس کیمپ کے بارے میں بالکل درست تشخیص کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ خونی لکیر کی دوسری جانب کسی کو تکلیف ہی محسوس نہیں ہو رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں لاشیں گر رہی ہیں ، شوپیاں میں دلخراش واقعہ ہوا ہے ، تقریب کے لیے جانے والی خواتین کو پکڑکر غداری کا مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اس حوالے سے بھی آسیہ اندرابی نے درست شکوہ کیا ہے ۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں موثر انداز میں بلند ہی نہیں کیا ۔ آزاد کشمیر کی حکومت کیا کر رہی ہے وہ اقوام متحدہ ، جنیوا اور او آئی سی تک رسائی رکھتی ہے ۔مقبوضہ وادی کے لوگوں پر تو پابندیاں ہیں لیکن وہ اپنی بساط سے بڑھ کر جدو جہد کر رہے ہیں ۔ آسیہ اندرابی نے جو پیغام دیا ہے وہ اہل پاکستان کے لیے چیلنج ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم صرف اسلامی پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے ۔ کسی لبرل اور سیکولر نظام کونہیں مانتے ۔۔۔ ہماری قربانیاں اسلام اور پاکستان کے لیے ہیں ۔ ہمارے ہاتھوں میں پاکستان کا پرچم اور جنازوں اور میتوں پر بھی پاکستانی پرچم ہوتا ہے اور یہ حق ہمیں اقوام متحدہ نے دیا ہے کہ دو میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ جائیں ۔اور ہمارا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو گا ۔ لیکن پاکستانی حکومتیں کیا کر رہی ہیں ۔ یہاں بیس کیمپ پر انتخاب کے موقع پر کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگتا ہے ۔ اس نعرے پر کوئی نہ کوئی پارٹی جیت جاتی ہے پھر بیس کیمپ کے فنڈز کی بندر بانٹ ہوتی ہے ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جاتا ہے ۔ حکومتیں گرائی اور بنائی جاتی ہیں اور پوری مدت اس کھینچا تانی میں نکل جاتی ہے ۔ پاکستان میں تو موجودہ اسمبلی اور اپوزیشن نے پورے پانچ سال صرف الزامات اورجوابی الزامات میں لگا دیے ۔ دھرنے اور امپائر کی انگلی کا انتظار رہا۔۔۔ نا اہلی اور اہلیت کے جھگڑے رہے ۔۔۔ اور بھارت کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں کرتا رہا ۔ پاکستانی دریاؤں پر ڈیم بناتا رہا ۔۔۔ یہاں عدالتیں بھی قومی مفاد کے بجائے ایک شخص کے پیچھے پڑی رہیں اورنام نہاد اپوزیشن بھی۔ جواباً حکومت نے سارے وسائل ایک شخص کے تحفظ کے لیے جھونک دیے ۔ آسیہ اندرابی نے کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے جو شرط بیان کی ہے وہ بالکل درست ہے۔ اگر سیکولر اور لبرل پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا ہے تو بھارت میں کیا خرابی ہے ، وہ سیکولر بھی ہے لبرل بھی ہے ۔ اسلامی تنظیموں پر وہاں بھی پابندی ہے پاکستان میں بھی مدارس اسلامی تنظیموں اور جہاد کو طعنہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ بھارت بھی روشن خیال ملک بنا پھرتا ہے ہمارے حکمران بھی روشن خیالی کے دعویدار ہیں ۔ لیکن سب سے بڑی بات کشمیریوں کا جذبہ ہے جو صرف اسلام کی وجہ سے زندہ ہے ۔ سید علی گیلانی نے ایک جلسے میں کھلم کھلا اعلان کیا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا نظریہ اسلام ہے اس اعتبار سے ہم پاکستانی ہیں ۔ بس جس روز پاکستانی عوام اور حکمران اس ملک کو اسلامی بنا لیں گے اس روز کشمیر کا پاکستان سے الحاق کوئی مسئلہ نہیں رہے گا ۔ یہ بات پاکستانی عوام کے لیے زیادہ تشویشناک ہونی چاہیے کہ وہ انتخابات کے موقع پر اپنے نمائندوں کا چناؤ سیکولر ،روشن خیال اور اپنوں کے کام کرانے والے کی بنیاد پر کرتے ہیں ۔ جبکہ بھارت نے اپنے ترقیاتی کاموں کو ایک طرف رکھا ہوا ہے اور کشمیر پر حکومت کی ایک ہی پالیسی رہتی ہے ۔ یہاں جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے بلکہ نا اہلی کی وجہ سے دال بھی نہیں ہے صرف جوتم پیزار ہے ۔

بشکریہ جسارت