October 15th, 2019 (1441صفر15)

پھر مذاکرات کی پیشکش

 

ابھی وزیر اعظم عمران خان کے اس دعوے کی روشنائی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بھارت سے اب مذاکرات نہیں ہوں گے کہ حکومت نے یوٹرن لیتے ہوئے بھارت کومذاکرات کی مشروط پیشکش کر دی ۔ اس پیشکش میں جو شرائط ہیں وہ ایسی ہیں کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ بھارت یہ تمام شرائط نہیں مانے گا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ شرائط پیش کی ہیں ظاہری بات ہے وزیر اعظم کی مرضی سے پیش کی ہوں گی ان کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ وزیر اعظم تو ’’بھارت سے بات نہیں ہو گی‘‘ کااعلان کر چکے ہیں لیکن کسی قوت نے یہ بات منوا لی ۔ اب اس کے دو تین امکانات ہیں ایک یہ کہ بھارت تمام شرائط مان لے ۔ تو کیا ہو گا ۔ کشمیری قیادت رہا ہو جائے گی ،کرفیو ختم ہو جائے گا ۔ اور شاہ محمود قریشی کو بھی کشمیری قیادت سے ملنے دیا جائے گا ۔ پھر کیا فرق پڑے گا اب مذاکرات کس بات پر کریں گے شرائط اور پیشکش میں اس کا ذکر نہیں ۔ جبکہ اصل بات یہی ہے کہ مذاکرات کشمیر کی آزادی پر ہونے چاہییں ۔ شاہ محمود کی شرائط ماننے کے نتیجے میں کشمیری 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن پر پہنچ جائیں گے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ بھارت کشمیری قیادت کو رہا کر دے اور کرفیو ختم کر دے لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو حریت قیادت سے نہیں ملنے دے گا ۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ صرف کرفیو ختم کر دیا جائے وہ بھی رفتہ رفتہ دو ہفتوں میں اور حریت قیادت قید میں رہے… تو کیا وزیر خارجہ مذاکرات کریں گے ۔خود وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے مذاکرات کا ماحول نہیں ہے ۔ ان کا کہنا بالکل بجا ہے۔بھارت اس وقت طاقت کے گھمنڈ میں ہے اور عالمی برادری اس کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔ ایسے میں اس نے کشمیر میں آرٹیکل 370 اور35 اے ختم کر کے ریاست کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور پاکستان نے اب تک کچھ نہیں کیا ۔ جو کام بھٹو نے کیا ، ایوب خان کرگئے ، جنرل پرویز کرتے رہے ۔ بے نظیر اور نواز شریف نے بار بار کیا وہی اب بھی کیا جا رہا ہے اس کا نام کبھی خیر سگالی ، کبھی اعتماد سازی کے اقدامات ، کبھی امن کی آشا ، اور کبھی انہیںذمے دار ریاست کی خصوصیت والے اقدامات کہا جاتا ہے ۔ چنانچہ ، بھارت نے کشمیر پر قبضہ مستحکم کیا ہم نے کرتار پور راہداری کھولنے کی جلدی مچا دی ، بلکہ اب تو تاریخ بھی دے ڈالی ۔ بھارت نے کرفیو ، گرفتاریاں ، اغوا ، خواتین کی بے حرمتی کی حدود پامال کر دیں ۔ ہمارے وزیر خارجہ خیر سگالی اور اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر مندر چلے گئے ۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی اس کو سفارتکاری یا سفارتی دبائو نہیں سمجھے گا اور نہ ہی بھارت پر اس کا کوئی اثر ہو گا ۔ اس لیے قرآن نے واضح طور پر منع کیا ہے کہ کفار کی باتوں میںنہ آئو ۔ یہ کفار تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے ۔ یہاں تک کہ تم ان کے دین کی پیروی کرنے لگو۔شاہ محمود قریشی سے قبل بلاول ، مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی مندر جا چکی ہے ۔ ارے آپ ہندو دھرم بھی اختیار کر لیں تو بھارت اسے تسلیم نہیں کرے گا بلکہ ہمارے رہنما خود رسوائی کے سوا کچھ نہیں پائیں گے ۔ بھارت خیر سگالی کی زبان نہیں سمجھتا ۔ اسے اس کی زبان میں جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ حکمران مندروں کے دورے کریں ، ہولی کھیلیں یا ہندوئوں کے تمام تہوار منائیں ۔ بھارتی جنونی حکمراں اور ہندو جنونی کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہیں گے ۔ ان کو روکنے کا طریقہ مذاکرات نہیں ۔بھارت نے مذاکرات کے نام پر 72 سال گزار دیے ۔ ایک بار پھر وہ اسی طرح کے ڈرامے کرے گا جو پہلے کرتا آیا ہے لہٰذا وزیر خارجہ عمران خان کے بیان کی لاج رکھیں بھارت کو مذاکرات کی مشروط یا غیر مشروط پیشکش کرنے کے بجائے ہر شعبے میں پیش قدمی کریں۔ پوری حکومت اور طاقت کے مراکز صرف ایک نکتے پر توجہ مرکوز کریں کہ بھارت کا کشمیر پر قبضہ اس کی فوج کی وہاں موجودگی سب غلط ہے ۔ دنیا بھر میں پاکستانی سیاستدانوں کے وفود بھیجے جائیں ، نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے ۔ محض سیر سپاٹے والوں کو نہ بھیجا جائے ۔ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم کے ٹیلی فون کام نہیں آئیں گے ۔ کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے تو دنیا کو واضح پیغام دیں ۔ سب سے پہلے وزیر اعظم اپنی فوج کو کشمیر کی طرف پیش قدمی کا حکم دیں ۔ جب تک فوجی پیش قدمی نہیں ہو گی دنیا بھی ہماری بات نہیں سنے گی ۔ بھارت کشمیر اور دیگر ریاستوں میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے اس کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ کیرالہ میں اس کا اظہار ہوا ہے ۔ پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ۔ یہ محض چند طلبہ کی حرکت نہیں ہے بلکہ بھارتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔اس سے قبل ناگا لینڈ بھی آزادی کا اعلان کر چکا ہے ۔ کشمیر کا معاملہ تو صرف پاکستانی حکومت کے جرأتمندانہ اقدامات کا منتظر ہے ۔ جس روز ہمارے حکمراں جرأت کامظاہرہ کریںگے کشمیریوں کو بھی ناگا لینڈ کی طرح آزادی کا اعلان کرنے کا موقع ملے گا ۔ پھر اقوام متحدہ ،یورپ امریکا سب دوڑتے ہوئے آئیں گے ۔ مندروں میں جانے اور مشروط پیشکشیں کرنے کے بجائے حکومت شملہ معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرے ، بھارت کے لیے فضائی اور زمینی راہداری بند کرنے کا اعلان کرے اور ہر قسم کی تجارت مکمل بند کر دے ۔ پھر کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے آدھا گھنٹہ یا پورا دن کھڑے ہوں تو ان کو بھی قوت ملے گی ۔یہ کام پاکستانی صدر مملکت ، وزیراعظم اور فوجی قیادت کو کنٹرول لائن جا کر کرنا چاہیے ۔ اس سے اچھا پیغام جائے گا ۔

                                                                                                                                       بشکریہ جسارت