October 14th, 2019 (1441صفر14)

بھارت تضادات کی سرزمین

 

غزالہ عزیز

بھارت تضادات کی سرزمین ہے۔ ارون دھتی رائے بھارت کی ایک مشہور و معروف صحافی ہیں۔ وہ بھارت کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’’ہم ابھی آنکھ نہیں جھپک سکتے کہ کوئی نہ کوئی شخص کسی نہ کسی تضاد کے ہمراہ سامنے آکھڑا ہوتا ہے‘‘۔ بھارت اپنے آپ کو دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے۔ لیکن اُس کی جمہوریت میں جو انتخابی مشق ہوتی ہے اس میں اتنا تضاد ہے کہ وہ ہی سب سے بڑی جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔ مارچ 2002ء میں گجرات میں مسلمانوں کا منظم قتل عام کیا گیا۔ بی جے پی نے ایودھیا میں ’’راج مندر‘‘ کی تعمیر کو انتخابی نعرہ بنایا، لوگ دھڑا دھڑ اِس میں شرکت کے لیے ریل گاڑیوں میں ایودھیا پہنچنے لگے۔ گودھرا کے اسٹیشن پر ایک ہجوم نے ریل کے ڈبے کو آگ لگادی۔ 58 افراد زندہ جلادیے گئے اور پھر چند گھنٹوں کے اندر مسلمانوں کے قتل عام کا ایک جامع منصوبہ بنالیا گیا۔ 2000 کے قریب مسلمانوں کی جان لی گئی، ڈیڑھ لاکھ کو اُن کے گھروں سے نکال دیا گیا، بے شمار عورتوں کی سرعام آبروریزی کی گئی، بچوں کو والدین کے سامنے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ بلوے کرنے والے ہجوم کے راہ نما کمپیوٹرائز فہرستوں کے ہمراہ ان گھروں اور دکانوں کی نشاندہی کررہے تھے جو مسلمانوں کی ملکیت تھے۔ پولیس اُن کے ہمراہ تھی اور بلوائیوں کا تحفظ کررہی تھی اور پھر گجرات کے وزیراعلیٰ نے چند ماہ بعد اعلان کیا کہ وہ قبل ازوقت انتخاب کا انعقاد چاہتے ہیں، کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ مسلمانوں کے قتل عام سے انہوں نے ہندوئوں کے دل جیت لیے ہیں۔ پھر سب کچھ توقعات کے مطابق ہوا۔ گجرات کی ریاست جہاں بی جے پی برسراقتدار رہی مودی نے وزارتِ اعلیٰ کے دو دفعہ مزے لیے وہ دراصل ہندو فسطایت اور ہندو توا کے لیے ایک لیبارٹری تھی جہاں اس کو پورے بھارت میں نافذ کرنے کے لیے طویل اور وسیع تجربے کیے گئے اور پھر گجرات کے قسائی کو بھارت کا وزیراعظم منتخب کرلیا گیا، وہ بھی ایک دفعہ نہیں دو دفعہ۔ حالاں کہ حالت یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے جو وعدے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے تھے ان کو پورا کرنے میں وہ ناکام رہے۔ انہوں نے بہت سی مہم اور نعرے دیے ’’میک اِن انڈیا، بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ جو ناکام رہے۔ سارے دعوئوں کے باوجود بیروزگاری بڑھی، معیشت پر اعتماد کم ہوا، اتنا کہ بینک سے قرضے لینے کی شرح اتنی نیچے آگئی کہ جتنی پچھلے 60 برس میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔کشمیر اور دیگر علیحدگی پسندوں کے معاملات مزید پیچیدہ ہوئے۔ ہندو توا کی ایک ایسی لہر نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا کہ تمام اقلیتیں خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں۔ گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا جانے لگا، عیسائیوں اور دلتو کے ساتھ بھی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور اُن کا جینا حرام کیا جانے لگا۔
مودی حکومت کے تیز تر شرح نمو کے دعوئوں کے باوجود سال 2017ء اور 2018ء کے درمیان بیروزگاری پچھلے 45 سال کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔ جس کی بنا پر انڈیا کے مرکزی بینک کے سابق صدر اور آئی ایم ایف کے سابق چیف اکنامسٹ رگھورام راجن نے بلند شرح بیروزگاری کے سبب حکومتی تخمینوں اور اعداد و شمار پر شکوک کا اظہار کیا۔ یہ وہ بہت سی باتیں تھیں کہ جن پر مودی نے کشمیر کے ایڈونچر کا فیصلہ کیا کہ یوں تو یوں ہی سہی۔ مقبولیت تو قائم رکھنی ہے، لیکن یہ مقبولیت کے حصول کا فیصلہ بھارت کی جمہوریت، اس کے بنیادی اصولوں اور آئین کے اس قدر متضاد ہے کہ بھارت کے اپنے اندر سے اس کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ آرٹیکل 370 کشمیر کے الحاق کے تمام معاہدوں کو جو دفاع، خارجہ، مواصلات اور دیگر شعبوں سے متعلق تھے انڈیا کے
دستور کا حصہ بناتا تھا۔ اس آرٹیکل کو ختم کرنے سے تمام معاہدے بھی ختم ہوگئے ہیں اور الحاق کی دستاویز سبوتاژ ہوگئی ہے۔ کشمیر کی ریاست میں غم و غصہ بڑھے گا۔ کچھ کشمیری رہنما جو اب تک کشمیر کے انڈیا سے الحاق کی حمایت کررہے تھے اب کھلم کھلا اپنے فیصلے کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ انڈیا کی ایک تہائی فوج کشمیر میں پہلے ہی حالات پر قابو پانے میں ناکام تھی اب اس کے لیے مزید مشکلات ہوں گی۔ بھارت کی حیثیت کشمیر میں جارحانہ تو تھی ہی اب تو قانونی لحاظ سے مکمل طور پر غاصبانہ ہوگئی ہے۔ سرد موسم سے قبل بھارت کشمیر میں نسل کشی کے نئے دور کا آغاز کرچکا ہے۔ نہتے کشمیری بھارتی فوجیوں کی بندوق کا نشانہ بنتے رہے ہیں لیکن شہادت آزادی کے جذبے کو کئی ہزار گنا ضرب دے ڈالتی ہے۔ لہٰذا بھارت نسل کشی کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کرسکتا۔
بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کرکے خود اپنے وفاق کو کمزور کرلیا ہے۔ ابھی تک کشمیری تحریک نے بھارت کا رُخ نہیں کیا تھا لیکن اب یہ دعوت خود بھارتی حکومت نے انہیں دے دی ہے۔ کشمیر کے سوا کروڑ لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کچھ اس طرح کیا گیا کہ وہاں مکمل بلیک آئوٹ اور کرفیو نافذ کردیا گیا۔ کشمیر کے وہ لیڈر جو عشروں سے بھارت سے الحاق پر قائم تھے، آج اس عمل کو اپنی غلطی سے تعبیر کررہے ہیں، وہ کہتے ہیں اب اُن کی آنکھوں سے پٹی اُتر گئی ہے۔ بھارت کے اس اقدام کو وہ غاصبانہ قرار دے رہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ الحاق کے فیصلے کو وہ غلط قرار دے رہے ہیں۔ قائد اعظم کا دو قومی نظریہ اُن کی سمجھ میں آگیا۔ بہرحال تاریخ کے اوراق کے پلٹے نہیں جاسکتے لیکن نئی تاریخ ضرور بنائی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی حکومت کو پوری بہادری، عقل مندی اور سمجھ کے ساتھ معاملات اٹھانے ہوں گے۔ کشمیر کے لیے ہر سطح پر جرأت کے ساتھ آواز اُٹھانی ہوگی۔ لیکن محض اس سے کام نہیں چلے گا۔ سیاست کی بساط پر سپاہی سے لے کر بادشاہ تک سب کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ جو جس کا کام ہے وہ اُسے کرنا چاہیے۔ لیکن معاملات درست طریقے سے آگے نہیں بڑھائے جارہے ہیں۔ حال یہ ہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان بھارت کے اطمینان کے لیے کہہ رہے ہیں کہ کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھایا جائے گا جس سے اُسے ضرر پہنچے۔ پھر بھلا ہندو بنیا آپ کی بات کو سنجیدہ کیسے لے گا۔ کہ باتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اب بھی ہوتی رہیں گی اور آئندہ دس پندرہ سال میں ہوتی رہیں گی اور پھر دنیا بھلا دے گی۔
پاکستان اس وقت امریکا کے لیے افغانستان میں اہم ہے۔ امن مذاکرات اور امریکا کو افغانستان کے کمبل سے چھٹکارا دلانے کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے۔ کیا یہ وقت نہیں کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کو افغانستان میں مذاکرات سے جوڑا جائے۔ محض یہ کہنے سے کہ افغان مذاکرات اور افغانستان میں امن کے معاملات متاثر ہوں گے۔ امریکا اس کو سنجیدہ نہیں لے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان اگر بھارت کے اطمینان کے لیے یہ کہتے رہیں گے کہ پاکستان بھارت کے لیے افغان ٹریڈ بند نہیں کرے گا۔ کرتارپور منصوبہ بھی جاری رہے گا۔ سلامتی کونسل کی سیٹ کے لیے حمایت بھی بلا تردد جاری رہے گی تو بھارت کو تو ہی یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان زبانی کلامی تھوڑا بہت شور شرابا کرتا رہے گا۔ البتہ معاشی مقاطعہ یا فوجی حکمت عملی اس کے پیش نظر نہیں ہے۔ لہٰذا ہم نے ٹھیک کیا کشمیر پر مکمل قبضہ کرلیا گیا ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا۔
پاکستان کے وزیراعظم کو امریکا سے بلا تردد اپنے مطالبات اور شرائط بیان کرنے چاہئیں۔ سب سے پہلے اپنی شہ رگ کشمیر سے بھارت کو نکالنے کی بات ہونی چاہیے، پھر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکالنے اور ناٹو سپلائی کے دوران پاکستان کی راہ داری اور ٹرانسپورٹ کی مد میں نقصان کا مداوا کرنے کی بات کی جائے۔ یہ سارے مطالبات جائز اور حقیقی ہیں اور امریکا کو انہیں ماننا ہی ہوگا۔