November 18th, 2019 (1441ربيع الأول21)

سقوط کشمیر پر مایوس کن ردعمل

 

جمعہ کو پورے ملک میں یوم دفاع یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا اور سرکاری طورپر اس امر کا اہتمام کیا گیا کہ شہداء کے گھروں میں جاکر ان سے اظہار الفت کیا جائے ۔ ہر برس 6 ستمبر کو پوری قوم روایتی طور پر یوم دفاع پاکستان انتہائی جوش و خروش سے مناتی رہی ہے ۔ اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ اگر کبھی دشمن نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی تو پوری قوم اس کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائے گی ۔ مگراس مرتبہ یوم دفاع کے موقع پر قوم میں روایتی جوش و جذبے کے بجائے حزن و ملال نمایاں رہا ۔ اس کی وجہ مقبوضہ کشمیر کا سقوط اور اس پر پاکستانی قیادت کی پراسرار خاموشی ہے ۔ سقوط مقبوضہ کشمیر کے بعد پاکستانی قیادت کی باڈی لینگویج سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ مودی نے پاکستانی قیادت کی مرضی سے کیا ہے اور اس پر کیا جانے والا شور و غوغا محض نورا کشتی ہے ۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد سقوط کشمیر ، پاکستانی تاریخ کے ایسے ابواب ہیں جو پاکستانی قوم کو ہمیشہ مضطرب رکھیں گے۔ پاکستان نے سقوط کشمیر پر جو بے عملی اختیار کی ہے ، اس سے پوری پاکستانی قوم کا مورال گرگیا ہے ۔ وہ قوم جو گزشتہ چالیس برس سے دنیا کی دو سپر پاوروں اور ان کے اتحادیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جنگ لڑتی رہی اور انہیں اس خطے سے بھاگنے پر مجبور کردیا ، آج اپنے ہی ملک کے ایک حصے پر قبضہ کیے جانے پر یوں مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر دلگرفتہ ہے ۔ روس اور امریکا کی ٹیکنالوجی اور ان کی مضبوط معیشت کے سامنے کھڑے ہونے والے نہتے مجاہدین کو بتایا جارہا ہے سامنے والا دشمن انتہائی طاقتور ہے اور نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ چار عشروں سے حالت جنگ میں رہنے والی قوم کو بتایا جارہا ہے کہ جنگ معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے اور شہادت کی موت کو اپنی زندگی کا مقصد رکھنے والوں کو موت سے ڈرایا جارہا ہے ۔ اس بیانیے پر تو ہنسا بھی نہیں جاسکتا ہے ۔ یہ سب باتیں مودی اپنی قوم سے کرتا تو سمجھ میں آنے کی بات تھی ۔ مودی تو الٹا للکار رہا ہے کہ کہاں ہیں وہ ہزار برس تک جنگ لڑنے کی باتیں کرنے والے ، ہم نے ہزار برس کی جنگ کا چیلنج قبول کرلیا ہے ۔ اس کے جواب میں پاکستانی قیادت کہتی ہے کہ اگر جنگ کے بادل کلبھوشن کو بھارت کے حوالے کرنے سے ٹل سکتے ہیں تو برا سودا نہیں ہے ۔ عمران نیازی اور انہیں سلیکٹ کرنے والے ایک مرتبہ ہی قوم کو بتادیں کہ ذلت کے گڑھے میں مزید کتنا گرنا ہے ۔ پاکستانی قیادت بتائے کہ اگر کوئی پاکستانی جاسوس بھارت کی گرفت میں آتا تو وہ اسے یوں عزت سے رکھتے اور اسے آزاد کرنے کی باتیں کرتے یا پھر پاکستانی فضائیہ کا کوئی پائلٹ بھارتی قبضے میں آتا تو اسے اس طرح چائے پلا کر ایک دن بعد ہی پوری عزت و اکرام کے ساتھ پاکستان پہنچا کر آتے ۔ بھارت تو ان دیہاتیوں کو بھی پاکستان کے حوالے نہیں کرتا جو پاک بھارت سرحد پر واقع دیہات میں رہتے ہیں اور غلطی سے سرحد پار محض کئی گز اندر چلے جاتے ہیں ۔ ان معصوم دیہاتیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں اور کئی کئی دن بعد ان کی لاشیں پاکستان کے پاس پہنچتی ہیں ۔ عمران نیازی اور ان کے سرپرستوں کو سمجھنا چاہیے کہ امن کی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور بھارت مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرکے جنگ کا بگل بجا چکا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے کوئی موثر جواب نہ دیے جانے کی بناء پر وہ روز اچھل اچھل کر پاکستان پر طنزیہ حملے کررہا ہے اور پاکستان ہے کہ چہار سو موت کی سی خاموشی ہے ۔ عمران خان اس انتظار میں ہیں کہ بھارت اینٹ پھینکے تو وہ جواب میں پتھر ماریں۔اپنے ہی گھر میں روز احتجاج کرلیتے ہیں اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ بھارت کو مجبور کرے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو ختم کرے ۔ اس رائیگاں اپیل میں بھی یہ کہنے سے گریز کیا جاتا ہے کہ کم از کم مقبوضہ کشمیر کی 5 اگست سے قبل کی پوزیشن کو بحال کیا جائے اور کشمیر کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے وہاں پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کروایا جائے ۔ عالمی برادری اگر پلٹ کر پاکستان سے پوچھ لے کہ جناب اگر آپ کو بھارت سے شکایت ہے تو اس کودی گئی تجارتی راہداری کی سہولت کیوں معطل نہیں کرتے ، بھارت کے جہازوں کو کیوں پاکستانی فضاء میں پرواز کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے ، بھارت سے تجارت مکمل بند کیوں نہیں کی ، کیوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی نشست کے لیے بھارت کو ووٹ دیا ، بھارت کا معاشی مقاطعہ کیوں نہیں کرتے، کرتار پور کیوں کھولنے جارہے ہیں وغیرہ وغیرہ تو وزیر اعظم عمران نیازی اور انہیں سلیکٹ کرنے والوں کے پاس کیا جواب ہے ۔ یوم دفاع کے موقع پر عمران نیازی کے دست راست وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان پاکستانی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے کہ اگر پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے ضروری ہوا تو کلبھوشن کو آزاد کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستانی قوم کو اگر موقع دیا جائے تو وہ مقبوضہ کشمیر تو کیا بھارت پار کرکے ارونا چل پردیش کو بھی آزاد کرواسکتی ہے ۔ یہ وہ قوم ہے جو زندگی کے بجائے شہادت کی موت کی آرزو کرتی ہے ۔ یہ وہ قوم ہے جو ریت کی بوری سے جدید ٹینک کا شکار کرتی ہے اور محض کلاشنکوف سے جنگی طیاروں سے بھرے ہوئے خوست ائرپورٹ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ آخر عمران نیازی اور ان کے سرپرستوں کو کس کا خوف ہے کہ وہ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے گریزاں ہیں ۔ کم از کم سرد جنگ کی سطح کے ہی اقدامات کرلیے جائیں اور بھارتی طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے پر پابندی ، بھارت کو تجارتی راہداری کی سہولت کے خاتمے اور پاکستان سے بھارت کو لاہوری نمک کی فراہمی جیسے اقدامات ہی کرلیے جائیں ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان یونہی یوم شہداء مناتا رہے گا اور بھارت یونہی مشرقی پاکستان، سیاچین اور مقبوضہ کشمیر نگلتا رہے گا ۔ پاکستانی علاقوں کے سقوط کی یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوگی ۔

 بشکریہ جسارت