October 20th, 2019 (1441صفر21)

کشمیر اور اقوام متحدہ

 

عالمگیرآفریدی

پاکستان نے بھارتی آئین کی دفعہ370 اور 35اے کے خاتمے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارت کے انتہا پسندانہ اقدام کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو جنوبی ایشیا کے امن کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی صدر جووانا ورونیکا کو خط لکھا ہے جس میں ان سے کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اس غیر قانونی اقدام پر بات کی جائے گی جو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسی دوران میں شاہ محمود قریشی نے پولینڈ کے وزیر خارجہ جیک کزاپٹووچ جو ان دنوں نیویارک میں ہیں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی کشمیر کے مسئلے پر اجلاس بلانے کے لیے سلامتی کونسل میں اپنے نمائندے پر زور دیں۔ یاد رہے کہ ان دنوں سلامتی کونسل کی صدارت پولینڈ کے پاس ہے اس لیے شاہ محمود قریشی نے پولینڈ کے وزیر خارجہ سے بھی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے نیز اس ضمن میں سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اپنا کردارادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ جیک کزاپٹووچ نے کہا کہ سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے پولینڈ تمام پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے جبکہ وہ کشمیر کے حوالے سے اپنے شراکت داروں سے بھی رابطے میں ہے۔ خیال رہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی 11 قراردادیں ریکارڈ کا حصہ ہیں جن میں سے 3 قراردادیں مقبوضہ خطے کی خصوصی حیثیت سے متعلق ہیں۔
اقوام متحدہ کے اجلاس طلبی سے متعلق قواعد کے مطابق آرٹیکل 35 یا آرٹیکل 11(3) کے تحت کوئی مسئلہ سیکورٹی کونسل کے صدر کے علم میں لانے یا جنرل اسمبلی کی جانب سے آرٹیکل 11 (2) کے تحت کسی مسئلے پر سفارشات دینے یا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے کونسل کو آرٹیل 99 کے تحت متوجہ کرنے کے بعد سیکورٹی کونسل کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے سیکورٹی کونسل کے صدر کو مذکورہ آرٹیکل 35 کے تحت ہی خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کی تازہ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے کسی بھی وقت کوئی تنازع جنم لے سکتا ہے یا خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کو یقین ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
یہاں یہ امر لائق توجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس بھی چند دن قبل کشمیر میں بھارتی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ کشمیر میں بھارتی پابندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حالیہ صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، کشمیر میں اقوام متحدہ کا موقف سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چارٹر کے اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدے کی رو سے بھی کشمیر کا حل پر امن طریقے اور سلامتی کونسل کے چارٹر کے مطابق ہونا قرار پایا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی پابندیوں پر بھی تشویش ہے، پابندیاں اور قدغنیں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین جموں و کشمیر کے معروضی حالات اور زمینی حقائق تبدیل کرنے سے گریز کریں۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کے صدر کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خط لکھ کر بظاہر تو پاکستان کا اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنا جمہوری حق استعمال کیا ہے لیکن یہاں ہمیں اقوام متحدہ کے کشمیر سمیت فلسطین، عراق، شام، لیبیا، یمن، افغانستان، چیچنیا اور روہنگیا کے مسلمانوں پر بڑی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر ڈھائے جانے والے مظالم پر اختیار کی جانے والی مجرمانہ چشم پوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے عجلت میں کوئی ایسا قدم ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے جس کے نتیجے میں کسی فائدے کے بجائے ہمیں الٹا نقصان اٹھاناپڑے۔ اس تلخ حقیقت سے ہرکوئی بخوبی واقف ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کے پچھلے ستر سال سے ایک رستے ہوئے ناسور کی شکل اختیار کرنے کا سبب اس حوالے سے اقوام متحدہ کا مجرمانہ خاموشی اختیارکیے رکھنا ہے حالاںکہ یہی اقوام متحدہ بڑی طاقتوں کی باندی بن کر پچھلے ستر سال میں غیر مسلم اکثریتی آبادی کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہ صرف دو مسلمان ممالک انڈونیشیا اور سوڈان سے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے نام سے ریفرنڈم کے ذریعے دو نئے ممالک کو وجود بخشوا چکی ہے بلکہ عراق اور افغانستان پر مغربی طاقتوں کی فوج کشی کی راہ ہموار کرنے میں بھی اس نے وہ مذموم کردار ادا کیا ہے جو کبھی بھی اس کے چارٹر اور مینڈیٹ کاحصہ نہیں رہا ہے لہٰذا اب جب پاکستان کشمیر کی موجودہ صورتحال کو سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کرچکا ہے تو اس کے لیے پاکستان کو جہاں چین کی طرح سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، فرانس اور روس کو اعلیٰ سطح پر اعتماد میں لینا ہوگا وہاں سلامتی کونسل کے موجودہ دس غیر مستقل ارکان کو بھی اپنا ہمنوا بنانے کے لیے بھرپور لابنگ کرنا ہوگی بصورت دیگر پاکستان جو پہلے ہی سے عالمی تنہائی اور دبائو کا شکار ہے اسے بھارت کی چالاک اور عیار قیادت جو عالمی طاقتوں سمیت اسلامی ممالک میں بھی کافی اثر ونفوذ رکھتی ہے کے ہاتھوں کسی بڑے چلنج کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔