October 15th, 2019 (1441صفر15)

مسئلہ کشمیر پر جارحانہ سفارت کاری کی ضرورت

 

متین فکری 

پاکستان اس وقت اپنے داخلی تضادات میں گھرا ہوا ہے جب کہ بھارت پاکستان کی مشکلات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں آگ اور خون کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔ وہ 2022ء تک مسئلہ کشمیر اپنی مرضی کے مطابق حل کرنا چاہتا ہے۔ جس کے لیے وہ بڑی تیزی سے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے، اس صورت حال کے تناظر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے بھارت کی فوجی دہشت گردی کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت 1989ء سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے جب کہ دس ہزار افراد لاپتا ہیں اور خدشہ ہے کہ وہ بھی بھارتی جارحیت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ پینتالیس ہزار افراد کو گرفتار کرکے شدید اذیت کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ لوگ یا تو ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں یا مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی قابض فوج خواتین کی بے حرمتی کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کررہی ہے اور دس ہزار سے زیادہ خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ 22 ہزار 852 خواتین وہ ہیں جنہیں بیوہ کردیا گیا ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ بچے اپنے باپ کے سایے سے محروم ہوگئے ہیں جب کہ مکانات، کاروبار، باغات اور زرعی املاک کی تباہی اس کے علاوہ ہے۔ جس کی مالیت کا اندازہ اربوں ڈالر میں لگایا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ خود پاکستان کے لیے بھی ایک چشم کشا کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ بھی مسئلہ کشمیر میں کشمیریوں کے ساتھ برابر کا فریق ہے۔ قائد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا تو اس کا ایک سیاسی، تاریخی، جغرافیائی، مذہبی اور تہذیبی پس منظر ہے۔ کشمیر درحقیقت مسلم برصغیر ہی کا ایک حصہ تھا جب پاکستان کی صورت میں برصغیر کی اسلامی شناخت نے اپنا الگ وجود منوالیا تو کشمیر کو بھی اس کا لازمی جزو ہونا چاہیے لیکن ہندوؤں اور انگریزوں کی سازش سے ایسا نہ ہوسکا اور آج کشمیریوں کی تیسری نسل یہ سزا بھگت رہی ہے جب کہ پاکستان کی ساری ہی حکومتیں اس معاملے میں غفلت، نااہلی اور مصلحت کا شکار رہی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد کئی موقعے ایسے آئے جب کشمیر کو بھارت کے چنگل سے چھڑایا جاسکتا تھا لیکن بزدل اور نااہل حکمرانوں نے یہ موقعے ضائع کردیے۔ اب عالمی حالات ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں پاکستان کے لیے کسی قسم کی مہم جوئی ممکن نہیں ہے البتہ وہ عالمی سطح پر بھارت کے خلاف جارحانہ اور نہایت سرگرم سفارت کاری کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کے لیے بین الاقوامی رائے عامہ کی ہمدردی ضرور حاصل کرسکتا ہے اور اس طرح مقبوضہ علاقے میں بھارت کی فوجی دہشت گردی میں کمی آسکتی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی اور بنیادی اہمیت حاصل تھی، پاکستان کا کوئی سربراہ حکومت یا مملکت بیرونی دورے پر جاتا تو میزبان ملک میں اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کا ذکر ضرور کرتا اور اس کے حل نہ ہونے سے عالمی اور علاقائی امن پر اس کے مضر اثرات کو زیر بحث لاتا تھا۔ دورے کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جاتا اس میں بھی مسئلہ کشمیر کو ترجیح دی جاتی تھی۔ اسی طرح پاکستان آنے والے غیر ملکی سربراہوں کے ساتھ بات چیت بھی دوطرفہ تعلقات کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے گرد گھومتی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ روایت ختم ہوگئی، اب پاکستانی قیادت بیرونی دورے تو بہت کرتی ہے لیکن اپنی زبان پر مسئلہ کشمیر کا ذکر لانا پسند نہیں کرتی۔ کہا جاتا ہے کہ نااہل سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے حالیہ چار سالہ دور اقتدار میں کم و بیش ایک سو بیرونی دورے کیے لیکن کیا مجال ہے کہ کسی دورے میں ان کی زبان کشمیر کے ذکر سے آلود ہوئی ہو۔ اس کے برعکس وہ تو مسئلہ کشمیر نظر انداز کرکے بھارت کے ساتھ دوستی کے خواہاں تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستانی عوام نے انہیں بھارت سے دوستی کا مینڈیٹ دیا ہے۔ بھارت سے دوستی پر کون معترض ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بھارت کے ساتھ دوستی کا تخت اہل کشمیر کی لاشوں پر بچھایا جاسکتا ہے؟ نواز حکومت کا کیا ذکر اس سے پہلے زرداری حکومت بھی بھارت کی دوستی میں دیوانی رہی تھی، زرداری کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ہمیں کشمیر کا مسئلہ آئندہ نسلوں پر چھوڑ دینا چاہیے اور بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور تجارت کے فروغ پر توجہ دینا چاہیے یہ ساری باتیں اس وقت کی گئیں جب بھارت کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا تھا اور ان کی جدوجہد آزادی کو بڑی بے دردی سے کچلنے میں مصروف تھا۔ میاں نواز شریف کے برسراقتدار آتے ہی بھارتی صوبہ گجرات میں مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی بھارت کا وزیراعظم بن گیا اور نواز شریف نے اس کے ساتھ دوستی گانٹھ لی۔ مودی ان کی دعوت پر جاتی امرا آیا اور ان کی نواسی کی شادی پر تحائف دیے۔ دوسری طرف اس نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کیے رکھا۔ اس نے پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر نمائشی بات چیت کرنے سے بھی انکار کردیا۔
حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برھان مظفر وانی کی شہادت کے بعد 2017ء اس حال میں گزرا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان غم و غصے سے بے حال سڑکوں پر نکل آئے تھے اور قابض بھارتی فوجوں کا پتھروں سے مقابلہ کررہے تھے، اس کے جواب میں بھارتی فوجی انہیں پیلٹ گنوں سے چھلنی کرنے میں مصروف تھے، جس کے چھرے اپنے ہدف کی بینائی چھین لیتے ہیں۔ اس گن کا استعمال انسانی حقوق کنونشن کے تحت ممنوع ہے اور جنگی جرائم کی تعریف میں آتا ہے۔ اسرائیل اگرچہ فلسطینیوں پر بے تحاشا ظلم ڈھا رہا ہے لیکن وہ بھی عالمی ردعمل کے خوف سے اِن گنوں کو استعمال کرنے سے باز رہا اور یہ گنیں اس کے اسلحہ خانے میں پڑی سڑتی رہیں۔ بھارت کو معلوم ہوا تو اس نے یہ پیلٹ گنیں اسرائیل سے خرید لیں اور احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں، بچوں اور بچیوں پر برسانے لگا، اس نے سیکڑوں بچوں، بچیوں اور بڑوں کو بینائی سے محروم کردیا، یہ اس کا انسانیت کے خلاف سنگین جرم تھا۔ پاکستان یہ معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اُٹھا کر بھارت کے خلاف عالمی رائے عامہ کو مہمیز کرسکتا تھا وہ بیرونی ملکوں میں مقیم کشمیریوں کے تعاون سے دنیا کے اہم دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرے بھی کرواسکتا تھا لیکن پاکستانی حکام خاموشی کی چادر اوڑھے سوئے رہے۔ وہ عالمی رائے عامہ کو بھارت کے خلاف متحرک نہ کرسکے جس سے اس کا حوصلہ اور بڑھا اور یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیمیاوی ہتھیار بھی استعمال کررہا ہے اور بھارتی افواج نے مجاہدین کے شبہ میں کئی گاؤں فاسفورس بموں سے جلا کر راکھ کردیے۔ یہ معاملہ سنگین تھا کہ اس پر علمی اداروں کو متحرک کیا جاسکتا تھا اور اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم متاثرہ علاقے میں بھجوائی جاسکتی تھی۔
امریکا نے تو عراق پر کیمیاوی ہتھیاروں کا الزام لگا کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی لیکن افسوس پاکستان اس معاملے پر بھی سفارتی ہلچل نہ دکھا سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی کمزور کشمیر پالیسی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز جنگی جرائم بڑھتے جارہے ہیں، وہ مقبوضہ علاقے میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے شیطانی منصوبے پر بھی سرگرمی سے عمل کررہا ہے اور قانون سازی کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان جب تک اپنی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو بنیادی اہمیت نہیں دے گا اور عالمی سفارتی محاذ پر غیر معمولی سرگرمی ہیں دکھائے گا بھارت کو ان اقدامات سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی کشمیریوں پر اس کے شرمناک مظالم کو روک سکتا ہے۔