October 15th, 2019 (1441صفر15)

بھارتی جارحیت پر صرف احتجاج

 

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف وزیر اعظم عمران نیازی کی اپیل پر جمعہ کو پوری پاکستانی قوم تمام اختلافات کو بھلا کر سڑکوں پر نکل آئی اور اپنا احتجاج دنیا کے سامنے ریکارڈ کرایا ۔ مودی نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی ، اُس دن سے لے کر اب تک پاکستانی قوم احتجاج کررہی ہے ۔ دنیا کے ہر خطے میں اور ہر ادارے کے سامنے ۔ حتیٰ کہ پاکستانیوں نے بحرین جیسے ملک میں بھی احتجاج کیا ۔ اس احتجاج کے پرامن ہونے کے باوجود بحرین کی حکومت نے بھارت دوستی میں مظاہرین کو گرفتار کرلیا ۔ ابھی تک حکومت پاکستان اس سوال کا جواب نہیں دے پائی کہ کیا مقبوضہ کشمیر پر سے بھارتی قبضہ احتجاج سے ختم ہوجائے گا ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے درست ہی سوال کیا ہے کہ احتجاج اور مظاہرے تو حزب اختلا ف کرتی ہے جس کے پاس کچھ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا ۔ سرکار تو اقدامات کرتی ہے جس کے پاس سارے ہی اختیارات ہوتے ہیں ۔ عمران نیازی کا معاملہ ہی الگ ہے ، وہ ایک الگ ہی دنیا میں رہتے ہیں ۔ جمعہ کو بھی اپنے خطاب میں عمران نیازی نے دوبارہ فرمایا کہ آزاد کشمیر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا ۔ عمران نیازی اور ان کے سیلیکٹرز کے نزدیک معاملہ ابھی تک آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا ہے ۔ اسی طرح عمران نیازی کی وزارت خارجہ پوری دنیا میں مقبوضہ کشمیر میں رونماہونے والے انسانی المیے کی طرف تو توجہ دلارہی ہے ، مقبوضہ کشمیرمیں جاری مسلسل کرفیو پر تو آواز بلند کررہی ہے ، مگر اصل مسئلہ یعنی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے غصب کرنے پر اس کی زبان گنگ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم یقینا قابل مذمت ہیں اور انہیں رکنا چاہیے مگر سب کو پتا چلنا چاہیے کہ ا صل مسئلہ کشمیریوں پر بھارتی استبداد نہیں ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور وہاں پر وعدے کے مطابق استصواب رائے نہ کروانا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال ثانوی ہے اور اس کی واحد وجہ وہاں پر بھارتی قبضہ ہے ۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کو بہتر کرنا ہے تو وہاں پر سے بھارتی قبضہ ختم کروانا ہوگا ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو خود حل کرنا نہیں چاہتا اور اس کی خواہش ہے کہ یہ مسئلہ عالمی برادری ازخود حل کرے ۔ عالمی برادری کو کیا پڑی ہے کہ وہ اس مسئلے میں کودے ۔ اس لیے مظلوم کشمیری پاکستان سے محبت کرنے کی پاداش میں رو ز ایک نیا بہیمانہ ظلم برداشت کرتے ہیں اور نسل کشی کے خطرے سے دوچار ہیں ۔ ان کی بیٹیوں کی روز ان کی آنکھوں کے سامنے عصمت دری کی جاتی ہے اور بیٹوں کو عقوبت گھروں میں بند کردیا گیا ہے جہاں ان پر انسانیت سوز مظالم ہوتے ہیں ۔افسوسناک بات یہ ہے کہ جس سے محبت کی پاداش میں مظلوم کشمیری یہ سب کچھ برداشت کررہے ہیں ، وہ پاکستان کہیں دور کھڑا جنگ سے پیدا ہونے والی خرابیوں پر لیکچر دے رہا ہے ۔ جنہیں بھارتی ظلم کو بزور بازو روکنا تھا وہ بھارت کو انسانی حقوق کی دہائیاں دے رہے ہیں ، جنہیں مقبوضہ کشمیر کو بھارتی قبضے سے آزاد کروانا تھا وہ امن کی فاختہ اڑا رہے ہیں ۔ بھارت کو جو کچھ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کرنا تھا ، وہ کر گزرا ۔ اب وہ آزاد کشمیر پر کیوں کچھ کرے گا ۔ وہ مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بعد 15 یا 20 برس انتظار کرے گا اور اپنا قبضہ مستحکم کرے گا ۔ اس کے بعد وہ آزاد کشمیر کی طرف پیش قدمی کرے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بعد بھارت اپنے آئندہ لائحہ عمل پر عمل پیرا ہے یعنی بھارت سے ہندوؤں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں بسانا ۔ اس کے لیے اس نے 50 ہزار ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو مقبوضہ کشمیر میں نئی ملازمت دینے اور اسی بہانے انہیں وہاں پر بسانے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی جائے گی اور کشمیریوں کی زمینیں بھارتی ہندوؤں میں بانٹی جاتی رہیں۔ کبھی بھارتی فوج کے ریٹائرڈ جرنیلوں کو وہاں جاگیریں عطا کی جائیں گی تو کبھی وہاں پرپنڈتوں کے لیے خصوصی بستیاں بسائی جائیں گی ۔ اس کے جواب میں پاکستان کی حکومت امن کے خصوصی گانے ریلیز کرتی رہے گی ۔ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم بھارت کی کشمیر پر حکمت عملی کا خصوصی حصہ ہے اور اس سے وہ اسموک اسکرین کا کام لے رہا ہے ۔ پوری دنیا کشمیر میں مظالم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور اس پر بھارتی حکومت کو لعن طعن کررہی ہے ۔ جب عالمی رائے عامہ کا دباؤ زیادہ بڑھے گا تو ان مظالم میں ایک درجے کی کمی کردی جائے گی اور پاکستان پھر ایک مزید کامیابی کے نعرے مارتا اچھل کود کررہا ہوگا ۔ اس عرصے میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہندوؤں کے بسانے کے عمل کو کامیابی سے جاری رکھے گا ۔ عمران نیازی اور ان کے سیلیکٹرز کیوں پاکستانی قوم کو بے وقوف بنارہے ہیں ۔ اگر احتجاج اتنی ہی کامیاب حکمت عملی ہے تو پلوامہ واقعے کے بعد 27 فروری کو پاکستانی علاقے میں ہونے والی بھارتی دراندازی کے جواب میں پاکستان نے کیوں جوابی کارروائی کی تھی۔ بہتر ہوتا کہ اس وقت بھی اقوام متحدہ ، اسلامی ممالک کی تنظیم اور دیگر فورموں پر احتجاج ہی کیا جاتا ۔ اگر بھارتی جارحیت اور ایک پاکستانی علاقے پر بھارتی قبضے کے جواب میں پاکستان کو احتجاج ہی کرنا ہے تو بہتر ہوگا کہ سوئٹزر لینڈ اور جاپان کا ماڈل اپنا لیا جائے اور فوج کا ادارہ ہی ختم کردیا جائے ۔ اس سے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج مزید بہتر ہوگا اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان عالمی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ زیادہ بہتر طور پر پیش کرنے پوزیشن میں ہوگا ۔ جتنے میزائیل، ٹینک اور طیارے پاکستان نے تیار کیے ہیں، وہ سب کے سب عالمی منڈی میں فروخت کردیے جائیں تو اس سے پاکستان پر سے کچھ قرضہ ہی اترے گا ۔ اس وقت پاکستان اسی صورتحال سے دوچار ہے جس سے 12 مئی 1999 میں ہوا تھا ، جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تھے ۔ اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف بھی سہمے ہوئے ایسے ہی بیانات دے رہے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ قوم کا غصہ بڑھتا ہی جارہا ہے اور اگر انہوں نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کی باضابطہ اجازت نہ دی تو پاکستانی قوم ان کی تکہ بوٹی کردے گی تو انہوں نے ایٹمی دھماکوںکی بہ دل ناخواستہ اجازت دی تھی ۔پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی قیادت کا لب و لہجہ فوری طور پر تبدیل ہوگیا تھا اور وہ امن اور آشتی کی بات کرنے لگی تھی ۔ آخر ایٹمی دھماکے کرنے سے پاکستان پر کیا فرق پڑا ۔ پاکستان کی معاشی حالت کی تباہی کی ذمہ داری نواز شریف ، آصف زرداری ، پرویز مشرف پر عاید ہوتی ہے نہ کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ۔ اس وقت بھی یہی صورتحال ہے ۔ قوم شدید غم اور غصے کی حالت میں ہے اور اگرعمران نیازی نے عوام کے بڑھتے جذبات کا خیال نہیں کیا تو انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ خس و خاشاک کی طرح عوامی سیلاب میں بہ جائیں گے ۔ پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں پر ہونے والے مظالم پر بھی رنج و غم میں ہیں اور کشمیری کو پاکستان میں شامل کرنے کے لیے بے چین ہیں ۔ پاکستانی عوام کا مورال انتہائی بلند ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں صرف لائن آف کنٹرول کو ختم کرنے کی اجازت دے دی جائے ، وہ بھارتی سورماؤں سے خود ہی نمٹ لیں گے ۔ کراچی سے لے کر خیبر پختون خوا تک پاکستانی عوام کو گزشتہ 40 برسوں میں روس ، امریکا اور اس کے اتحادیوں سے لڑنے کا خوب تجربہ ہے ۔ روسی ، یورپی اور امریکی ٹیکنالوجی سے بھی انہیں نمٹنا آتا ہے ۔ پاکستانی قوم دنیا کی واحد قوم ہے جس نے افغانستان میں دنیا کی دونوں سپرپاوروں کو مٹی چاٹنے پر مجبور کیا ہے ۔ اب تو یہ قوم ایک نئے جذبہ شہادت سے سرشار ہے اور ظالم ہندوؤں کی سرکوبی کے لیے تیار ۔ کشمیر آزاد ہوسکتا ہے اور ہوگا مگر مسئلہ صرف اور صرف پاکستانی قیادت کی اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کا ہے ۔ عمران نیازی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ آگے نہیں بڑھیں گے تو قدرت اس کام کے لیے کسی اور کا انتخاب کرلے گی اور ان کا نام میر صادق اورمیر جعفر کے ساتھ لکھا جائے گا۔

                                                              بشکریہ جسارت